BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 October, 2008, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شدت پسندوں کو شریک کریں‘

احسن اقبال
’قبائلی علاقوں کے بارے میں موجودہ حکومتی پالیسی سے متفق نہیں‘
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ وہ منگل کو پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے سامنے شدت پسندوں کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی تجویز پیش کرے گی۔

پاکستان کی سلامتی کے امور سے متعلق پارلیمنٹ کا بند کمرے کا اجلاس پیر کو ایک رکن قومی اسمبلی کی وفات کے باعث بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کے سرگرم رکن نصراللہ بجارانی سوموار کی صبح انتقال کر گئے تھے۔ پارلیمانی روایات کے مطابق کسی بھی رکن کی وفات کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی اگلے روز تک ملتوی کر دی جاتی ہے۔

اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کے بند کمرے کے آئندہ اجلاس میں قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن بند کر کے شدت پسندوں کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی تجویز پیش کریں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت ہے اور اسے تبدیل کرنے اور اس کی متبادل نئی پالیسی کے لیے تجاویز پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

احسن اقبال نے پارلیمنٹ کی اب تک کی کارروائی پر بھی عدم اطیمنان کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ فوجی بریفنگ کے بجائے حکومتی بریفنگ کی توقع کر رہے ہیں۔ ’ایک سرکاری ادارہ پوری سرکار کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ہم قبائلی علاقوں کے بارے میں سرکاری پالیسی جاننا چاہتے ہیں نہ کہ ایک ادارے کی کارکردگی‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کا حل فوجی کارروائی نہیں ہے۔ ’اس مسئلے کا حل بموں کے ذریعے یا فوج کے ذریعے نہیں نکلے گا۔ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس طرح کی دہشت گردی کے خلاف فوجی ایکشن کی کامیابی کی شرح صرف سات فیصد ہے۔ سب سے کامیاب طریقہ انہیں سیاسی عمل میں شریک کرنا ہے‘۔

 اس مسئلے کا حل بموں کے ذریعے یا فوج کے ذریعے نہیں نکلے گا۔ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اس طرح کی دہشت گردی کے خلاف فوجی ایکشن کی کامیابی کی شرح صرف سات فیصد ہے۔ سب سے کامیاب طریقہ انہیں سیاسی عمل میں شریک کرنا ہے

واضح رہے کہ حکومت صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے صورتحال کے بارے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پالیسی امور سے متعلق بریفنگ دے رہی ہے جس کا اہتمام صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔

اجلاس کے پہلے مرحلے میں پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی تفصیل سے ارکان پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا۔ ویڈیو فلمز اور سلائیڈز کے ذریعے دی جانے والی اس بریفنگ میں فوجی آپریشن اور مسلح شدت پسندوں کی کارروائیوں کے بارے میں ارکان کو بتایا گیا۔

پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس کے آغاز ہی میں سپیکر قومی اسمبلی نے تمام حاضرین سے رازداری کا حلف لیا تھا، لہذٰا اجلاس کی کارروائی کے بارے میں مستند حقائق تو دستیاب نہیں ہو سکے تاہم کہا جاتا ہے کہ اس بریفنگ کا سب سے نمایاں پہلو وہ مبینہ حقائق تھے جو شدت پسندوں کے خودکش حملوں کے پیچے کارفرما حکمت عملی اور عزائم سے متعلق ہیں۔

مسلم لیگ نواز اور حزب اخلاف کی دیگر جماعتوں کے مطالبے پر حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی پہلے سے طے شدہ کارروائی میں ترمیم کرتے ہوئے سوموار کو ارکان کے لیے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں حکومت کی پالیسی اور حکمت عملی پر بریفنگ کا انتظام کیا تھا۔

پالیسی معاملات پر اس جامع بریفنگ کے بعد ارکان پارلیمنٹ کو اس پر بحث کا موقع دیا جائے گا اور ملک کو درپیش سنگین داخلی مسائل پر ان کی تجاویز بھی طلب کی جائیں گی۔

اس موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور بالخصوص پارلیمنٹ کو جانے والی شاہراہ دستور اور دیگر سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

لشکرِلشکروں کے بعد کیا؟
کیا لشکر بنانے کی پالیسی کارگر ہو گی؟
طالبان طالبان کا مطالبہ
’فوجی بریفنگ یک طرفہ، ہمیں بھی موقع دیا جائے‘
قومی اسمبلی(فائل فوٹو)نظریں پارلیمان پر
پالیسی کہ سانپ بھی مر جائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد