BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پیسے دو گے تو سکیورٹی ملےگی‘

فائل فوٹو
خط میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ پیسے ادا کردیں تو اسکے بدلےانہیں سکیورٹی فراہم کی جاسکتی ہے۔
جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پنجاب کی وزارت داخلہ کی جانب سے ارسال کیے گئےاس خط کو ایک مضحکہ خیز عمل قرار دیا ہے جس میں انہیں پیسوں کی ادائیگی کے عوض سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے دعوٰی کیا کہ انہیں پنجاب کے ہوم ڈیپارٹنمنٹ کی طرف سے سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ پیسے ادا کر دیں تو اس کے بدلے انہیں سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے۔

ان کے بقول’ ایک طرف حکومت سیاسی جماعتوں کے لیے سکیورٹی ایڈوائس جاری کر رہی ہے تو دوسری طرف اس کی اپنی سکیورٹی اتنی مضحکہ خیز ہے کہ وہ پیسوں کے بدلے سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کر رہی ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت سیاستدانوں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہے‘۔

انہوں نے نگران وزیر داخلہ لیفٹنٹ جنرل(ر) حامد نواز کو’ کرایے‘ کا وزیر قرار دیتے ہوئے ان کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے صوبہ سرحد میں بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن کی ذمہ داری متحدہ مجلس عمل کی سابقہ صوبائی حکومت پر عائد کی تھی۔

مولانا فضل الرحمن نے الزام لگایا کہ صدر مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک خانہ جنگی اور انارکی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ نگران حکومت غیر جانبدارانہ انتخابات کروانے کی بجائے متحدہ مجلس عمل کیخلاف بیانات جاری کررہی ہے۔

حکومت کی پابندیاں
 حکومت اس طریقے سےہمارے نقل و حرکت اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کردیں تاکہ ہم بھر پور طریقے سے اپنی انتخابی کمپئین نہ چلاسکیں۔ ‘
مولانا فضل الرحمن، جمیعت علماء اسلام کے سربراہ

انہوں نے کہا کہ’متحدہ مجلس عمل کے چار سالہ دور حکومت میں صوبہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی مگر آخری سال کے دوران جب مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں مزاحمت بڑھ گئی تو اب ’کرائے‘ کے نگران وزیر داخلہ اسکا ملبہ اور اپنا کالک ایم ایم اے کے چہرے پر ملنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر سیاسی جماعتیں سکیورٹی ایڈوائس پر کاربند نہیں رہتیں تو کل اگر کسی قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو کیا اس کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر عائد نہیں ہوگی، مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ’اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے اور اس کی منصوبہ بندی بھی حکومتی ایجنسوں نے کی ہوتی ہے تو ان کے پلان میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ اپنے کیے کی ذمہ داری متاثرہ لوگوں پر ڈال دی جائے‘۔

مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی جانب سے ان پر خودکش حملہ ہونے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اس قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے تاہم وہ خود اپنے طور احتیاط برت رہے ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ’حکومت اس طریقے سےہمارے نقل و حرکت اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کردیں تاکہ ہم بھر پور طریقے سے اپنی انتخابی مہم نہ چلاسکیں‘۔

’مشرف بینظیر ڈیل‘
بینظیر کی ترجیحات بدل گئیں: فضل الرحمان
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن (فائل فوٹو)ایم ایم اے کا امتحان
بلوچستان میں حکومت سے علیحٰدگی کیلیے دباؤ
مولانا فضل الرحمنمولانا کا دل
لاہور میں مولانا فضل الرحمن کے دل کا چرچا
ایم ایم اے کا امتحان
استعفے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پانچ دسمبر کو
پہ خیر راغلے
زرداری کو لاہور کے بجائے پشاور اترنے کی پیشکش
اسی بارے میں
پرانی اسمبلی سے نیا صدر
22 September, 2007 | پاکستان
’ہر قربانی کے لیے تیار ہیں‘
24 September, 2007 | پاکستان
کرزئی کا فضل الرحمان کو خط
29 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد