BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 08:18 GMT 13:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: کرکک میں دھماکے، 16 ہلاک
زخمیوں کو ہسپتال لے جایا جارہا ہے
عراق کے شمالی شہر کرکک میں پولیس پر بم حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ اس وقت ہوا جب مقامی وقت کے مطابق صبح کے ساڑھے سات بجے پولیس کی ایک گاڑی شہر کے مرکزی حصے میں گشت پر تھی۔ اس بم حملے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے جن میں آٹھ عام شہری اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔

اس دھماکے کے تقریباً آدھ گھنٹہ بعد بم سے لیس ایک مشتبہ خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی پولیس کے ہیڈ کوارٹر سے ٹکرادی۔ اس حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

بریگیڈیئر جنرل صرحت قدیر کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی کوشش تھی کہ کار کو صدر دفتر کے اندر تک گھسایا جاسکے مگر اس سے قبل ہی پولیس نے فائرنگ کردی جس سے وہ گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی۔ ہلاک شدگان میں تین عام شہری اور دو پولیس اہلکار شامل تھے۔

بم حملوں کے اس سلسلے میں صدر جلال طالبانی کی کرد جماعت کے دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی یہ کوشش پولیس نے فائرنگ کرکے ناکام بنادی اور گاڑی موقع پر ہی دھماکے سے پھٹ گئی۔

ایک اور حملے میں ضلعی پولیس سربراہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان کا محافظ ہلاک ہوگیا ہے۔ بم کا یہ دھماکہ ان کے گھر کے سامنے کیا گیا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ منگل کو کل کتنے حملے کیئے گئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار یو سائیکس کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ حملے القاعدہ کے سابق رہنما ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے انتقام میں کیئے جارہے ہیں۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام حملہ آور اتنے منظم طریقے سے اتنے حملے ایک ساتھ نہیں کرسکتے۔

کرکک بغداد کے شمال میں 250 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں عرب، کرد اور ترک افراد بستے ہیں اور یہ سب ہی شہر کے اصل باشندے ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔

اس شہر میں عراق کے دیگر شہروں کی نسبت زیادہ بھاری بمباری تو نہیں کی گئی تاہم یہاں پولیس پر حملے روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں جو یہاں کے حملہ آوروں والوں کی جانب سے امریکہ اور اتحادی فوج اور ان کے عراقی حامیوں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد