BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2009, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا صوفی محمد کتنے موثر ہوں گے؟

طالبان (فائل فوٹو)
اطلاعات ہیں کہ آئندہ چند روز میں صوفی محمد سوات کے دورے میں جلسے جلوس منعقد کر کے تشدد کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کریں گے
سرحد حکومت اور مالاکنڈ ڈویژن میں سرگرم کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے درمیان معاہدے کے بارے میں سوات کی حد تک مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہیں خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی اس معاہدے کی خیرمقدم کیا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا استعمال حل نہیں۔’اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوگیا تو پورے ملک کے لیے بہت مفید ہوگا۔‘

ماضی میں شدت پسندوں سے ہونے والے امن معاہدوں پر نظر ڈالیں تو کوئی زیادہ حوصلہ افزاء تصویر سامنے نہیں آتی۔ اس مرتبہ بھی سب سے بڑا سوال ٹی این ایس ایم کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے اثرو رسوخ اور اہلیت کے بارے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔

ناکامی کی صورت میں
 خدشہ ہے کہ یہ تازہ معاہدہ اگر زیادہ دیر نہ چل پایا اور دونوں کے درمیان اس پر اختلافات سامنے آگئے تو حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان جنگ ٹی این ایس ایم اور تحریک طالبان کے درمیان لڑائی کی شکل اختیار کرسکتی ہے
کیا وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مولانا فضل اللہ کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوں جائیں گے کہ وہ ہمیشہ کے لیے تشدد کی راہ ترک کر دیں۔ جب فضل اللہ خود براہ راست حکومت سے گزشتہ مئی کیئے گئے امن معاہدے کو زیادہ دیر نہیں چلا پائے تو اب کسی اور کے معاہدے سے انہیں کیا فرق پڑے گا؟

ایک سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا تحریک طالبان کو محض ’شرعی عدالتی نظام‘ کی ہی چاہت تھی یا وہ مکمل ’شرعی نظام‘ کی بات کر رہی ہے۔ اس معاہدے کی رو سے مالاکنڈ میں ’شرعی عدالتی نظام‘ متعارف ہوگا ناکہ مکمل ’شرعی نظام‘ جوکہ شدت پسندوں کا اصل مقصد اور ہدف ہے۔

پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شدت پسندوں کا یہ مطالبہ محض مالاکنڈ تک محدود ہے یا یہ وہ اس سے آگے کی سوچ رہے ہیں۔

سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان کہتے ہیں کہ ’شرعی نظام‘ کی ان کی خواہش محض ان کے علاقے تک محدود نہیں بلکہ وہ پورا ملک بلکہ پوری دنیا پر اسے نافذ کرنا چاہیں گے۔ ’یہ مسئلہ صرف سوات یا مالاکنڈ کے مسلمانوں کا نہیں بلکہ یہ پورے ملک اور انسانیت کا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اسے سارے عالم میں نافذ کیا جاسکے۔‘

طالبان کی یہ سوچ کئی کا چین ختم کے لیئے کافی ہے۔ سوات کے صدر مقام مینگورہ سے شائع ہونے والے روزنامہ ’آزادی’ کے مدیر غفور خان عادل کہتے ہیں کہ شدت پسندوں نے پہلے ہی مولانا صوفی محمد کو اختیار دے دیا تھا کہ جو قانون ان کو قابل قبول ہوگا وہ انہیں بھی ہوگا۔

مولانا صوفی محمد
 مولانا صوفی محمد نے اگرچہ ماضی میں شریعت کے لیے ایک ایسی مہم کی قیادت کی تھی جو انتہائی پرتشدد تھی لیکن اب وہ تشدد کے سخت خلاف ہیں۔ دوسری جانب فضل اللہ کی تمام تحریک ہی تشدد کے گرد گھوم رہی ہے
’سوات کے طالبان کی جانب سے دس روزہ جنگ بندی کے اعلان کو اس بات کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے کہ انہیں مولانا صوفی محمد کے فیصلے پر پورا اعتماد ہے۔‘

