ڈاکٹر عافیہ، بچوں کی رہائی کی امید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر افغانستان میں مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کے الزام میں نیویارک میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی بہن کے دیگر دو بچے بھی افغانستان سے جلد بازیاب ہو جائیں گے۔ تاہم ڈاکٹر فوزیہ نے واضع کیا کہ انہیں امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کو انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے بارہ سالہ بیٹے محمد احمد کی افغانستان سے واپسی کے بعد پہلی مرتبہ اسلام آباد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ وہ اپنے بھانجے کو میڈیا کے سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش نہیں کریں گی کیونکہ ان کے بقول ’اس کی ذہنی حالت کافی تشویشناک ہے۔‘ ’اسے راتوں کو خوفناک خواب ستاتے ہیں۔ وہ راتوں کو چیخ کر اٹھ جاتا ہے۔ وہ جن حالات سے گزرا ہے انہیں مدنظر رکھتے ہوئے اس کی حالت قابل فہم ہے۔ وہ ایک بے چین روح بن چکا ہے۔‘ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ بھی اپنی آزادی کی خاطر بیٹے کو قربان کرنے کو تیار نہ ہوتیں۔ ’یہ ضروری ہے کہ اسے محبت اور خلوص ملے۔ اسے ان سوالات سے دور رکھا جائے جو اسے اس کے خوفناک ماضی میں دھکیل دیں۔ یہ ضروری ہے کہ اسے طبی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ ایک مستقل ذہنی مریض نہ بننے پائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ میڈیا ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ان سے بات کرنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ صحافی ان کی تشویش اور بچے کی سلامتی کو مقدم رکھیں گے۔ اپنی بہن اور اس کے بچوں کی بازیابی کی مہم چلانے والی ڈاکٹر فوزیہ نے امید کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کے باقی دو بچے بھی جلد افغانستان سے بازیاب ہو جائیں گے تاہم انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ ان بچوں کی بازیابی میں بھی ان کی مدد کی جائے۔ ’وہ دو بچے اور جو بھی غیرقانونی حراست میں ہیں ان کی رہائی میں مدد کریں۔ حکومت انہیں واپس لانے کا وعدہ پورا کرے گی۔‘ صحافیوں کے ان سوالات کا انہوں نے جواب نہیں دیا کہ ان پر میڈیا سے باتوں پر پابندی کس نے لگائی تھی۔ احمد کی واپسی پر ڈاکٹر فوزیہ پریس کانفرنس کرنا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ خیال ہے کہ حکومت کے کہنے پر انہوں نے ایسا کیا۔ یہ اخباری کانفرنس بھی ڈاکٹر فوزیہ کی مشیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ ایک روز قبل طویل ملاقات کے بعد منعقد کی گئی۔ کافی خوش دکھائی دینے والے ڈاکٹر فوزیہ سے جب پوچھا کہ وہ اس اسٹیبلشمنٹ کا شکریہ ادا کر رہی ہیں جن کا ان کے خاندان کی مشکلات میں ہاتھ ہو سکتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ تو ایک جمہوری حکومت کا شکریہ ادا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ماضی میں پھنسی رہیں تو کہیں وہ دو بچے جن میں سے ایک لڑکی کی عمر نو سال ہونے کو ہے اور شدید بیمار ڈاکٹر عافیہ کو ہی نہ کھو دیں۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹرعافیہ، بیٹا خالہ کے حوالے15 September, 2008 | پاکستان عافیہ شدید ذہنی دباؤمیں: ڈاکٹر13 September, 2008 | پاکستان عافیہ، منگل کو عدالت میں پیشی 05 August, 2008 | آس پاس عافیہ کا عدالت میں ایک دن06 August, 2008 | آس پاس ڈاکٹر عافیہ کا الزامات سے انکار06 August, 2008 | آس پاس القاعدہ سے تعلق کا الزام نہیں03 September, 2008 | آس پاس عدالت میں پیش ہونے سے انکار05 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||