مذاکرات کا اگلا دور جولائی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے جامع مذاکرات کے چوتھے مرحلے کی بات چیت کے نتائج پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے پانچواں مرحلہ جولائی کے وسط میں دلی میں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کے قیدیوں کی شناخت کے بعد ان کی فوری رہائی میں مدد دینے کے لیے سفارتی رسائی کے معاہدے پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔ مذاکرات کے پانچویں مرحلے کے بارے میں اعلان پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے بدھ کو اپنی ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز بریفنگ میں کیا۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ دونوں نے ون ٹو ون بات چیت بھی کی اور وفود کی سطح پر باضابطہ مذاکرات بھی کیے۔ قبل ازیں دونوں ممالک کے ہائی کمشنرز نے اپنے اپنے ممالک کے قیدیوں تک سفارتکاروں کو رسائی دینے کے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے۔ پریس کانفرنس میں شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ کشمیر سمیت بعض اہم موضوعات پر خاطر خواہ پیش رفت تو تاحال نہیں ہو سکی لیکن انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب کی اس بارے میں توجہ مبذول کرائی ہے اور دونوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ چوتھے مرحلے کی بات چیت میں ہونے والی پیش رفت سے مطمئن ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول جامع مذاکرات کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی ہے اور غلط فہمیاں کم ہوئیں ہیں۔
پرنب مکھرجی کا زیادہ زور دہشت گردی اور تشدد کے خاتمے اور تجارت بڑھانے پر رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ سرحدی معاملات پر اختلافات سے تجارت پر فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اس بارے میں چین اور ہندوستان کی مثال پیش کی اور کہا کہ دونوں ممالک میں باہمی تجارت چالیس ارب ڈالر ہوچکی ہے اور اب اس کا ہدف ساٹھ ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر بتایا کہ تجارت بڑھانے پر تفصیلی بات ہوئی ہے اور ایک دوسرے کے ممالک میں سرمایہ کاری کرنے اور سرمایہ کاروں کو سہولیات دینے کے لیے دوستانہ ماحول پیدا کرنے پر بات ہوئی ہے۔ ’پرنب مکھرجی نے کہا کہ دنیا عالمگیریت کی طرف بڑھ رہی ہے، ہمیں بھی آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں سیمنٹ چاہیے اور پاکستان میں سیمنٹ اضافی ہے‘۔شاہ محمود قریشی نے بھی ان سے اتفاق کیا اور بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی دو طرفہ تجارت اب دو ارب ڈالر کی حد کو چھو رہی ہے۔ جب پرنب مکھرجی سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہم تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم رکھتے ہیں‘ جبکہ پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’کشمیر کے بارے میں اعتماد سازی کے اقدامات کا کشمیری عوام کو فائدہ ہوا ہے لیکن ہمیں مذاکرات میں کشمیر پر پیش رفت کرنی ہوگی‘۔ سیاچن اور سرکریک کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بات چیت میں بہت پیش رفت ہوئی ہے اور انہیں عنقریب ان معاملات کے حل کی جانب مزید پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔ اس بارے میں بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ سیاچن اور سرکریک کے بارے میں اب کچھ معاملات تصفیہ طلب ہیں اور ان میں وقت لگ رہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پاکستان میں جمہوری حکومت ہے اور ایک سازگار ماحول ہے۔’ پاکستان میں ایسی حکومت ہے جس کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے اور اونرشپ ایلیمینٹ جو پہلے شاید نہ تھا اب دکھائی دے رہا ہے،۔ دونوں وزراء خارجہ نے دہشت گردی سے مل کر نمٹنے اور خطے میں فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعائدہ بھی کیا۔ دونوں نے کہا کہ ایران سے انڈیا تک گیس پائپ لائن ضروری ہے اور اس بارے میں دونوں ممالک معاملے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ رواں سال پاکستان کا دورہ کریں گے اور وہ چاہتے ہیں ان کی آمد سے قبل بعض معاملات پر پیش رفت ہوجائے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک انڈیا جوائنٹ کمیشن کا اجلاس جولائی کے آخری ہفتے میں ہوگا جبکہ وہ جون میں دلی کا دورہ کریں گے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کی نئی حکومت کشمیر کے بارے میں صدر پرویز مشرف کی پیش کردہ تجاویز کی حمایت کرتی ہے تو شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی حکومت ان تجاویز کا اعادہ کرتی ہے۔ پرنب مکھرجی نے ایک موقع پر کہا ’میں بہت اطمینان کے ساتھ واپس جا رہا ہوں اور نئی حکومت کے سٹرانگ کمٹمنٹ سے بھی مطمئن ہوں‘۔ |
اسی بارے میں قیدیوں تک رسائی کا معاہدہ’تیار‘20 May, 2008 | پاکستان مذاکراتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق 20 May, 2008 | پاکستان کشمیر:فائربندی کی خلاف ورزی14 May, 2008 | انڈیا کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک17 May, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی پر بات چیت ہوگی‘14 May, 2008 | انڈیا خالد کی ہلاکت، خیر سگالی متاثر12 March, 2008 | پاکستان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پرافسوس20 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||