BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل نے حماس کمانڈر کو پکڑ لیا
اسرائیلی فوجی
اسرائیلی فوجیں آئے دن غرب اردن میں فلسطینی قصبوں پر چھاپے مارتی رہتی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حماس کے عسکری بازو کے کمانڈر ابراہیم حماد کو رملہ سے حراست میں لے لیا ہے۔

اکتالیس سالہ ابراہیم حماد پر اسرائیل یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ چائے خانوں اور ہیبرو یونیورسٹی پر خود کش حملوں سمیت اکتالیس خود کش حملوں کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔

منگل کی صبح اسرائیلی فوج کئی جیپوں اور ایک بلڈوزر کے ساتھ رملہ میں داخل ہوئی اور ان دکانوں کا محصرہ کر لیا جہاں ابرہیم حماد نے پناہ لی ہوئی تھی۔یہ جگہ فلسطینی رہنما محمود عباس کی رہائش گاہ سے صرف دو سو گز دور ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ بلڈوزر سے دکانوں کے گیٹ توڑنے کے بعد فوجیوں نے لاؤڈ سپیکر پر دھمکی دی کہ اگر ابراہیم حماد باہر نہیں آتے تو وہ عمارت کو مسمار کر دیں گے۔

اعلان کے بعد ابراہیم حماد سامنے آ گئے۔ اس پر فوجیوں نے انہیں کپڑے اتار کر اپنی طرف آنے کو کہا۔ انہوں نے اس پر عمل کیا اور صرف زیرجامہ پہنے خود کو اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا۔

ابراہیم حماد کے خاندان کے ایک فرد نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ 1998 سے اسرائیل کو مطلوب تھے اور اسرائیل مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے فلسطینی انتظامیہ نے بھی انہیں حراست میں رکھا ہوا تھا۔سنہ 2002 میں غرب اردن پر اسرائیلی فوج کے ایک بڑے حملے کے دوران فلسطینی انتظامیہ نے انہیں رہا کر دیا تھا۔

اسرائیلی ریڈیو کے بقول انہیں پکڑنے والے فوجی دستے کے سربراہ نے کہا کہ حماس کے لیے ابراہیم حماد کا بدل ڈھونڈنا مشکل ہوگا۔

اسرائیلی فوج کے کرنل نے (جن کا نام صرف ’امیر‘ بتایا گیا ہے) کہا ’ جو بات ابراہیم کو دوسروں سے الگ کرتی ہے وہ ان کے ترتیب دیے ہوئے وہ پیچیدہ طریقے ہیں جو انہوں نے اسرائیلیوں کو مارنے کے لیے اپنائے۔‘

یروشلم میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی کے مطابق ابھی تک یہ کہنا مشکل ہے کہ اسرائیل نے ابراہیم حماد کو پکڑنے کی کارروائی کیوں کی ہے۔

گزشتہ پندرہ ماہ سے حماس نے کوئی خود کش حملہ نہیں کیا ہے اور اس دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا نشانہ حماس کی بجائے عسکریت پسند تنظیم ’اسلامی جہاد‘ رہی ہے۔

واضح رہے کہ ابراہیم حماد کو اس دن پکڑا گیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد