قومی اسمبلی کا اجلاس طلب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس کل سنیچر کی شام چار بجے طلب کرلیا ہے، جس میں پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ پر بحث ہوگی۔ حکومت نے یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا ہے جب حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے بانوے اراکین کے دستخطوں سے اجلاس بلانے کی درخواست دی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی اور پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ ایک ہنگامہ خیز اجلاس ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) نے جیسے ہی اجلاس بلانے کی درخواست جمع کرائی تو وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کے ایک رابطہ افسر نے صحافیوں کو ٹیکسٹ میسج بھیجا کہ کابینہ نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی منظوری دے دی ہے۔
چوہدری نثار علی خان نے درخواست دائر کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ شیڈول کے مطابق یہ اجلاس سولہ فروری کو ہونا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر زرداری عدلیہ کے ساتھ مل کر نواز شریف اور شہباز شریف کو نا اہل قرار دلوانے کے لیے سرگرم تھے اس لیے انہوں نے اجلاس طے شدہ شیڈول کے تحت نہیں بلایا۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے صدر آصف علی زرداری پر سخت نکتہ چینی کی اور ان پر الزام لگایا کہ وہ قرآن پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ چوہدری شجاعت حسین نے کرنا ہے کہ وہ ان کی جماعت کو قاتل لیگ کہنے والوں سے ملتے ہیں یا کہ اصول پرست مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیتے ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ایک اور سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ جمہوریت کے دعویداروں نے خود ملک میں جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کی بنائی ہوئی عدالت کو استعمال کرتے ہوئے حکمرانوں نے جمہوریت کی قبر کھودی ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پیشکش کی تھی لیکن میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ میثاق جمہوریت کے تحت پابند ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سازی میں مدد کریں۔ انہوں نے بھی صدر آصف علی زرداری پر سخت تقنید کی اور کہا کہ وہ جرنیلوں کی طرح تمام اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور زرداری کو عوامی طاقت کے سامنے ضرور جھکنا ہوگا۔ جاوید ہاشمی اور چوہدری نثار علی خان نے وضاحت کی کہ راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کی قتل کی جگہ لگی ان کی تصاویر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے نہیں جلائیں۔ |
اسی بارے میں ملک گیر دھرنے کی کال پر ریلیاں27 February, 2009 | پاکستان بینظیر کی تصاویر، احتجاجی مظاہرے27 February, 2009 | پاکستان پنجاب میں عدالتی مارشل لاء: شہباز27 February, 2009 | پاکستان مسلم لیگ نون کا ملک گیر دھرنا27 February, 2009 | پاکستان سستی روٹی ملتی رہے گی: حکومت 27 February, 2009 | پاکستان گورنر راج: ابتدائی طور پر دو ماہ25 February, 2009 | پاکستان قاف لیگ ایک بار پھر میدان میں25 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||