16 طالبان اور تین فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں فوجی دستوں اور طالبان جنگوؤں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں سولہ طالبان اور تین فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ صوبے کے نائب گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب وہ اور سو کے قریب سپاہی جنگجوؤں کے گھیرے میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس لڑائی میں سولہ طالبان اور تین سپاہی ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملہ برطانوی سیکریٹری دفاع جان ریڈ کے اس بیان کے محض چند روز بعد ہی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تین ہزار تین سو برطانوی فوجی تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لینے کے لیے ہلمند بھیجے جائیں گے۔ نائب گورنر حاجی ملا میر نے بتایا کہ طالبان کے گھیرے سے انہیں اور فوجی دستوں کو رہائی باہر سے مدد کو آنے والے دوسو سپاہیوں نے دلائی ۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا کہ جب ایک مقامی پولیس کمانڈر طالبان فورسز کے تعاقب میں ہلمند کے سنگیر ضلع سے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ کی طرف آئے۔ ان کے مطابق دونوں طرف سے فائرنگ مقامی وقت کے مطابق سات بجے شروع ہوئی۔ میر نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی پولیس کمانڈر کی مدد کو آئے تھے لیکن جلد ہی انہیں محسوس ہوا کہ طالبان فورسز نے انہیں گھیر کر چاروں اطراف سے حملے شروع کرد یے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہری جانوں کی ہلاکت کے خطرے کے پیش نظر ان کی جانب سے لڑائی روک دی گئی۔ اس ماہ کہ آغاز میں ایک امدادی افغان کارکن ہلمند میں مشتبہ طالبان کارکنوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں افغانستان: خودکش حملہ، 20 ہلاک16 January, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملہ، 10 ہلاک05 January, 2006 | آس پاس افغانستان: قبل از انتخابات تشدد17 September, 2005 | آس پاس افغانستان: جیل پر طالبان کا حملہ24 September, 2005 | آس پاس ہلمند میں اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک11 October, 2005 | آس پاس افغانستان کا ’دشمن صوبہ‘09 December, 2005 | آس پاس افغانستان میں نیٹو فوج پر حملہ20 December, 2005 | آس پاس افغانستان: نو ’حملہ آور‘ گرفتار29 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||