’پیسے دو گے تو سکیورٹی ملےگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پنجاب کی وزارت داخلہ کی جانب سے ارسال کیے گئےاس خط کو ایک مضحکہ خیز عمل قرار دیا ہے جس میں انہیں پیسوں کی ادائیگی کے عوض سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے دعوٰی کیا کہ انہیں پنجاب کے ہوم ڈیپارٹنمنٹ کی طرف سے سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ پیسے ادا کر دیں تو اس کے بدلے انہیں سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول’ ایک طرف حکومت سیاسی جماعتوں کے لیے سکیورٹی ایڈوائس جاری کر رہی ہے تو دوسری طرف اس کی اپنی سکیورٹی اتنی مضحکہ خیز ہے کہ وہ پیسوں کے بدلے سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کر رہی ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت سیاستدانوں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہے‘۔ انہوں نے نگران وزیر داخلہ لیفٹنٹ جنرل(ر) حامد نواز کو’ کرایے‘ کا وزیر قرار دیتے ہوئے ان کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے صوبہ سرحد میں بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن کی ذمہ داری متحدہ مجلس عمل کی سابقہ صوبائی حکومت پر عائد کی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے الزام لگایا کہ صدر مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک خانہ جنگی اور انارکی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ نگران حکومت غیر جانبدارانہ انتخابات کروانے کی بجائے متحدہ مجلس عمل کیخلاف بیانات جاری کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’متحدہ مجلس عمل کے چار سالہ دور حکومت میں صوبہ سرحد میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی مگر آخری سال کے دوران جب مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں مزاحمت بڑھ گئی تو اب ’کرائے‘ کے نگران وزیر داخلہ اسکا ملبہ اور اپنا کالک ایم ایم اے کے چہرے پر ملنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر سیاسی جماعتیں سکیورٹی ایڈوائس پر کاربند نہیں رہتیں تو کل اگر کسی قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو کیا اس کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر عائد نہیں ہوگی، مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ’اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے اور اس کی منصوبہ بندی بھی حکومتی ایجنسوں نے کی ہوتی ہے تو ان کے پلان میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ اپنے کیے کی ذمہ داری متاثرہ لوگوں پر ڈال دی جائے‘۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی جانب سے ان پر خودکش حملہ ہونے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اس قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے تاہم وہ خود اپنے طور احتیاط برت رہے ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ’حکومت اس طریقے سےہمارے نقل و حرکت اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کردیں تاکہ ہم بھر پور طریقے سے اپنی انتخابی مہم نہ چلاسکیں‘۔ |
اسی بارے میں ’شفاف الیکشن وگرنہ بائیکاٹ‘03 December, 2007 | پاکستان ’سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت‘21 October, 2007 | پاکستان پرانی اسمبلی سے نیا صدر22 September, 2007 | پاکستان ’ہر قربانی کے لیے تیار ہیں‘24 September, 2007 | پاکستان مولانا فضل الرحمن کے دل کا چرچا06 February, 2007 | پاکستان کرزئی کا فضل الرحمان کو خط29 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||