وہی مختاراں وہی حکام مگر رویہ۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختاراں مائی ایک دفعہ پھر امریکی دورے پر ہیں لیکن پچھلی دفعہ کے بر عکس اس دفعہ امریکہ میں پاکستانی حکام ان کی آؤ بھگت کر رہے ہیں۔ نہ صرف واشنگٹن میں پاکستانی سفیر جہانگیر کرامت کی طرف سے چوبیس اپریل کو ان کے اعزاز میں دعوت دی جائے گی بلکہ نیو یارک میں اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن بھی پہلی مئی کو ان کے اعزاز میں دعوت دینا چاہتا ہے۔ تاہم مشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی ان کا مختاراں مائی سے اس سلسلے میں رابطہ نہیں ہو سکا۔ اس سے پہلے جنوری میں مختاراں مائی جب نیو یارک آئیں تھیں تو اقوام متحدہ میں ان کی ایک تقریب پاکستانی مشن کے زور ڈالنے پر منسوخ کر دی گئی تھی کیونکہ مختاراں مائی اور وزیر اعظم پاکستان شوکت عزیز کے اقوام متحدہ کے دورے کا وقت ایک ہی تھا۔ اس بات کو نہ صرف پاکستانی بلکہ امریکی میڈیا میں بھی اٹھایا گیا تھا اور روزنامے نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے اس سلسلے میں پریس کانفرنس میں سوال کیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں پہلے سے اس کا علم نہیں تھا اور یہ کسی غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہوگا۔ پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستانی مشن کے پریس اتاشی منصور سہیل کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے مختاراں مائی کو ہمیشہ پورا پروٹوکول دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے کبھی بھی حکومت کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کبھی مختاراں مائی کے آنے کی براہ راست اطلاع نہیں دی گئی اور ہمیشہ انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ وہ نیو یارک آ رہی ہیں۔ منصور سہیل نے امریکہ میں مختاراں مائی کے شیڈول کی دیکھ بھال کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کا نام لیئے بغیر یہ بھی کہا کہ ’ پتہ نہیں جو این جی او ان کا خیال کر رہی ہے وہ انہیں (پاکستانی مشن کی دعوت میں جانے کی) اجازت دے گی یا نہیں‘۔
امریکہ میں مختاراں مائی کی دیکھ بھال عمومًا جنوبی ایشیائی خواتین کے حقوق کی تنظیم ’انا‘ کرتی ہے۔ ’انا‘ اور پاکستانی حکومت کے درمیان تعلقات شروع سے ہی متنازعہ ہیں۔ مختاراں مائی کو سب سے پہلے ’انا‘ ہی نے امریکہ آنے کی دعوت دی تھی لیکن حکومت پاکستان نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا تھا جوبعد میں عالمی دباؤ پر واپس کیا گیا۔ پچھلے سال ستمبر میں پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے نیویارک میں پاکستانی خواتین سے خطاب کے دوران ’انا‘ نے ہوٹل کے باہرخواتین کے حقوق کے لیئے مظاہرہ کیا تھا اور صدر مشرف نے اس پر اعتراض کیا تھا کہ یہ تنظیم پاکستانی خواتین کے حقوق کی بات ملک سے باہر اٹھاتی ہے۔ صدر مشرف کے مطابق اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ مختاراں مائی ستائیس اپریل کو واشنگٹن کے کینیڈی سنٹر میں سینیٹر ہیلری کلنٹن سے ایوارڈ وصول کریں گی۔ یہ ایوارڈ وائٹل وائسز نامی تنظیم کے تحت دیا جا رہا ہے جو سالانہ دنیا بھر سے ایسی خواتین کو عالمی لیڈرشپ ایوارڈ دیتی ہے جنہوں نے جمہوریت یا انسانی حقوق کے فروغ کے لیے جدوجہد کی ہو۔ انہیں پچھلے سال گلیمر میگزین کی طرف سے دنیا کی سب سے بہادر خاتون کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ مختاراں مائی پچھلے ہفتے یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا چیپل ہل کی دعوت پر نارتھ کیرولائنا بھی گئیں تھیں جہاں انہوں نے یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طالب علموں سے بات چیت کی اور پاکستان میں زلزلے سے متاثرین کے لیے ایک امدادی تقریب میں شرکت کی۔ وہ دو مئی کو اقوام متحدہ میں ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گی۔ |
اسی بارے میں اقوام متحدہ: مائی کا پروگرام ملتوی21 January, 2006 | پاکستان مختارمائی: سوانح عمری کی رونمائی15 January, 2006 | پاکستان ’صدر کے بیان سے شدید دکھ پہنچا‘16 September, 2005 | پاکستان مختاراں کیلیے کینیڈین شہریت؟18 June, 2005 | پاکستان مختار: پاسپورٹ حکومتی قبضے میں 15 June, 2005 | پاکستان مختاراں مائی پر پابندی کی تحقیقات13 June, 2005 | پاکستان ’مختاراں کو نظر بند نہیں کیا گیا‘ 11 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||