لیکن ماضی کے معاہدوں اور جنگ بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض لوگوں کو شک ہے کہ شدت پسند اس موقع کو دوبارہ منظم ہونے یا سستانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم غفور عادل جیسے سوات کے شہری اس سے متفق نہیں۔ ’دس روز کی جنگ بندی عارضی ہے اور اگر دوسرے فریق نے بھی اس پر عمل کیا تو ہوسکتا ہے کہ اسے مزید بڑھا دیا جائے۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ آیا تحریک نفاذ شریعت محمدی اور مولانا صوفی محمد کا اب موجودہ حالات میں کوئی کردار ہے یا نہیں۔ ان کے داماد اور سوات میں غیرقانونی ایف ایم ریڈیو چلانے والے سربراہ مولانا فضل اللہ اب بظاہر زیادہ مضبوط اور اہم ہے۔ وہ اب ٹی این ایس ایم کے نہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کلیدی رہنما ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی نے سرحد حکومت کا چارج سنبھالنے کے محض تین ماہ کے اندر تحریک طالبان کے ساتھ امن معاہدہ تو کر لیا تھا لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہیں چل پایا تھا۔ اس مرتبہ بات حکومت نے ٹی این ایس ایم سے کی ہے۔ معاہدے کے تحت یہ تنظیم اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنا ’پرامن احتجاج‘ ختم کر کے مالاکنڈ ڈویژن میں امن قائم کرنے میں حکومت کا ساتھ دے۔

تاہم سب کو بخوبی معلوم ہے کہ مسئلہ صوفی محمد کی پرامن تحریک نہیں فضل اللہ کی پرتشدد تحریک کا ہے۔ تاہم اس معاہدے سے ایک فائدہ شدت پسندوں کی حمایت میں کمی کا باعث ضرور ہوگا۔

خدشات
 کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ صوفی محمد اپنا اثر و رسوخ کھو چکے ہیں۔ ان کی اپنے داماد کے آگے اتنی نہیں چلنی کیونکہ سوات میں اب بات صرف پاکستانی طالبان تک محدود نہیں بلکہ وہاں موجود القاعدہ اور ان کے غیرملکیوں کے ہاتھ میں جاچکی۔ ان کا سوات میں شرعی نظام عدل سے کیا لینا دینا؟ ان کا ایجنڈا تو مقامی سے زیادہ بین الاقوامی ہے
خدشہ ہے کہ یہ تازہ معاہدہ اگر زیادہ دیر نہ چل پایا اور دونوں کے درمیان اس پر اختلافات سامنے آگئے تو حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان جنگ ٹی این ایس ایم اور تحریک طالبان کے درمیان لڑائی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

مولانا صوفی محمد نے اگرچہ ماضی میں شریعت کے لیے ایک ایسی مہم کی قیادت کی تھی جو انتہائی پرتشدد تھی لیکن اب وہ تشدد کے سخت خلاف ہیں۔ دوسری جانب فضل اللہ کی تمام تحریک ہی تشدد کے گرد گھوم رہی ہے۔

کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ صوفی محمد اپنا اثر و رسوخ کھو چکے ہیں۔ ان کی اپنے داماد کے آگے اتنی نہیں چلنی کیونکہ سوات میں اب بات صرف پاکستانی طالبان تک محدود نہیں بلکہ وہاں موجود القاعدہ اور ان کے غیرملکیوں کے ہاتھ میں جاچکی۔ ان کا سوات میں شرعی نظام عدل سے کیا لینا دینا؟ ان کا ایجنڈا تو مقامی سے زیادہ بین الاقوامی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ آئندہ چند روز میں صوفی محمد سوات کے دورے میں جلسے جلوس منعقد کر کے تشدد کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ خدشات کے سائے میں امید کی کرن بھی موجود ہے۔ کیا مولانا صوفی محمد اپنا جادو دکھا پائیں گے۔ اس کے لیے ہمیں کوئی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

ایمنٹسی کی تشویش
’سوات میں بارہ سو ہلاک اور لاکھوں بےگھر‘
حکومت کا ایک سال
سوات اور باجوڑ کے مہاجرین مایوس
سوات سے ہجرت
گزشتہ چند دنوں میں 30 ہزار افراد بے گھر
اسی بارے میں
سوات: شرعی نفاذ کا معاہدہ طے
16 February, 2009 | پاکستان
سوات’نظام عدل‘ پر اتفاق
15 February, 2009 | پاکستان
شرعی عدالتوں کا نظام بہتر
27 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد