BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2009, 18:55 GMT 23:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان شرعی عدالتوں کے پابند ہوں گے؟

طالبان کے ہاتھوں سزا(فائل فوٹو)
کیا خود حکومت میں بھی اتنی طاقت اور صلاحیت ہوگی جو ان طالبان کو ’شرعی عدالتوں‘ میں کھڑا کر کے اپنے شہریوں کو انصاف دلائیں
پاکستان کی منتخب حکومت چند دن بعد اپنی پہلی سالگرہ منانے جارہی ہے اور اس دوران مرکزی اور صوبہ سرحد کی حکومت ایک بار کی ناکامی کے بعد دوسری دفعہ شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے معاہدہ کر رہی ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے پہلا معاہدہ اکیس مئی دو ہزار آٹھ کو براہ راست طالبان کے ساتھ کیا تھا اور اس دفعہ کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ کیا گیا ہے جو ایک لحاظ سے طالبان کے ساتھ بلا واسطہ معاہدہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس بار نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے ساتھ معاہدہ کرنے سے حکومت یہ تاثر دینا چاہ رہی ہے کہ وہ ایک ایسی تنظیم سے معاہدہ کرنے جارہی ہے جو’شریعت کے نفاذ‘ کے حوالے سے عسکری کی بجائے سیاسی جدوجہد پہ یقین رکھتی ہے۔

امن کا خواب
 اگر طالبان اسلحہ رکھنے، اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو ختم کرنے اور ایف چینل بند کرنے سے انکار کرتے ہیں تو پھر پہلے معاہدے کی طرح حالیہ معاہدہ بھی صرف لوگوں کو ایک محدود عرصے تک امن کا محض ایک خواب تو دکھا سکتا ہے مگر مستقل امن کا قیام شاید ایک سراب ثابت ہو
شرعی عدالتی نظام کے حوالے سے مولانا فضل اللہ اور مولانا صوفی محمد کا مطالبہ اور سوچ بظاہر ایک جیسی ہے لیکن مولانا فضل اللہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ مولانا صوفی محمد ضلع دیر میں کئی ماہ سے ایک احتجاجی کیمپ لگا کر سیاسی جدوجہد میں مصرف ہیں۔

حکومت کی نئی حکمت عملی ایک لحاظ سے اس لیے کامیاب نظر آرہی ہے کہ مولانا صوفی محمد کا نظریاتی طور پر مولانا فضل اللہ اور ان کے زیادہ تر مقامی ساتھیوں پر اثر و رسوخ زیادہ ہے اور رشتہ کے لحاظ سے بھی مولانا فضل اللہ ان کے داماد ہیں۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معاہدے کے باقاعدہ اعلان سے قبل ہی طالبان نے دس روز تک جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔انہوں یہ بھی کہا ہے کہ اگر ’شرعی عدالتی نظام‘ کا ترمیمی مسودہ مولانا صوفی محمد نے منظور کرلیا ہے تو وہ بھی اس سے قبول کریں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے معاہدے کی ناکامی کے بعد کیسے اعتبار کیا جاسکتا ہے کہ اس بار ہونے والا معاہدہ علاقے میں پائیدار امن کا ضامن ثابت ہوگا؟

ماضی کے تجربے کے تناظر میں یہ خدشہ بجا طور پر موجود بھی رہے گا لیکن حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس دفعہ مرکزی حکومت اور انتظامیہ کی شکل میں تمام متعلقہ فریقین چاہتے ہیں کہ سوات کو امن کا گہوارہ بننے دیا جائے۔

کلیدی سوال
 کلیدی سوال یہ ہے کہ طالبان جس عدالتی نظام کا مطالبہ کررہے ہیں اس کے قیام کے بعد کیا مولانا فضل اللہ سمیت وہ تمام طالبان اپنی مرضی سے انہی شرعی عدالتوں میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہوجائینگے جن کے خلاف سوات کا کوئی شہری یہ مقدمہ درج کریں کہ فلاں طالب نے ان کے رشتہ دار کو گولی ماری ہے، فلاں کمانڈر نے اس کے بھائی کا سرقلم کر دیا ہے اور فلاں سربراہ نے اس کے چچا کو کوڑے مارے ہیں
ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے پہلا معاہدہ اتنی جلدی میں کیا کہ تقریباً ساڑھے نو سال کی فوجی آمریت کے بعد پہلی مرتبہ ’شفاف اور آزادانہ‘ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کےصرف تین ماہ ہوئے تھے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں اس وقت صدارتی محل میں سابق صدر مشرف براجمان تھے اور اتحادی جماعتوں کو مرکز میں مکمل طور پر حکومت نہیں ملی تھی مگر اس بار ’شدت پسندوں کے سر‘ سے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا ’سایہ‘ اٹھ چکا ہے اور اختیارات اور ذمہ داریاں اب پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے کاندھوں پر آن پڑی ہیں جو اس دفعہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔

بعض مبصرین کا یہ خیال ہے کہ سوات میں شدت پسندی کی بدترین شکلوں اور ممبئی کے واقعہ نے ’ریاستی‘ اور ’غیر ریاستی عناصر‘ کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اگر ’شدت پسندی‘ کی عفریت سےمکمل نجات حاصل نہیں بھی کرنا چاہتےتو بھی وہ اسے کچھ عرصے کے لیے رام ضرور کرنا چاہتے ہیں۔

بجا سہی کہ طالبان نے معاہدے کی صورت میں جنگ بندی کا اعلان کردیا مگر سوال یہ ہے کہ طالبان کا بطور ایک عسکری قوت کے مستقبل کیا ہوگا؟ آدھے سے زیادہ سوات کے ’حکمران‘ مولانا فضل اللہ اپنی طاقت سے دستبردار ہونے کو تیار ہوجائیں گے؟

یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ کیا طالبان کے پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہونے والا ایف ایم چینل اپنی نشریات کو ہمیشہ کے لیے بند کردے گا؟

اور اس سے بھی اہم اور کلیدی سوال یہ ہے کہ طالبان جس عدالتی نظام کا مطالبہ کررہے ہیں اس کے قیام کے بعد کیا مولانا فضل اللہ سمیت وہ تمام طالبان اپنی مرضی سے انہی شرعی عدالتوں میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہوجائینگے جن کے خلاف سوات کا کوئی شہری یہ مقدمہ درج کریں۔

کیا خود حکومت میں بھی اتنی طاقت اور صلاحیت ہوگی جو ان طالبان کو ’شرعی عدالتوں‘ میں کھڑا کر کے اپنے شہریوں کو انصاف دلائیں۔

اگر طالبان اسلحہ رکھنے، اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو ختم کرنے اور ایف چینل بند کرنے سے انکار کرتے ہیں تو پھر پہلے معاہدے کی طرح حالیہ معاہدہ بھی صرف لوگوں کو ایک محدود عرصے تک امن کا محض ایک خواب تو دکھا سکتا ہے مگر مستقل امن کا قیام شاید ایک سراب ثابت ہو۔

ایمنٹسی کی تشویش
’سوات میں بارہ سو ہلاک اور لاکھوں بےگھر‘
حکومت کا ایک سال
سوات اور باجوڑ کے مہاجرین مایوس
سوات سے ہجرت
گزشتہ چند دنوں میں 30 ہزار افراد بے گھر
اسی بارے میں
شرعی عدالتوں کا نظام بہتر
27 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد