BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 08:06 GMT 13:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھگوان داس تعیناتی: وفاق کو نوٹس

جسٹس بھگوان داس
جسٹس بھگوان داس جسٹس جاوید اقبال کی جگہ قائم مقام چیف جسٹس بنے تھے
پاکستان کی سپریم کورٹ نےمذہب کی بنیاد پر جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور قائم مقام چیف جسٹس تعیناتی سےمتعلق درخواست پر وفاق پاکستان کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست گزار شاہد اورکزئی کے ڈھائی گھنٹے تک دلائل سننے کے بعد وفاق پاکستان کو نوٹس جاری کیا کہ وہ غیر مسلم جج کو بطور قائم مقام چیف جسٹس مقرر پر اپنے نقطہ نظر عدالت کے سامنے پیش کرے۔

مقدمے کی اگلی سماعت چار اپریل، بدھ کو ہو گی۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ غیر مسلم جج کی بطور چیف جسٹس تعیناتی آئین پاکستان کی روح کی خلاف ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ پاکستان کے تمام اعلی منصب داروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلمان مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔

درخواست گزار نے کہا کہ جس طرح صدر پاکستان کے لیے مسلمان ہونے کی شرط لازم ہے اسی طرح چیف جسٹس کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ مسلمان شہری ہو۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے فرائض سپریم کورٹ سے باہر بھی ہیں۔

چیف جسٹس صدر آف پاکستان، آڈیٹر جنرل کو حلف دیتا ہے ،چیف الیکشن کمشنر کی غیر موجودگی میں قائم چیف الیکشن کمشنر بھی وہی تعینات کرتا ہے اور جب وفاق اور صوبوں میں تنازعہ پیدا ہو تو اس کو ختم کرنے کی ذمہ داری بھی چیف جسٹس پر عائد ہے۔

درخواست گزار کا موقف تھا کہ چیف جسٹس صدر پاکستان سے حلف لیتے ہوئے ان کے مسلمان ہونے، آخرت پر یقین رکھنے اور پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے کا اقرار کراتا ہے اور نظریہ پاکستان کی حفاظت کا حلف لیتا ہے اور یہ سب کچھ غیر مسلم چیف جسