محمد میاں سومرو قائم مقام صدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے انتہائی شدید سیاسی دباؤ کے نتیجے میں اپنے عہدے سے پیر کی دوپہر مستعفی ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
دوسری طرف حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس پیپلز پارٹی کے قائم مقام چیئرمین آصف علی زرداری کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ججوں کی بحالی کے لیے مشاورت کی گئی۔ پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام کو ایوان صدر میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں صدر کوگارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔ پرویز مشرف کی طرف سے سپیکر نیشنل اسمبلی ڈاکٹر فہمید مرزا کو بھجویا گیا استعفیٰ سوموار کی شام کو ہی قبول کر لیا گیا اور یوں مشرف کا نو سالہ دورے اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ اس سے قبل پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نےیہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا تھا۔ ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذا جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ بحران سے پاکستان کو نکالنےکی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ صدر مشر ف نے فوج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے کردار کو سراہا اور انہیں سیلوٹ کیا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی والدہ کی دعائیں، بچوں اور بیگم کی مدد ان کی طاقت ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر سن انیس ننانوے کو بغیر کسی خون خرابے کے فوج کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو حراست میں لے لیا تھا۔
پیر کو ان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ان کے آٹھ سال دس ماہ اور چھ روزہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صدر مشرف فی الحال پاکستان میں ہی رہیں گے۔ صدر پرویز مشرف اپنے پیشرو فوجی صدر ضیاءالحق کے طویل اقتدار یعنی گیارہ سال حکمرانی کا ریکارڈ توڑ نہیں سکے۔ تاہم دونوں فوجی صدور کے لیے اگست کا مہینہ بھاری پڑا۔ ضیاء الحق سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے جبکہ صدر مشرف نے اٹھارہ اگست کو استعفیٰ دیا۔ صدر کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پی ٹی وی انتظامیہ نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے تقریر ریکارڈ کروائیں جس پر ایوان صدر نے اعتراض کیا اور نجی ٹی وی چینلوں کو براہ راست تقریر کے لیے بلا لیا۔ جس کے بعد پی ٹی وی نے بھی براہ راست تقریر نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرنے کا فیصلہ پی ٹی وی کے نئے ٹاپ مینیجر نے کیا۔ | اسی بارے میں سندھ میں بھی ’گو مشرف گو‘13 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل14 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان سیاہی پر روشن خیالی کا پوڈر17 August, 2008 | پاکستان صدر کی رٹ ختم ہو چکی ہے: ربانی17 August, 2008 | پاکستان ’مشرف کوپناہ دینے کی تجویز نہیں‘17 August, 2008 | پاکستان مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز 16 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||