BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 October, 2008, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلحہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں: عمر

مولوی عمر
طالبان قبائلی علاقوں سے غیر ملکیوں کو نکالنے اور افغانستان میں مداخلت روکنے میں بھی حکومت سے تعاون کے لیے تیار ہیں
پاکستان میں شدت پسندوں کی ایک بڑی جماعت تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے کہا ہے کہ اگر حکومت فائر بندی کردے تو طالبان اسلحہ چھوڑ کر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بدھ کو نامعلوم مقام سے بی بی سی کو فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان قبائلی علاقوں سے غیر ملکیوں کو نکالنے اور افغانستان میں مداخلت روکنے میں بھی حکومت سے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

’اگر حکومت اپنی طاقت کا استعمال چھوڑ دے تو ہم اور طالبان بھی سمجھدار لوگ ہیں اور اپنے ملک کی بقاء اور سالمیت کو سمھجتے ہیں ۔ ہم بھی حکومت کے ساتھ مزاکرات کے لیے تیار ہیں اور کارروائیاں بند کردیں گے۔،

جب ان سے پوچھا کہ حکومت کہتی ہے کہ وہ بات چیت سے مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور آپ بھی تیار ہیں تو پھر رکاوٹ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہمارے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ ان پر اوپر سے زور ہے اب یہ معلوم نہیں کہ ان کے اوپر والے کون ہیں۔ ہمارے اوپر تو اللہ ہے۔،

جب ان سے پوچھا کہ آپ ثالثی کے لیے قبائلی علاقوں سے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت سے رابطہ کیوں نہیں کرتے تو مولوی عمر نے کہا کہ اصل میں حالات ایسے پیدا ہوگئے ہیں کہ ثالثوں کا بہت فقدان ہے لیکن اگر کوئی شخص سامنے آئے جو فریقین سے کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کرے اور مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسلہ کو حل کرے تو طالبان کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

جب انہیں بتایا کہ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت ہے اور انہوں نے غیر مسلح شدت پسندوں سے بات چیت کے لیے جرگہ بھی بنایا ہے، کیا آپ ان سے بات کریں گے تو مولوی عمر نے کہا کہ ’تحریک طالبان نے ماضی

افغانستان جانے کی ضرورت ہی نہیں
 افغانستان جانے کی طالبان کو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ افغانستان میں موجود طالبان طاقت ور ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کے طالبان نے مدد مانگی تو اس بارے میں عوام کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا
مولوی عمر
میں جزوی طور پر سوات میں طالبان کو اجازت دی تھی کہ وہ مزاکرات کے ذریعے سوات کے حالات کو ٹھیک کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں ۔لیکن اس وقت سرحد حکومت ناکام ہوئی تھی اور اگر اب سرحد حکومت دوبارہ مزاکرات کرنا چاہتی ہے تو طالبان ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔،

اسلحہ پھینکنے کے بارے میں سوال کے جواب میں مولوی عمر نے کہا کہ ’جب بات چیت کی جائے گی تو اسلحہ کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔کیونکہ اسلحہ تو جنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔تو اب انشاءاللہ ہم اسلحہ رکھ کر مزاکرات کی میز پر افہام و تفہیم سے بات کریں گے۔،

جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ قبائلی علاقوں سے غیر ملکیوں کو نکالنے اور افغانستان کے اندر پاکستان سے دراندازی کو روکیں گے تو انہوں نے کہا کہ ’پاک سرزمین کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے اور اگر کوئی غیر ملکی یا خارجی ہوں گے تو انہیں نکالنے میں فوج کی مدد کریں گے۔،

جب ان سے پاکستانی طالبان کی جانب سے افغانستان کے اندر جاکر شدت پسند کارروائیاں روکنے میں مدد کی تحریک طالبان کوئی گارنٹی دے گی تو مولوی عر نے کہا کہ ہاں بالکل یہاں سے افغانستان جانے کی طالبان کو کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ افغانستان میں موجود طالبان طاقت ور ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کے طالبان نے مدد مانگی تو اس بارے میں عوام کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔

دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مؤقف سے پارلیمنٹ کو آگاہ کرنے کے لیے اسلام آباد آنے کے لیے تیار ہیں۔

طالبان ’تصویر کادوسرا رخ ‘
طالبان کی پارلیمان کو بریفنگ کا حامی کون
طالبان طالبان کا مطالبہ
’فوجی بریفنگ یک طرفہ، ہمیں بھی موقع دیا جائے‘
ملا وکیلطالبان سے مذاکرات؟
’سعودی عرب کی مدد سے طالبان سے مذاکرات‘
اسفند یار ولیطالبان کا ’اعتراف‘
’ولی باغ اور ہوتی کے گھر پر حملہ ہم نے کیا‘
’انڈیا خطرہ نہیں تھا‘
صدر زرداری کا امریکی اخبار کو انٹرویو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد