BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 March, 2008, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی دھماکہ، ایف سی اہلکار ہلاک

سکیورٹی اہکار
ڈیرہ بگٹی میں پٹ فیڈر کے قریب سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرائی ۔پیر کوہ کے علاقے میں بھی تین راکٹ داغے گئے ہیں ۔
سوئی کے قریب سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی ہے جس سے ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ پیرکوہ کے علاقے میں تین راکٹ داغےگئے ہیں لیکن وہاں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

دوسری جانب سابق وزیر اعلٰی سردار اختر مینگل کی رہائی کے لیے بھی بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں ۔

ادھر آج بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے سابق وزیر اعلٰی سردار اختر مینگل کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ یاد رہے کہ سردار اختر مینگل کو خرابی صحت کے باوجود کراچی جیل میں رکھا گیا ہے اور انھیں ہسپتال میں داخل نہیں کیا جا رہا۔ اختر مینگل کو نومبر دو ہزار چھ میں حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں کراچی میں اغواء کے مقدمے میں باقاعدہ طور پر گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے کہا ہے کہ انھوں نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول دھماکے سے حملہ کیا ہے جس میں فورسز کا جانی نقصان کہیں زیادہ ہوا ہے۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم مرکزی رہنما چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین آج کوئٹہ پہنچے ہیں تاکہ پارٹی میں اختلافات ختم کراکے وزارت اعلٰی کے لیے متفقہ امیدوار سامنے لایا جا سکے۔ مشاہد حسین نے ائیر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور دیگر صوبوں میں حکومت سازی کے لیے جو فارمولا ہے وہی بلوچستان میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔

بلوچستان میں قاف لیگ کی طرف سے سابق وزیر اعلٰی جام محمد یوسف، سردار یار محمد رند، جعفرمندوخیل اور عاصم کرد وزارت اعلٰی کے امیدوار ہیں۔ قاف لیگ کے امیدواروں کی تعداد پندرہ ہے لیکن تاحال کسی جماعت یا آزاد امیدوار نے ان کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی اور آزاد اراکین نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کو اب اٹھارہ امیدواروں کی حمایت حاصل ہے۔

خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کے اعلان کے بعد پینسٹھ ارکان کے ایوان میں حکومت سازی کے لیے کم سےکم تینتیس ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ اس وقت جمعیت علماء اسلام کے سات اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے پانچ اراکین ہیں جو حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ادھر اسلام آباد میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے قائدین نے پیپلز پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے رہنماؤں سےملاقاتیں کی ہیں۔

جمعیت کے رہنما مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک میں قومی حکومت تشکیل پا جائے جس کے لیے بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان کی اس تجویز کا اب تک جواب نہیں دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں جمعیت حکومت بنائے۔

اختر مینگلبلوچوں سے معافی
مالک جی ایچ کیو، معافی بے اختیاروں کی کیوں؟
سردار منگل’مسئلہ سادہ سا ہے‘
’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘
بلوچ کہانی - 5
ایک بار پھر عسکری کارروائیوں کی راہ کیوں؟
جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچآزاد کمیشن ضروری
’الیکشن کمیشن منصفانہ ہونا چاہیے‘
کارروائی یا منصوبہ؟
بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد