افغانستان: نو ’حملہ آور‘ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قندھار کے گورنر کے مطابق سکیورٹی حکام نے نو افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں دو پاکستانی بھی شامل ہیں جو مبینہ طور پر خود کش حملہ آور بننے کی تیاری کر رہے تھے۔ قندھار کے گورنر اسداللہ خالد نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ’ان افراد کو گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران تین مختلف جگہوں سے گرفتار کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے سات افراد افغانی ہیں اور ان کا تعلق طالبان اور القاعدہ سے ہے جبکہ دیگر دو افراد نے اپنا تعارف پاکستانی باشندوں کے طور پر کروایا ہے۔ گورنر خالد نے بتایا کہ گرفتاریوں کے دوران خود کش حملہ میں استعمال کے لیے تیار کی گئی ایک گاڑی بھی پکڑی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے گرفتار ہونے والوں کے نام نہیں بتائے اور مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ وزارت دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاھر عظیمی نے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں ’اہم طالبان کمانڈر‘ مُلا جلان بھی شامل ہیں۔ افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بم دھماکوں کی لہر اور تیرہ خود کش حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنوری کے مہینے میں قندھار کے گورنر نے پاکستان پر طالبان خود کش حملہ آوروں کو تربیت دینے کا الزام لگایا۔ پاکستان جو کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ایک اتحادی ہے ان الزامات کی نفی کرتا ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں اٹھارہ ہزار سے زائد فوج تعینات کر رکھی ہے جو طالبان اور القاعدہ کے خلاف برسرپیکار ہے اور ان کے ٹھکانوں کی تلاش میں ہے۔ نیٹو کی افواج اس سال جنوبی علاقوں میں اپنا آپریشن بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ | اسی بارے میں ’برطانوی فوج کو طالبان سےلڑنا ہوگا‘18 January, 2006 | آس پاس جنوبی ایشیا: انسانی حقوق کی پامالی18 January, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 24 ہلاک16 January, 2006 | آس پاس ’خودکش حملہ‘، 4 افغان ہلاک16 January, 2006 | آس پاس قندھار: فوجی قافلے پر حملہ،3ہلاک15 January, 2006 | آس پاس ملا عمر کو رابطے کی پیشکش09 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||