فلسطینیوں کے لیے عبوری امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق وسطی کے لیئے مفاہمتکار ایک ایسے’عارضی طریقہ کار‘ پر متفق ہو گئے ہیں جس کے ذریعے فلسطینیوں کے لیئے بین الاقوامی امداد بحال کی جائے گی۔ یہ طریقۂ کار یورپی یونین بنا رہی ہے اور اس کے تحت حماس کی حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے براہِ راست فلسطینی عوام کو امداد مہیا کی جائے گی۔ حماس نے امداد کے اس طریقۂ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ حماس کے حکومتی ترجمان غازی حماد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’یہ سب ممالک حکومت کو نظرانداز کر ہے ہیں اور حکومت سے تعاون نہیں کرنا چاہتے۔ اس سے مزید خطرناک حالات پیدا ہوں گے‘۔ امریکہ، روس اور اقوامِ متحدہ امداد کی براہِ راست فراہمی کے اس عمل میں یورپی یونین کا ساتھ دیں گے اور یہ سب ممالک اور ادارے مل کر ایک ٹرسٹ فنڈ قائم کریں گے تاکہ اس فلسطین میں جاری مالی بحران کو کم کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بتایا ہے کہ یہ عارضی سلسلہ آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گا اور تین ماہ تک چلے گا۔ اس پر منگل کے روز اقوام متحدہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اتفاق کیا۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بتایا ہے کہ اس عارضی امداد کے نظام کو یورپی یونین سنبھالے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیئے عارضی امداد پر اتفاق سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی برادری فلسطینیوں کی مشکلات کے لیے مثبت اقدام اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بقول ان کے ’اب فلسطینی انتظامیہ کو ذمہ داری سے کام کرنا ہو گا۔‘ اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ اطفال اور طبی امداد کی رفاہی تنظیموں کے ذریعے فلسطینیوں کو دس ملین ڈالر امداد دینے کے لیئے تیار ہے۔ امداد کی فراہمی کے اس مجوزہ نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ’جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں حماس حکومت کو نظرانداز کرتے ہوئے فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی پر کوئی اعتراض نہیں‘۔ فلسطینی انتظامیہ کو اپریل سے سخت مالی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ حماس کے منتخب ہو جانے کے بعد فلسطینیوں کے لیئے بین الاقوامی امداد روک دی گئی تھی اور امریکہ کا مطالبہ تھا کہ حماس اسرائیل کو سفارتی سطح پر تسلیم کرے اور تشدد کو چھوڑ دے۔ اس مالی بحران سے سرکاری ملازمین سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور ان کو پچھلے دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی بینک نے خبرادر کیا ہے کہ تنخواہوں کی عدم ادائگی سے علاقے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ حماس اور عرب ممالک کی یہ کوشش رہی ہے کہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے کہ ان ملازمین کو فلسطینی انتظامیہ کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست تنخواہیں دی جائیں۔ |
اسی بارے میں ’فلسطین میں بحران پیدا ہونے کا خدشہ‘19 April, 2006 | آس پاس حماس، الفتح کے درمیان صلح23 April, 2006 | آس پاس فلسطین کو رقم کی ادائیگی کا فیصلہ05 February, 2006 | آس پاس فلسطین: یورپ نےامداد روک دی07 April, 2006 | آس پاس حماس: امریکی امداد بھی معطل07 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||