جارج بش کا عراق کا اچانک دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش بغداد کے اچانک دورے پر ہیں جہاں انہوں نے عراق کی نئی حکومت کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے عراقی کابینہ کے اراکین سے انتہائی سکیورٹی والے گرین زون میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نوری مالکی سے ملاقات کے بعد صدر بش نے کہا کہ ’جب امریکہ اپنی زبان دیتا ہے تو اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔‘ اس موقع پر وزیراعظم مالکی نے کہا کہ عراق دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور انہیں امید ہے کہ غیرملکی افواج عراق سے واپس چلی جائیں گی۔ امریکی صدر کا دورہ خفیہ رکھا گیا تھا اور وہائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ صدر بش وڈیو لِنک کے ذریعے عراقی کابینہ کے اراکین سے بات چیت کریں گے۔ صدر بش کے بغداد پہنچ جانے پر وزیراعظم مالکی کو چند منٹ پہلے اطلاع دی گئی کہ یہ میٹنگ وڈیو لِنک کے ذریعے نہیں ہوگی بلکہ صدر بش بذات خود موجود ہوں گے۔ بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے زون میں جارج بش کی یہ ملاقات وڈیو لِنک کے ذریعے کیمپ ڈیوِڈ میں دیکھی گئی جہاں امریکی نائب صدر ڈِک چینی، وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس موجود تھیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں نئی حکومت کے قیام اور چند دن قبل شدت پسند رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد امریکی حکومت عراق کے حالات کے بارے میں پرامید ہے۔
گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانہ پہنچنے وزیراعظم مالکی نے صدر بش سے کہا: ’آپ سے ملکر خوشی ہوئی۔‘ میٹنگ کے دوران صدر بش نے وزیراعظم سے کہا کہ ’عراق کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔‘ جارج بش کا یہ عراق کا دوسرا دورہ تھا۔ انہوں نے نومبر 2003 میں امریکی افواج کا شکریہ ادا کرنے کے لیے بغداد کا دورہ کیا تھا۔ بیشتر غیرملکی رہنماؤں نے سکیورٹی کے خدشات کے مدنظر عراق کے غیراعلان شدہ دورے کیے ہیں۔ جارج بش کا یہ دورہ ایسے وقت منعقد کیا گیا ہے جب نئی عراقی حکومت نے سکیورٹی کے انتظامات بہتر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ غیرمعینہ مدت کے لیے بغداد میں شب کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور جمعہ کے روز دوپہر بغداد کی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے باوجود منگل کے روز عراق میں تشدد کے واقعات جاری رہے۔ کرکک میں پولیس پر بم حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ اس وقت ہوا جب مقامی وقت کے مطابق صبح کے ساڑھے سات بجے پولیس کی ایک گاڑی شہر کے مرکزی حصے میں گشت پر تھی۔ اس بم حملے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے جن میں آٹھ عام شہری اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔ اس دھماکے کے تقریباً آدھ گھنٹہ بعد بم سے لیس ایک مشتبہ خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی پولیس کے ہیڈ کوارٹر سے ٹکرادی۔ اس حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ |
اسی بارے میں بغداد: چھ ہزار سے زیادہ ہلاکتیں06 June, 2006 | آس پاس بغداد: کم از کم پچاس افراد اغوا05 June, 2006 | آس پاس عراق: کرکک میں دھماکے، 16 ہلاک13 June, 2006 | آس پاس صدام : کمرہ عدالت میں اشتعال12 June, 2006 | آس پاس وائٹ ہاؤس: بش بمقابلہ بش30 April, 2006 | آس پاس ’آزاد خیالی ناکام‘ ایرانی صدر کا خط09 May, 2006 | آس پاس عراقی حکومت کی حمایت کی اپیل26 May, 2006 | آس پاس بش اچانک عراق پہنچ گئے13 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||