حکومت عارضی جنگ بندی پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کو مقامی طالبان کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی اور سکیورٹی فورسز کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت ختم کرنے کے اعلان کے بعد حکومت نے بھی چار دن کےلیے ایجنسی میں عارضی فائر بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یہ اقدام کسی دباؤ کے بجائے قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھایا ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ شفیر اللہ خان نے یہ اعلان منگل کو صدر مقام خار میں ماموند قبائل پر مشتمل ایک دس رکنی جرگہ کے درخواست پر کیا۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پولیٹکل ایجنٹ نے کہا کہ فائر بندی چار دن کے لیے کی جارہی ہے اور اس دوران سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گی لیکن اگر ان پر حملہ کیا گیا تو انہیں اپنی حفاظت کےلیے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماموند قبائل نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ چار دنوں تک علاقے میں حالات معمول پر آجائیں گے اور اس سلسلے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
دریں اثناء طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد منگل کو صدر مقام خار اور آس پاس کے علاقوں میں تمام بازار اور تجارتی مراکز کھل گئے ہیں جبکہ لوگوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک مقامی صحافی صاحبزادہ بہاؤالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد منگل کو پہلی مرتبہ بازاروں میں روایتی چہل پہل اور خریداروں کا رش دیکھنے میں آیا۔ ادھر باجوڑ میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکومت کو چاہیے کہ اب ایجنسی سے فوج کا انخلاء عمل میں لایا جائے، ایف سی اہلکاروں کو واپس بیرکوں میں بھیج دیا جائے جبکہ قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے اعلان کے بعد طالبان تمام محاذوں سے واپس لوٹنے کے بعد اپنے اپنے مراکز کی طرف چلے گئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان باجوڑ سے بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی پرامن واپسی اور ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں فوج نے باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز کیا تھا جس کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ افراد نے بےگھر ہونے کے بعد مہاجر کیمپوں میں پناہ لی تھی۔ |
اسی بارے میں ’شدت پسندی بند کرنے کا حلف‘29 October, 2008 | پاکستان باجوڑ:چار لوگوں کے کان کاٹ دیے گئے11 January, 2009 | پاکستان پناہ گزین، ’طالبان سے نقصان نہیں ہوا‘11 February, 2009 | پاکستان اسلام آباد میں مہاجرین کا مظاہرہ16 December, 2008 | پاکستان سوات معاہدے پر امریکہ کو پریشانی20 February, 2009 | پاکستان ’امن معاہدے پر کوئی معترض نہیں‘19 February, 2009 | پاکستان صحافی کے قتل کی تحقیقات کا اعلان19 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||