BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 08:48 GMT 13:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی حملے لاحاصل: وزیر دفاع

 احمد مختار
معلوم نہیں کہ اسامہ زندہ ہیں: احمد مختار
پاکستانی وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے کہا ہے کہ پاکستانی حدود میں امریکی حملوں سے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔

سنیچر کے روز مذہبی امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر حامد سعید کاظمی کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کے خیال میں اگر اُسامہ بن لادن گرفتار بھی ہو جاتا ہے تو اُس کا اثر امریکہ میں اس سال ہونے والے صدارتی انتخابات پر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے سربراہ کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مرچکے ہیں۔

چوہدری احمد مختار نے کہا کہ ملکی سرحدوں کا دفاع ہر حال میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ دفاع صرف تلوار سے ہی کیا جا سکتا ہے، مذاکرات سے بھی ملکی سرحدوں کا دفاع یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ صرف گزشتہ چھ دنوں کے دوران امریکی طیاروں نے پاکستانی علاقوں میں گھس کر بمباری کی جس سے ساٹھ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور پاکستان نے ان حملوں پر بھرپور احتجاج بھی کیا ہے۔

دفاع صرف تلوار سے نہیں
 چوہدری احمد مختار نے کہا کہ ملکی سرحدوں کا دفاع ہر حال میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ دفاع صرف تلوار سے ہی کیا جا سکتا ہے، مذاکرات سے بھی ملکی سرحدوں کا دفاع یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شدت پسند پاکستانی حدود میں پناہ لیے ہوئے ہیں تو اُن کے خلاف کارروائی پاکستانی افواج یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کر سکتے ہیں اور کسی کو بھی سرحد پار حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو نظر انداز کرکے دہشت گردی کے جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

چوہدری احمد مختار نے کہا کہ اگر امریکہ کے پاس ایسی کوئی اطلاعات ہیں کہ کچھ شدت پسند پاکستانی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں تو وہ پاکستانی حکام کو اس کے متعلق آگاہ کرے اور پاکستانی افواج اُن شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ 80 ہزار پاکستانی فوج افغان بارڈر کے ساتھ تعینات ہیں جبکہ اُس علاقے میں نو سو کے قریب چیک پوسٹ ہیں اور پاکستان اس علاقے میں صورتحال کو بہتر انداز میں کنٹرول کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نے چند ررز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کی حاکمیت اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور کسی بھی غیرملکی فوج کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مذہبی امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر حامد سعید کاظمی نے کہا کہ وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات میں حج سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری احمد مختار نے یقین دلایا ہے کہ حاجیوں کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

پرویز اشرف کیانیحکومت کے’ماتحت‘
’جمہوری قیادت کے ماتحت سالمیت کا دفاع‘
امریکی انٹیلیجنس
امریکی فضا میں، زمین پر پاکستان مضبوط
فوجی ہیلی کاپٹر(فائل فوٹو)11 ستمبراور پاکستان
دہشت گردی کے خلاف جنگ سرحد کی دہلیز پر
جلال الدین حقانی(فائل فوٹو)حقانی ایک’اہم ہدف‘
’طالبان پر حقانی کا اثر میزائل حملے کی اہم وجہ‘
پشاور میں دھماکہ
کار بم دھماکے میں متعدد ہلاکتیں: تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد