’پاکستانی ڈوسیئر، مثبت پیش رفت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں میں کاالعدم لشکر طیبہ کو ملوث قرار دینے اور کچھ منصوبہ بندی پاکستان میں ہونے کے حکومتی اقرار کو اکثر تجزیہ کاروں نے انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک میں اعتماد سازی بڑھنے، معطل کردہ جامع مزاکرات کی بحالی اور مشترکہ تحقیقات کا امکان روشن ہوگیا ہے۔ پاکستان نے جو کچھ کیا وہ بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے یا عوام کی منتخب حکومت کی اپنی سیاسی قوت ارادی اور جرات، اس سے قطع نظر کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں حکومت نے یہ ’بہت بہادارانہ، قدم اٹھا کر جہاں دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے وہاں ملک میں موجود ہندوستان کو مستقل دشمن سمجھنے والے عناصروں اور اسٹیبلشمینٹ کو بھی یہ باور کرایا ہے کہ وہ ریاست کو یرغمال نہیں بناسکتے۔‘ بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب کوئی وجہ باقی نہیں ہے کہ ہندوستان کی حکومت پاکستان سے تحقیقات میں تعاون نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو تعاون کے لیے ایک ایسا موقع فراہم کیا ہے جو بار بار نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے ابتدا میں جو بیان دیے اس سے ایسا لگا کہ وہ طاقتور اسٹیبلشمینٹ سے خوفزدہ ہے اور معاملہ شاید آگے نہیں بڑھ پائے گا۔ لیکن ان کے بقول رحمان ملک نے جو تفصیلات ظاہر کی ہیں اس سے لگتا ہے کہ حکومت کافی سنجیدہ ہے اور بھارت کو بھی اُسی سنجیدگی سے جواب دینا ہوگا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے مزید کہا کہ پاکستان کے اس قدم سے حکومت اور ریاست کی دنیا میں ساکھ بہتر ہوگی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی سنجیدہ اور سچی ہے۔ ان کے بقول دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے اور ایسے لوگ یا گروہ جو پاکستان اور بھارت میں کشیدگی چاہتے ہیں انہیں حکومت نے زوردار پیغام دیا ہے اور ان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ نے ایسے (لشکر طیبہ) جیسےگروہوں کی ماضی میں سرپرستی کی اور آج پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے عناصر حکومت کے لیے مسائل پیدا کریں گے لیکن اگر حکومت نے اُسی جرات سے اقدامات کیے جیسا کہ ممبئی حملوں کی تحقیق میں کیے ہیں تو شدت پسند گروہوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ سفارتی امور کے ایک ماہر اور پاکستان کے سابقہ سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد کہتے ہیں کہ انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: ’دیر آید درست آید۔ رحمان ملک نے جو کچھ کہا پہلی بار کسی موجودہ حکومتی اہلکار کی باتیں سن کر خوشی ہوئی۔‘ انہوں نے بتایا کہ جامع مذاکرات کے تحت انسداد دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے مکینزم موجود ہے اور ہوانا میں کیے گئے معاہدے کے تحت بھی مکینزم موجود ہے۔ ان کے مطابق ممبئی حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کے لیے دونوں ممالک کو ایک اچھا موقع ملا ہے جس کا انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ طلعت مسعود اور شماد احمد اس بات پر تقریبا متفق دکھائی دیے کہ پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں کی تفصیلی تحقیقات کے بعد دونوں ممالک میں اعتماد سازی بڑھنے، جامع مذاکرات کی بحالی اور تحقیقات میں تعاون کے وسیع امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ لیکن بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوری طور پر بھارت سے مثبت رد عمل ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں انتخابات تک کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی وہ پاکستان کو ہی نشانہ بنائیں گی۔ ایسی ہی رائے ہے تجزیہ کار اور انگریزی روزنامہ دی نیشن کے مدیر اعلیٰ عارف نظامی کی۔ ’بھارت میں مئی میں انتخابات ہونے والے ہیں اور دونوں جماعتیں (کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی) ووٹ لینے کی خاطر پاکستان کے خلاف اپنی پروپیگنڈہ مہم جاری رکھیں گی۔ کانگریس پر الزام لگے گا کہ اس نے کچھ نہیں کیا اور ان دنوں تو پاکستان ان کے لیے ایک پسندیدہ گھوڑے کی طرح ہوگا۔‘ پاکستان میں سیاسی امور اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کو پروان چڑھانے کے بارے میں کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم کے سربراہ ظفراللہ خان کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت دہشت گردی کے خلاف ماضی کی حکومت سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے اپنی لیڈر بینظیر بھٹو کی جان کی قربانی دی ہے اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ غیرجمہوری قوتوں کے آگے پاکستان کو یرغمال ہونے نہیں دے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس قدم سے پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمینٹ اور ہندوستان کو مستقل دشمن بنائے رکھنے کے خواہاں عناصروں کو بڑا دھچکا پہنچے گا اور وہ حکومت کے لیے مشکلات بھی پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی حملوں کی اتنی گہری تحقیقات کے بعد ثبوتوں کی بنا پر لشکر طیبہ کو ملوث قرار دے کر ملزمان کو سزا دلوانے کے عزم سے جہاں دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی وہاں دونوں ممالک میں اعتماد سازی بھی پختہ ہوگی۔ |
اسی بارے میں ’پاکستانی ریاستی عناصر ملوث ہیں‘11 February, 2009 | انڈیا پاک رپورٹ، مثبت اقدامات : انڈيا12 February, 2009 | انڈیا ’پاکستان کے عوام سےشکایت نہیں‘13 February, 2009 | انڈیا ممبئی حملوں کا مقدمہ، سفارتکاروں کی رائے12 February, 2009 | پاکستان ممبئی حملے: ’سازش کا کچھ حصہ پاکستان میں تیار ہوا اور لشکر کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں‘12 February, 2009 | پاکستان ’سازش کا کچھ حصہ پاکستان میں بنا‘12 February, 2009 | پاکستان ’رپورٹ، پاکستانی سنجیدگی کا اظہار‘12 February, 2009 | پاکستان ’کشیدگی پاکستان ہی ختم کرسکتاہے‘13 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||