BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 September, 2008, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دونوں کا ایجنڈہ پاکستان مخالف ‘

گورنر نے پولیس والوں کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی
صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج اور ملک کے اندرسرگرم مبینہ عسکریت پسند پاکستان مخالف ایجنڈے کے تحت ملک کو کمزور کرنے کی ایک جیسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

گورنر نے یہ بات جمعرات کو ہنگو میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کے تین اہلکاروں کے اغواءکے واقعے پر گورنر ہاؤس پشاور سے جاری ہونے والے ایک مذمتی بیان میں کہی ہے۔

صوبہ سرحد کے گورنراویس احمد غنی نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک طرف افغانستان میں تعینات اتحادی فوج جنگ کو پاکستان کے اندر حملوں کی دھمکیاں دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف مبینہ عسکریت پسندوں نے پاکستان پر روزانہ حملوں کے ذریعے اپنے ہی ملک کے اندر ایک جنگی صورت حال پیدا کردی ہے جس کےنتیجے میں معصوم لوگوں کی ہلاکت ایک معمول بن گیا ہے۔

گورنر نے مزید کہا ہے کہ’ اس صورتحال سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ دونوں قوتیں پاکستان مخالف ایجنڈے پر کاربند ہیں اور اس ملک کو کمزور کرنے کے حوالے سے ایک جیسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔‘

تاہم گورنر کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہےان کے بقول’ ہم پاکستانی سرزمین اور عوام کے تحفظ کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور دشمن قوتوں کو بہت جلد ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

یاد رہے کہ جمعرات کو طالبان نے اغواء کیے جانے والے پچیس پولیس اہلکاروں میں سے دو اہلکاروں کا سرقلم کرکے ان کی لاشیں ضلع ہنگو کے علاقے شاہو وام میں پھینک دی تھیں۔ درہ آدم خیل کے طالبان ان اہلکاروں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

تاہم محض دو اہلکاروں کی ہلاکت پر آج تک گورنر ہاؤس سے اسطرح کا سخت بیان سامنے نہیں آیا ہے اور پہلی مرتبہ اتنے اعلی حکومت اہلکار نے پاکستانی طالبان اورافغانستان میں اتحادی افواج کے ایجنڈے اور حکمت عملی کو ایک سمجھ کر انہیں پاکستان مخالف قوتیں قرار دینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اس بیان کو امریکی فوج کےسربراہ کی جانب سے پاکستان کے اندر مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے اور پاکستان فوج کے سربراہ کی طرف سے ملک کے سرحدات کی حفاظت اور کسی کو کارروائی کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے اٹھنے والی نئی بیان بازی کے پس منظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں
باجوڑ جھڑپوں میں چوبیس ہلاک
10 September, 2008 | پاکستان
سرحد اسمبلی کے رکن ہلاک
10 September, 2008 | پاکستان
سوات: گیارہ طالبان ہلاک
10 September, 2008 | پاکستان
باجوڑ میں بیس جنگجو ہلاک
11 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد