 |  محمود عباس منتخب ہونے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ شدت پسندوں کو اسرائیل پر حملے نہ کرنے پر آمادہ کر سکیں |
فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ شدت پسند گروپوں کے ساتھ فائر بندی پر مفاہمت کے قریب ہیں۔ محمود عباس منتخب ہونے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ شدت پسندوں کو اسرائیل پر حملے نہ کرنے پر آمادہ کر سکیں وہ اس سلسلے میں حماس، اسلامی جہاد اور دوسرے شدت پسند گروہوں سے مذاکرات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اس پیش رفت کا مثبت جواب دینا چاہیے اور اپنے چھاپوں اور حملوں کی کارروائیاں بند کر دینی چاہیں۔ فلسطینی تنظیموں نے بھی اس دوران ایسے اشارے دیے ہیں جن سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ امن کا وقفہ قائم کرنے پر آمادہ ہیں تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ جنگ بندی پر آمادہ ہیں۔ حماس کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر راکٹ حملوں میں وقفہ محمود عباس کی کوششوں پر ایک مثبت اظہار ہے۔ اس قبل اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کی فوج بھرپور جوابی حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ شیرون جنوبی اسرائیلی قصبے دیروت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ قصبہ اکثر فلسطینی حملوں کی زد میں آتا ہے۔ |