امریکی حملے لاحاصل: وزیر دفاع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے کہا ہے کہ پاکستانی حدود میں امریکی حملوں سے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ سنیچر کے روز مذہبی امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر حامد سعید کاظمی کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کے خیال میں اگر اُسامہ بن لادن گرفتار بھی ہو جاتا ہے تو اُس کا اثر امریکہ میں اس سال ہونے والے صدارتی انتخابات پر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے سربراہ کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مرچکے ہیں۔ چوہدری احمد مختار نے کہا کہ ملکی سرحدوں کا دفاع ہر حال میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ دفاع صرف تلوار سے ہی کیا جا سکتا ہے، مذاکرات سے بھی ملکی سرحدوں کا دفاع یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ صرف گزشتہ چھ دنوں کے دوران امریکی طیاروں نے پاکستانی علاقوں میں گھس کر بمباری کی جس سے ساٹھ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور پاکستان نے ان حملوں پر بھرپور احتجاج بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو نظر انداز کرکے دہشت گردی کے جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ چوہدری احمد مختار نے کہا کہ اگر امریکہ کے پاس ایسی کوئی اطلاعات ہیں کہ کچھ شدت پسند پاکستانی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں تو وہ پاکستانی حکام کو اس کے متعلق آگاہ کرے اور پاکستانی افواج اُن شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ 80 ہزار پاکستانی فوج افغان بارڈر کے ساتھ تعینات ہیں جبکہ اُس علاقے میں نو سو کے قریب چیک پوسٹ ہیں اور پاکستان اس علاقے میں صورتحال کو بہتر انداز میں کنٹرول کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی نے چند ررز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کی حاکمیت اور سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور کسی بھی غیرملکی فوج کو پاکستان کی حدود میں آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مذہبی امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر حامد سعید کاظمی نے کہا کہ وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات میں حج سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری احمد مختار نے یقین دلایا ہے کہ حاجیوں کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں ’غیر ملکی فوج کو اجازت نہیں‘11 September, 2008 | پاکستان ’سالمیت کا دفاع، نئی قیادت کےتحت‘12 September, 2008 | پاکستان چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ12 September, 2008 | پاکستان ’پاکستانی اجازت ضروری نہیں‘11 September, 2008 | پاکستان ایک اور امریکی حملہ، بارہ ہلاک12 September, 2008 | پاکستان ’دونوں کا ایجنڈہ پاکستان مخالف ‘12 September, 2008 | پاکستان حکومتی سرپرستی میں جہاد ’ختم‘11 September, 2008 | پاکستان بیت اللہ کے’ساتھی‘ کی دوبارہ گرفتاری12 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||