BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 February, 2009, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف سکس پارک میں غریبوں کی تعلیم

ایف سکس پارک میں اسکول کا ایک منظر
اسکول سے تعلیم حاصل کر چکے اسٹوڈینٹس بھی اسکول میں پڑھاتے ہیں۔

اسلام آباد کے ایک مہنگے علاقے ایف سکس میں واقع ایک پارک پر اگر نظر پڑے تو وہاں آپ کو بچے کھیلتے کودتے نہیں بلکہ زمین پر بیٹھے باقاعدہ تعلیم حاصل کرتے نظر آئیں گے۔

اسلام آباد میں موسم گرم ہو یا انتہائی سرد، ایف سکس کے اس پارک میں تقریباً گزشتہ پچیس سال سے کم آمدن والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اور دن بھر سڑکوں پر محنت مزدوری کرنے والے بچے کسی معاوضے کے بغیر باقاعدگی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

پارک میں واقع اس سکول کی نہ تو کوئی عمارت ہے اور نہ ہی کوئی نام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سکول کوئی غیر سرکاری تنظیم نہیں چلا رہی ہے بلکہ اس ٹاٹ سکول کا خالق ایک ادنٰی درجے کا سرکاری ملازم محمد ایوب ہے۔

محمد ایوب کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤلدین سے ہے اور وہ گزشتہ پچیس سال سے اسلام آباد میں سول ڈیفنس کے محکمے میں ملازمت کر رہےہیں۔

انھوں نے بتایا کہ آج سے پچیس سال پہلے جب وہ اسلام آباد آئے تھے تو دفتر سے چھٹی کے بعد فارغ اوقات کے لیے اس نیک کام کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دن ان کو سٹرک پر چند بچے کوڑا چنتے نظر آئے تو انھیں خیال آیا کہ کیوں نہ فارغ اوقات میں ان بچوں کوتعلیم دی جائے۔

اس دن کے بعد سے محمد ایوب نے دوپہر تین بجے دفتر سے چھٹی کرنے کے بعد محنت مزدوری کرنے والے اور غریب گھروں کے بچوں کو ایف سکس کےسرکاری پارک میں پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا جہاں سے اب تک سینکڑوں کی تعداد میں بچے مستفید ہو کر با عزت روزگار کما رہے ہیں۔

فخر
 جو بچے دسویں جماعت تک پہنچتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کے بورڈ کے امتحانی اخراجات وہ خود پورے کرتے ہیں لیکن میرے لیے فخر کی بات یہ ہے کہ آج میرے شاگرد ماسٹرز اور بی اے کرنے کے بعد اچھے اداروں میں ملازمت کر رہے ہیں
محمد ایوب

محمد ایوب نے بتایا کہ انہوں نے جب بچوں کو تعیلم کی طرف راغب کرنے کی کوشش شروع کی تو کافی مسئلے مسائل کا سامنا تھا ۔ ایک تو بچوں کو تعلیم سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور دوسرے والدین شک کرتے تھے کہ ان کے بچے جو محنت مزردوری سے پیسے کما رہے ہیں وہ اس سے بھی جاتے رہیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ چند ماہ کے بعد ایسے والدین جو مالی حالات کی وجہ سے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجنے کی بجائے محنت مزدروی پر لگا دیتے تھے انھوں نے شام کے اوقات میں اپنے بچوں کو میرے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجنا شروع کر دیا اور آج بھی زیادہ تر بچے دن کو کام کرتے ہیں اور شام کو پڑھتے ہیں۔

محمد ایوب نے سخت سردی میں پارک کی ٹائلوں پر بیٹھے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آج اس سکول میں ایک سو ساٹھ بچے پہلی جماعت سے لے کر دسویں تک تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔جبکہ ان کے تین شاگرد بھی اپنی نوکریوں کے بعد یہاں آ کر بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اپنی نو ہزار روپے کی قلیل تنخواہ کا زیادہ تر حصہ بچوں کی پینسلیں، کتابیں خریدنے پر صرف کردیتے ہیں۔ خود وہ اپنے سرکاری دفتر کے ایک حصے میں سوتے ہیں اور بیوی بچے آبائی شہر منڈی بہاؤ الدین میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی سرکاری سکول میں ٹیچر ہیں جس کی وجہ سے گھر کے اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔

