BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی ڈوسیئر، مثبت پیش رفت‘

بارہ فروری کو داخلی سکیورٹی کے مشیر رحمان ملک نے رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کی

پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں میں کاالعدم لشکر طیبہ کو ملوث قرار دینے اور کچھ منصوبہ بندی پاکستان میں ہونے کے حکومتی اقرار کو اکثر تجزیہ کاروں نے انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک میں اعتماد سازی بڑھنے، معطل کردہ جامع مزاکرات کی بحالی اور مشترکہ تحقیقات کا امکان روشن ہوگیا ہے۔

پاکستان نے جو کچھ کیا وہ بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے یا عوام کی منتخب حکومت کی اپنی سیاسی قوت ارادی اور جرات، اس سے قطع نظر کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں حکومت نے یہ ’بہت بہادارانہ، قدم اٹھا کر جہاں دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے وہاں ملک میں موجود ہندوستان کو مستقل دشمن سمجھنے والے عناصروں اور اسٹیبلشمینٹ کو بھی یہ باور کرایا ہے کہ وہ ریاست کو یرغمال نہیں بناسکتے۔‘

بیشتر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب کوئی وجہ باقی نہیں ہے کہ ہندوستان کی حکومت پاکستان سے تحقیقات میں تعاون نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو تعاون کے لیے ایک ایسا موقع فراہم کیا ہے جو بار بار نہیں آتے۔

 اصل بات یہ ہے کہ دونوں ممالک سمجھیں کہ دہشت گرد نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں، دہشت گردی کا کوئی مذہب، سرحد یا چہرہ نہیں ہے یہ مشترکہ خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پہلے سے موجود مکینزم کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا۔
سابقہ سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اور دفاعی امور کے ماہر طلعت حسین سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ بھارت چاہ رہا تھا، یعنی کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا دی جائے وہ کچھ پاکستان کر رہا ہے اور اگر بھارت نے اب مزید ثبوت فراہم نہیں کیے یا مشترکہ جانچ کی حامی نہیں بھری تو دنیا کا دباؤ بھارت پر بڑھ سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے ابتدا میں جو بیان دیے اس سے ایسا لگا کہ وہ طاقتور اسٹیبلشمینٹ سے خوفزدہ ہے اور معاملہ شاید آگے نہیں بڑھ پائے گا۔ لیکن ان کے بقول رحمان ملک نے جو تفصیلات ظاہر کی ہیں اس سے لگتا ہے کہ حکومت کافی سنجیدہ ہے اور بھارت کو بھی اُسی سنجیدگی سے جواب دینا ہوگا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے مزید کہا کہ پاکستان کے اس قدم سے حکومت اور ریاست کی دنیا میں ساکھ بہتر ہوگی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کافی سنجیدہ اور سچی ہے۔ ان کے بقول دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے اور ایسے لوگ یا گروہ جو پاکستان اور بھارت میں کشیدگی چاہتے ہیں انہیں حکومت نے زوردار پیغام دیا ہے اور ان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ نے ایسے (لشکر طیبہ) جیسےگروہوں کی ماضی میں سرپرستی کی اور آج پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے عناصر حکومت کے لیے مسائل پیدا کریں گے لیکن اگر حکومت نے اُسی جرات سے اقدامات کیے جیسا کہ ممبئی حملوں کی تحقیق میں کیے ہیں تو شدت پسند گروہوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

سفارتی امور کے ایک ماہر اور پاکستان کے سابقہ سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد کہتے ہیں کہ انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: ’دیر آید درست آید۔ رحمان ملک نے جو کچھ کہا پہلی بار کسی موجودہ حکومتی اہلکار کی باتیں سن کر خوشی ہوئی۔‘

 بھارت میں مئی میں انتخابات ہونے والے ہیں اور دونوں جماعتیں (کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی) ووٹ لینے کی خاطر پاکستان کے خلاف اپنی پروپیگنڈہ مہم جاری رکھیں گی۔ کانگریس پر الزام لگے گا کہ اس نے کچھ نہیں کیا اور ان دنوں تو پاکستان ان کے لیے ایک پسندیدہ گھوڑے کی طرح ہوگا۔
ی نیشن کے مدیر اعلیٰ عارف نظامی
شمشاد احمد نے مزید کہا: ’اصل بات یہ ہے کہ دونوں ممالک سمجھیں کہ دہشت گرد نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں، دہشت گردی کا کوئی مذہب، سرحد یا چہرہ نہیں ہے یہ مشترکہ خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پہلے سے موجود مکینزم کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے بتایا کہ جامع مذاکرات کے تحت انسداد دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے مکینزم موجود ہے اور ہوانا میں کیے گئے معاہدے کے تحت بھی مکینزم موجود ہے۔ ان کے مطابق ممبئی حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کے لیے دونوں ممالک کو ایک اچھا موقع ملا ہے جس کا انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔

طلعت مسعود اور شماد احمد اس بات پر تقریبا متفق دکھائی دیے کہ پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں کی تفصیلی تحقیقات کے بعد دونوں ممالک میں اعتماد سازی بڑھنے، جامع مذاکرات کی بحالی اور تحقیقات میں تعاون کے وسیع امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

لیکن بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوری طور پر بھارت سے مثبت رد عمل ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں انتخابات تک کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی وہ پاکستان کو ہی نشانہ بنائیں گی۔

ایسی ہی رائے ہے تجزیہ کار اور انگریزی روزنامہ دی نیشن کے مدیر اعلیٰ عارف نظامی کی۔ ’بھارت میں مئی میں انتخابات ہونے والے ہیں اور دونوں جماعتیں (کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی) ووٹ لینے کی خاطر پاکستان کے خلاف اپنی پروپیگنڈہ مہم جاری رکھیں گی۔ کانگریس پر الزام لگے گا کہ اس نے کچھ نہیں کیا اور ان دنوں تو پاکستان ان کے لیے ایک پسندیدہ گھوڑے کی طرح ہوگا۔‘

پاکستان میں سیاسی امور اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری رویوں کو پروان چڑھانے کے بارے میں کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم کے سربراہ ظفراللہ خان کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت دہشت گردی کے خلاف ماضی کی حکومت سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے اپنی لیڈر بینظیر بھٹو کی جان کی قربانی دی ہے اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ غیرجمہوری قوتوں کے آگے پاکستان کو یرغمال ہونے نہیں دے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس قدم سے پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمینٹ اور ہندوستان کو مستقل دشمن بنائے رکھنے کے خواہاں عناصروں کو بڑا دھچکا پہنچے گا اور وہ حکومت کے لیے مشکلات بھی پیدا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ممبئی حملوں کی اتنی گہری تحقیقات کے بعد ثبوتوں کی بنا پر لشکر طیبہ کو ملوث قرار دے کر ملزمان کو سزا دلوانے کے عزم سے جہاں دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی وہاں دونوں ممالک میں اعتماد سازی بھی پختہ ہوگی۔

ہولبروکامریکی ایلچی کی آمد
’کشمیرہولبروک کےایجنڈے میں نہیں‘
رچرڈ ہالبروکہالبروک سے توقعات
رچرڈ ہالبروک سے بوسنیا جیسے نتائج کی توقع
ممبئی دہشت گرد حملےکب کیا ہوا؟
ممبئی حملے: دہشت گردی، بیانات، الزامات
لشکر طیبہ سوچ بدل گئی؟
لشکرِ طیبہ کی جانب سے پرامن جدوجہد کا اعلان
تصویر کیسے؟
لکھوی کی تصویر انڈیا کو کہاں سے ملی؟
ممبئی حملوں کا مقدمہ
دونوں ملکوں کے سابق سفارتکار کیا کہتے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد