فلسطینی ساتھ دیں: ایہود اولمرت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے فلسطینیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل میں ایک خواہش مند پارٹنر کی حیثیت سے ساتھ دیں۔ واشنگٹن میں امریکی کانگریس سے خطاب کے دوران، وزیراعظم اولمرت نے کہا کہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب امن کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ہمیشہ کے لیے فلسطینیوں کا انتظار نہیں کرتا رہے گا۔ ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ ضرورت ہوئی تو اسرائیل فلسطینیوں کے بغیر بھی پیش رفت کرسکتا ہے۔ اولمرت کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ قیام امن کے لیے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس وقت تک نہیں جب تک حماس تشدد کا راستہ ترک نہیں کرتی اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کرلیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے بغیر بھی پیش قدمی کے لیے تیار ہے اور ایک ’دہشت گرد حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ امید کو یرغمال بنالے یا پیش رفت پر ویٹو اختیار کرلے‘۔
اولمرت کی تجویز کے تحت فلسطینیوں کے بغیر پیش رفت کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل یکطرفہ طور پر غرب اردن میں اسرائیل کی سرحدوں کا مستقل طور پر تعین کرسکتا ہے۔ حماس کے رکن کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک ایسی فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے جس کے پاس زمین نہ ہو، اقتدار اعلیٰ نہ ہو، اس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے جگہ نہ ہو، اور یروشلم پر ان کا حق نہ ہو۔ منگل کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کے دوران امریکی صدر جارج بش نے اسرائیلی وزیراعظم کے یکطرفہ طور پر اسرائیل کی سرحدوں کے تعین کرنے کے منصوبے کی حمایت کی تھی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس بات پر فکر ہے کہ کہیں اسرائیل دوسرے ممالک سے مشورہ کیے بغیر یکطرفہ قدم نہ اٹھالے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس سے بات چیت کی ایہود اولمرت کی اپیل ان کے اس پہلے بیان سے کافی مختلف ہے جس میں انہوں نے فلسطینی رہنما کو کمزور قرار دیا تھا۔
ایہود اولمرت امریکی کانگریس کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے جو کہ امریکہ کے اتحادیوں کے لیے باعث عزت سمجھا جاتا ہے۔ اولمرت نے کہا کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اسے دہشت گردی سے انکار کرنا پڑے گا، اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا اور فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے ماضی کے سمجھوتوں پر عمل کرنا ہوگا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایہود اولمرت فلسطینی صدر محمود عباس میں کتنا یقین رکھتے ہیں اور وہ بات چیت کے لیے کس حد تک آگے بڑھیں گے، یا وہ یہ باتیں صرف کہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ایہود اولمرت کی تجویز کے تحت ہزاروں اسرائیلیوں کو غرب اردن کی بستیوں سے نکال دیا جائے گا لیکن بیک وقت دوسری بستیوں پر مستحکم کنٹرول حاصل کرلیا جائے گا جہاں دیگر علاقوں سے لائے جانے والے اسرائیلیوں کو بسایا جائے گا۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل وہ زمین ہمیشہ کے لیے ہتھیالے گا جس پر اس نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔ |
اسی بارے میں فلسطین کی مالی مدد کریں گے: روس15 April, 2006 | آس پاس فلسطینیوں کے لیے عبوری امداد09 May, 2006 | آس پاس فلسطینیوں کے لیے عبوری امداد10 May, 2006 | آس پاس حماس کو اسلحہ نہیں دیا:ایران 14 May, 2006 | آس پاس فلسطینی دھڑوں کے بیچ مسلح جھڑپیں19 May, 2006 | آس پاس حماس اہلکار آٹھ لاکھ ڈالر سمیت گرفتار19 May, 2006 | آس پاس اسرائیل نے حماس کمانڈر کو پکڑ لیا23 May, 2006 | آس پاس فلسطین تشدد: حماس کا کارکن قتل24 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||