ماسٹر محمد ایوب نے کہا کہ شروع میں پارک کی کچی زمین پر بچے بیٹھتے تھے جبکہ بارش یا تیز دھوپ میں پارک کے درختوں کے نیچے کلاس روم بنایا جاتا ہے۔ تاہم تین سال پہلے پارک میں پتھر کی ٹائلیں لگ چکی ہیں لیکن اب بھی سردی ، گرمی اور بارش میں پارک کے درخت ہی بچوں کا سہارا بنتے ہیں ۔تاہم شروع میں بچے گرمی سردی سے بیمار پڑ جاتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سخت موسم کے عادی ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جو بچے دسویں جماعت تک پہنچتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کے بورڈ کے امتحانی اخراجات وہ خود پورے کرتے ہیںء ’میرے لیے فخر کی بات یہ ہے کہ آج میرے شاگرد ماسٹرز اور بی اے کرنے کے بعد اچھے اداروں میں ملازمت کر رہے ہیں‘۔

زیادہ تر بچے دن کو کام کرتے ہیں اور شام کو پڑھتے ہیں
پارک سکول میں سترہ سالہ عمران پانچویں جماعت کے طالب علم ہیں وہ اس سے پہلے گھر کے مالی حالات کی وجہ سے محنت مزدوری کرتے تھے تاہم اب شام کو باقاعدگی سے پارک میں پڑھنے کے لیے آتے ہیں اور یہیں سے چار جماعتیں پاس کی ہیں۔

عمران پر امید ہیں کہ وہ نہ صرف فارغ اوقات میں اپنی تعلیم جاری رکھیں گے بلکہ یہاں سے دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد کالج میں داخلہ لےکر ڈاکٹر بننے کی کوشش کریں گے۔

پارک سکول میں پہلی جماعت کے طالب علم چاند یہاں آنے سے پہلے ایک سرکاری سکول میں جاتے تھے تاہم وہاں اساتذہ کی مار پیٹ کی وجہ سے سکول چھوڑ دیا تاہم مالی تنگی کی وجہ سے والدین چاند کو کسی نجی سکول میں تو نہیں بھیج سکتے ہیں لہذا اب وہ پارک سکول میں آتے ہیں اور یہاں کے ماحول سے خوش اور مطمئن بھی ہیں۔

پر اعتماد قندیل سرکاری سکول میں زیر تعلیم ہے تاہم مستقبل میں ڈاکٹر بننے کا خواب سجائے قندیل سکول سے چھٹی کے بعد کسی مہنگے ٹیوشن سنٹر جانے کے بجائے پارک کے سکول میں مفت پڑھنے کے لیے آتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پڑھ کر جلدی سے ایک اچھی ڈاکٹر بن جائیں۔

پارک میں موسم کی پراہ کیے بغیر تعلیم حاصل کرتے دیکھ کر ایک خیال ذہن میں آتا ہے کہ ایک طرف تو صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جب بچوں کے سکول تباہ و برباد کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ملک میں محمد ایوب جیسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی لالچ کے اپنی ہمت اور لگن سے بچوں کو علم کی طاقت سے روشناس کروا رہے ہیں ۔

طلبہ تعلیم سے محروم
شورش زدہ علاقوں میں لوگ تعلیم سے محروم
طلبہتعلیم کیلیے مزید رقم
سیاسی جماعتوں کا بجٹ4 % تک بڑھانے کا وعدہ
حکومتی وائٹ پیپر
’تعلیمی پالیسی کی بنیاد اسلام ہو ملائیت نہیں‘
سندھ میں سکولاکثریت محروم تعلیم
صوبہ سندھ میں ساٹھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم
یہ سات لاکھ بچےیہ سات لاکھ بچے
صوبہ سرحد میں تعلیم سے محروم سات لاکھ بچے
ڈاکٹر عطا الرحمٰن اعلیٰ تعلیم کا اندھیرا
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا اندھیرا ہے
تعلیمِ بالغاں
سرحد میں خواندگی کا منصوبہ
اسی بارے میں
سوات تشدد کی دلدل میں
19 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد