اسلحہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں: عمر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں شدت پسندوں کی ایک بڑی جماعت تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ اگر حکومت فائر بندی کردے تو طالبان اسلحہ چھوڑ کر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بدھ کو نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان قبائلی علاقوں سے غیر ملکیوں کو نکالنے اور افغانستان میں مداخلت روکنے میں بھی حکومت سے تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ’اگر حکومت اپنی طاقت کا استعمال چھوڑ دے تو ہم اور طالبان بھی سمجھدار لوگ ہیں اور اپنے ملک کی بقاء اور سالمیت کو سمھجتے ہیں ۔ ہم بھی حکومت کے ساتھ مزاکرات کے لیے تیار ہیں اور کارروائیاں بند کردیں گے۔، جب ان سے پوچھا کہ حکومت کہتی ہے کہ وہ بات چیت سے مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور آپ بھی تیار ہیں تو پھر رکاوٹ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہمارے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ ان پر اوپر سے زور ہے اب یہ معلوم نہیں کہ ان کے اوپر والے کون ہیں۔ ہمارے اوپر تو اللہ ہے۔، جب ان سے پوچھا کہ آپ ثالثی کے لیے قبائلی علاقوں سے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت سے رابطہ کیوں نہیں کرتے تو مولوی عمر نے کہا کہ اصل میں حالات ایسے پیدا ہوگئے ہیں کہ ثالثوں کا بہت فقدان ہے لیکن اگر کوئی شخص سامنے آئے جو فریقین سے کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کرے اور مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسلہ کو حل کرے تو طالبان کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جب انہیں بتایا کہ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت ہے اور انہوں نے غیر مسلح شدت پسندوں سے بات چیت کے لیے جرگہ بھی بنایا ہے، کیا آپ ان سے بات کریں گے تو مولوی عمر نے کہا کہ ’تحریک طالبان نے ماضی
اسلحہ پھینکنے کے بارے میں سوال کے جواب میں مولوی عمر نے کہا کہ ’جب بات چیت کی جائے گی تو اسلحہ کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔کیونکہ اسلحہ تو جنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔تو اب انشاءاللہ ہم اسلحہ رکھ کر مزاکرات کی میز پر افہام و تفہیم سے بات کریں گے۔، جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ قبائلی علاقوں سے غیر ملکیوں کو نکالنے اور افغانستان کے اندر پاکستان سے دراندازی کو روکیں گے تو انہوں نے کہا کہ ’پاک سرزمین کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے اور اگر کوئی غیر ملکی یا خارجی ہوں گے تو انہیں نکالنے میں فوج کی مدد کریں گے۔، جب ان سے پاکستانی طالبان کی جانب سے افغانستان کے اندر جاکر شدت پسند کارروائیاں روکنے میں مدد کی تحریک طالبان کوئی گارنٹی دے گی تو مولوی عر نے کہا کہ ہاں بالکل یہاں سے افغانستان جانے کی طالبان کو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ افغانستان میں موجود طالبان طاقت ور ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کے طالبان نے مدد مانگی تو اس بارے میں عوام کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔ دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مؤقف سے پارلیمنٹ کو آگاہ کرنے کے لیے اسلام آباد آنے کے لیے تیار ہیں۔ |
اسی بارے میں خود کش حملے حرام: علماء کا فتویٰ14 October, 2008 | پاکستان اورکزئی جرگہ حملہ، ہلاکتیں اکیاون11 October, 2008 | پاکستان ’مارو جتنے شدت پسند مار سکتے ہو‘13 October, 2008 | پاکستان سوات، باجوڑ، ’تیرہ شدت پسند ہلاک‘13 October, 2008 | پاکستان پاکستانی مہاجرین کے لیے نئے کیمپ12 October, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||