BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2009, 19:54 GMT 00:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: طالبان کی جنگ بندی

 مولوی فقیر
مقامی طالبان فوج اور ملک کے خلاف جنگ نہیں چاہتے:مولوی فقیر
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے یکہ طرفہ جنگ بندی اور سکیورٹی فورسز کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ اقدام کسی دباؤ کے بجائے قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھایا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فقیر محمد نے یہ اعلان پیر کی شام ایف ایم ریڈیو چینل پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا اعلان حکومت یا کسی اور کے دباؤ کے بغیر کیا جارہا ہے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں ختم کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی طالبان فوج اور ملک کے خلاف جنگ نہیں چاہتے بلکہ ان کے مطابق بعض مفاد پرست عناصر اپنے مزموم مقاصد کے حصول کےلیے دونوں کے درمیان اختلافات پیدا کرکے ان کو آپس میں لڑا رہے ہیں۔

طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ بیرونی دنیا کو پاکستانی فوج اور ’مجاہدین‘ کی طاقت اور صلاحتیوں کا بخوبی علم ہے اس لیے ان کی کوشش ہے کہ اس ملک میں کبھی امن قائم نہ رہے ۔

مولوی فقیر نے کہا کہ باجوڑ کے طالبان کو افغانستان میں لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہاں پہلے ہی طالبان بڑی تعداد میں موجود ہیں تاہم اگر ضرورت پڑی تو وہ امریکہ کے خلاف افغانستان میں ہر وقت لڑنے کےلیے تیار ہیں۔

 بیرونی دنیا کو پاکستانی فوج اور مجاہدین کی طاقت اور صلاحتیوں کا بخوبی علم ہے اس لیے ان کی کوشش ہے کہ اس ملک میں کبھی امن قائم نہ رہے ۔
مولوی فقیر

ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں تاہم اگر کوئی غیر ملکی یہاں سے پکڑا گیا تو طالبان خود اس کے خلاف کارروائی کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند تعلیم کے مخالف نہیں اور باجوڑ میں آج کے بعد کسی سرکاری ادارے اور سکولوں پر حملے نہیں کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں گزشتہ سال اگست میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شروع کئے گئے آپریشن میں اب تک 23 طالبان ہلاک اور پچیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

باجؤر ایجنسی میں طالبان کی طرف سے یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب آج بھی وہاں عنایت کلی کے مقام پر سکیورٹ فورسز نے مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ سال اگست میں فوج نے بھرپور آپریشن کا اغاز کیا تھا جس کی وجہ سے علاقے سے تقریباً پانچ لاکھ افراد نے مہاجر کیمپوں میں پناہ لی تھی۔

 صوفی محمددوسری اننگز
مولانا صوفی محمد ایک بار پھر سینٹر سٹیج پر
موسیٰ خیل’بریکنگ نیوز‘
صحافیوں کی موت کی ایک وجہ یہ بھی ہے
ایک اور ’پسپائی‘
سوات امن معاہدہ اور اس سے وابستہ توقعات
مینگورہ ’امن مارچ‘
صوفی محمد کا ساتھیوں سمیت’امن مارچ‘
مفروضوں کا معاہدہ
مولانا فضل اللہ بیت اللہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد