فلسطینیوں کے لیے عبوری امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق وسطی کے لیئے مفاہمتکار ایک ایسے ’عارضی طریقہ کار‘ پر متفق ہو گئے ہیں جس کے ذریعے فلسطینیوں کے لیئے بین الاقوامی امداد بحال کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے بتایا ہے کہ یہ ’ٹیمپوریری‘ سلسلہ تین ماہ تک چلے گا۔ اس پر منگل کے روز اقوام متحدہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اتفاق کیا۔ فلسطینی انتظامیہ کو اپریل سے سخت مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ حماس کے منتخب ہو جانے کے بعد فلسطینیوں کے لیئے بین الاقوامی امداد روک دی گئی تھی اور امریکہ کا مطالبہ تھا کہ حماس اسرائیل کو سفارتی سطح پر تسلیم کرے اور تشدد کو چھوڑ دے۔ اس مالی بحران سے سرکاری ملازمین سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور ان کو پچھلے دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی بینک نے خبرادر کیا ہے کہ تنخواہوں کی عدم ادائگی سے علاقے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بتایا ہے کہ اس عارضی امداد کے نظام کو یورپی یونین سنبھالے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلسطینیوں کے لیئے عارضی امداد پر اتفاق سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی برادری فلسطینیوں کی مشکلات کے لیے مثبت اقدام اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بقول ان کے ’اب فلسطینی انتظامیہ کو ذمہ داری سے کام کرنا ہو گا۔‘ اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ اطفال اور طبی امداد کی رفاہی تنظیموں کے ذریعے فلسطینیوں کو دس ملین ڈالر امداد دینے کے لیئے تیار ہے۔ اس مسئلے کا کوئی حل نکالنے کے لیئے سعودی عرب، مصر اور اردن کے نمائندوں نے بھی مشرق وسطی کے مفاہمتکاروں سے منگل کو ملاقات کی۔ حماس اور عرب ممالک کی یہ کوشش رہی ہے کہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے کہ ان ملازمین کو فلسطینی انتظامیہ کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست تنخواہیں دی جائیں۔ |
اسی بارے میں حماس، الفتح کے درمیان صلح23 April, 2006 | آس پاس فلسطین کو رقم کی ادائیگی کا فیصلہ05 February, 2006 | آس پاس فلسطین: یورپ نےامداد روک دی07 April, 2006 | آس پاس حماس: امریکی امداد بھی معطل07 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||