BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2009, 18:11 GMT 23:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت عارضی جنگ بندی پر تیار

 مولوی فقیر
مقامی طالبان فوج اور ملک کے خلاف جنگ نہیں چاہتے:مولوی فقیر
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کو مقامی طالبان کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی اور سکیورٹی فورسز کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت ختم کرنے کے اعلان کے بعد حکومت نے بھی چار دن کےلیے ایجنسی میں عارضی فائر بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یہ اقدام کسی دباؤ کے بجائے قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھایا ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ شفیر اللہ خان نے یہ اعلان منگل کو صدر مقام خار میں ماموند قبائل پر مشتمل ایک دس رکنی جرگہ کے درخواست پر کیا۔

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پولیٹکل ایجنٹ نے کہا کہ فائر بندی چار دن کے لیے کی جارہی ہے اور اس دوران سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گی لیکن اگر ان پر حملہ کیا گیا تو انہیں اپنی حفاظت کےلیے دفاع کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماموند قبائل نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ چار دنوں تک علاقے میں حالات معمول پر آجائیں گے اور اس سلسلے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

منگل کو بازاروں میں روایتی چہل پہل اور خریداروں کا رش دیکھنے میں آیا۔

دریں اثناء طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد منگل کو صدر مقام خار اور آس پاس کے علاقوں میں تمام بازار اور تجارتی مراکز کھل گئے ہیں جبکہ لوگوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک مقامی صحافی صاحبزادہ بہاؤالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد منگل کو پہلی مرتبہ بازاروں میں روایتی چہل پہل اور خریداروں کا رش دیکھنے میں آیا۔

ادھر باجوڑ میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکومت کو چاہیے کہ اب ایجنسی سے فوج کا انخلاء عمل میں لایا جائے، ایف سی اہلکاروں کو واپس بیرکوں میں بھیج دیا جائے جبکہ قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ رات کے اعلان کے بعد طالبان تمام محاذوں سے واپس لوٹنے کے بعد اپنے اپنے مراکز کی طرف چلے گئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان باجوڑ سے بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی پرامن واپسی اور ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں فوج نے باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز کیا تھا جس کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ افراد نے بےگھر ہونے کے بعد مہاجر کیمپوں میں پناہ لی تھی۔

 صوفی محمددوسری اننگز
مولانا صوفی محمد ایک بار پھر سینٹر سٹیج پر
موسیٰ خیل’بریکنگ نیوز‘
صحافیوں کی موت کی ایک وجہ یہ بھی ہے
ایک اور ’پسپائی‘
سوات امن معاہدہ اور اس سے وابستہ توقعات
مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا ساتھیوں سمیت’امن مارچ‘
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد