جسٹس رانا بھگوان داس ’نظر بند‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے سابق جسٹس سپریم کورٹ رانا بھگوان داس کو سنیچر کو اُن کی رہائش گاہ پر ’نظر بند‘ کردیا۔ پولیس کا یہ اقدام اُن کی کراچی بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے فوری بعد کیا گیا ہے۔ رانا بھگوان داس کی اہلیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے رانا بھگوان داس کو گھر کے دروازے پر روک کر کہا کہ ’آپ نظر بند ہیں اور کہیں نہیں جاسکتے ہیں‘۔ مسز بھگوان داس کا کہنا تھا کہ پولیس نے تاحال نظربندی کے کوئی تحریری احکامات نہیں دیئے ہیں جبکہ رانا بھگوان داس کی صحت ایسی ہے کہ اُنہیں اکثر ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا ہے اور اُن کی صحت کے لیے تازہ ہوا میں چہل قدمی بھی ضروری ہے۔ تاہم جب اس سلسلے میں ایس پی کلفٹن ٹاؤن آصف اعجاز سے رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے رانا بھگوان داس کی نظر بندی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالیہ حالات کی وجہ سے اُن کی سکیورٹی بڑھائی گئی ہے اور یہ اقدام اعلیٰ افسران کے احکامات کی روشنی میں اُٹھایا گیا ہے۔ ایک سوال پر کہ اور کتنی اعلیٰ شخصیات کی اس اندازسے سکیورٹی بڑھائی گئی ہے تو آصف اعجاز کا کہنا تھا کہ صرف رانا بھگوان داس کے لیے یہ ہدایت دی گئی ہے۔ قبل ازیں رانا بھگوان داس نے کراچی بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ سے حلف لیا۔ یہ تقریب پی سی او کے نفاذ کے بعد پہلی بڑی تقریب مانی جارہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا بھگوان داس کا کہنا تھا کہ وکلاء تھوڑے عرصے کے لیے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ابھی پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کے سامنے پیش نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی یہ نظام تبدیل ہوجائےگا اور عدلیہ واپس اپنے وقار کے ساتھ بحال ہوجائے گی۔ جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگواں داس نے کہا کہ حکمرانوں کی غیر اصولی باتوں کو نہ ماننے کی وجہ سے انہوں نے عدلیہ کی بساط لپٹ دی اور آئین کو شکل بگاڑ دی۔ تقریب میں سندھ ہائی کورٹ کے 16 اور سپریم کورٹ کے 2 ریٹائر ججوں نے شرکت کی جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کردیا تھا تاہم تقریب میں کسی ایسے جج کو مدعو نہیں کیا گیا تھا جس نے پی سی او کو قبول کیا۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن کا کہنا تھا: ’سندھ ہائی کورٹ نے پانچ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کو ہماری تقریب میں شرکت کرنے سے روک دیا ہے‘۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کی تقرب حلف برداری میں پاکستان بار کونسل، سندھ ہائی کورٹ بار اور لوئر کورٹس کے دو ہزار سے زائد وکلاء نے شرکت کی۔ |
اسی بارے میں بھگوان داس، قائم مقام چیف جسٹس24 March, 2007 | پاکستان جسٹں بھگوان داس کی تعیناتی چیلنج31 March, 2007 | پاکستان بھگوان داس تعیناتی: وفاق کو نوٹس02 April, 2007 | پاکستان بھگوان داس تعیناتی: وفاق کو نوٹس02 April, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان داس پر پٹیشن مسترد13 July, 2007 | پاکستان بگٹی، بھگوان اور مہاجر27 August, 2007 | پاکستان جج ہوں،عدالت جاؤں گا: بھگوان04 November, 2007 | پاکستان عالمی برادری نے جو کیا، کم کیا: بھگوان داس10 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||