BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جارج بش کا عراق کا اچانک دورہ
بش کی آمد کی اطلاع وزیراعظم مالکی کو چند منٹ پہلے دی گئی
صدر جارج بش بغداد کے اچانک دورے پر ہیں جہاں انہوں نے عراق کی نئی حکومت کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے عراقی کابینہ کے اراکین سے انتہائی سکیورٹی والے گرین زون میں ملاقات کی۔

وزیراعظم نوری مالکی سے ملاقات کے بعد صدر بش نے کہا کہ ’جب امریکہ اپنی زبان دیتا ہے تو اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔‘ اس موقع پر وزیراعظم مالکی نے کہا کہ عراق دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور انہیں امید ہے کہ غیرملکی افواج عراق سے واپس چلی جائیں گی۔

امریکی صدر کا دورہ خفیہ رکھا گیا تھا اور وہائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ صدر بش وڈیو لِنک کے ذریعے عراقی کابینہ کے اراکین سے بات چیت کریں گے۔ صدر بش کے بغداد پہنچ جانے پر وزیراعظم مالکی کو چند منٹ پہلے اطلاع دی گئی کہ یہ میٹنگ وڈیو لِنک کے ذریعے نہیں ہوگی بلکہ صدر بش بذات خود موجود ہوں گے۔

بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے زون میں جارج بش کی یہ ملاقات وڈیو لِنک کے ذریعے کیمپ ڈیوِڈ میں دیکھی گئی جہاں امریکی نائب صدر ڈِک چینی، وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس موجود تھیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق میں نئی حکومت کے قیام اور چند دن قبل شدت پسند رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد امریکی حکومت عراق کے حالات کے بارے میں پرامید ہے۔

امریکی حکومت پرامید
 عراق میں نئی حکومت کے قیام اور چند دن قبل شدت پسند رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد امریکی حکومت عراق کے حالات کے بارے میں پرامید ہے۔
بی بی سی نامہ نگار

گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانہ پہنچنے وزیراعظم مالکی نے صدر بش سے کہا: ’آپ سے ملکر خوشی ہوئی۔‘ میٹنگ کے دوران صدر بش نے وزیراعظم سے کہا کہ ’عراق کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔‘

جارج بش کا یہ عراق کا دوسرا دورہ تھا۔ انہوں نے نومبر 2003 میں امریکی افواج کا شکریہ ادا کرنے کے لیے بغداد کا دورہ کیا تھا۔ بیشتر غیرملکی رہنماؤں نے سکیورٹی کے خدشات کے مدنظر عراق کے غیراعلان شدہ دورے کیے ہیں۔

جارج بش کا یہ دورہ ایسے وقت منعقد کیا گیا ہے جب نئی عراقی حکومت نے سکیورٹی کے انتظامات بہتر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ غیرمعینہ مدت کے لیے بغداد میں شب کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور جمعہ کے روز دوپہر بغداد کی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اس کے باوجود منگل کے روز عراق میں تشدد کے واقعات جاری رہے۔ کرکک میں پولیس پر بم حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ اس وقت ہوا جب مقامی وقت کے مطابق صبح کے ساڑھے سات بجے پولیس کی ایک گاڑی شہر کے مرکزی حصے میں گشت پر تھی۔ اس بم حملے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے جن میں آٹھ عام شہری اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔

اس دھماکے کے تقریباً آدھ گھنٹہ بعد بم سے لیس ایک مشتبہ خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی پولیس کے ہیڈ کوارٹر سے ٹکرادی۔ اس حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ابو مصعب الزرقاویزرقاوی کون تھے؟
القاعدہ رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی کہانی
زرقاویآخری وڈیو
ابو معصب الزرقاوی کا آخری وڈیو
شاید طریقہ بدل جائے
زرقاوی کے بعد عراقی مزاحمت کدھر جائے گی
نئی امریکی پالیسی
’ایران بڑا خطرہ، حملہ کرنے کا حق محفوظ‘
اسی بارے میں
بش اچانک عراق پہنچ گئے
13 June, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد