مولانا فضل الرحمن کے دل کا چرچا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان دنوں لاہور میں حکومتِ پنجاب کے مہمان مولانا فضل الرحمن کے دل کا چرچا ہے۔ مولانا جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ وہ لاہور میں سات کلب روڈ پر رہائش پذیر ہوئے جو کبھی وزیراعلیٰ پنجاب کی سرکاری قیام گاہ اور مرکزی دفتر تھا۔ اب وزیراعلیٰ کا دفتر آٹھ کلب روڈ پر منتقل ہوچکا ہے۔ سات کلب روڈ پر وزیراعلیٰ کا مددگار سٹاف بیٹھتا ہے اور اس کے کمرے مہمان خانے کا کام دیتے ہیں۔ یکم فروری کو لاہور کے ایک مہنگے نجی طبی ادارے ڈاکٹرز ہسپتال میں مولانا کے دل کا معائنہ ہوا تو پتہ چلا کہ ان کے دل کی ایک شریان بند ہے۔ اسی شہر میں حکومت کے تحت چلنے والا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی ہے جہاں عوام الناس کے دل کا علاج ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے ذاتی دوست اور معالج ڈاکٹر مبشر احمد کو امریکہ سے بلوایا گیا کہ وہ مولانا کے دل کی ڈاکٹرز ہسپتال میں انجیو پلاسٹی کریں۔ انہوں نے کامیابی سے مولانا کے دل میں سٹنٹ ڈالے۔ سابق صدر فاروق لغاری، سینٹ میں قائد ایوان وسیم سجاد اور چئیرمین سینٹ میاں محمد سومرو کے ساتھ ساتھ وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ بھی مولانا کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے۔ پرویز الہیٰ نے مولانا سے بے تکلف باتیں کیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے مولانا کے دل کی سرجری کے بعد ان سے کہا کہ ’اب آپ کٹے کھانے چھوڑ دیں‘۔ پنجاب میں نوجوان بھینسے کو کٹا کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے جو مولانا فضل الرحمن کو ہسپتال کے نیلے کپڑے پہنے دیکھا تو جملہ کسا کہ اپوزیشن ایک یونیفارم پر اعتراض کرتی ہے آپ نے دو یونیفارم پہنے ہوئے ہیں اور دونوں سیاسی رہنما کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
عیادت کے بعد پرویز الہیٰ نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سے ان کے خاندان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کی طبیعیت ناساز ہے اور وہ انجیوگرافی کرانا چاہتے ہیں تو انہوں نے مولانا کو دعوت دی کہ وہ علاج کے لیے لاہور تشریف لائیں۔ امریکہ سے خصوصی طور پر آنے والے معالج ڈاکٹر مبشر احمد کے سرجری کرنے سے مولانا فضل الرحمن تو ہشاش بشاش ہوگئے لیکن اسی دوران میں سوئے اتفاق سے ڈاکٹر مبشر احمد کے والد چودھری اسلم احمد ڈسکہ میں انتقال کرگئے۔ وصیت کے مطابق ان کی تدفین چناب نگر (ربوہ) میں احمدیہ قبرستان بہشت خضریہ میں کی گئی۔ مولانا فضل الرحمن کے دل کی سرجری سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ وہ بڑے دل کے آدمی ہیں۔ مولانا قائد حزب اختلاف تو ہیں لیکن سرکاری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونا پسند کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسی جماعت کے سربراہ ہیں جو احمدیوں کے خلاف مہم چلانے والوں میں پیش پیش ہے لیکن وہ اپنا علاج اسی مسلک سے تعلق رکھنے والے معالج سے کراسکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں فضل الرحمن کی عدالت پرتنقید 07 August, 2005 | پاکستان فضل الرحمٰن قائد حزب اختلاف مقرر25 May, 2004 | پاکستان مولانا فضل الرحمٰن کی مشکلات20 August, 2005 | پاکستان فضل الرحمٰن واپس پاکستان پہنچ گئے02 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||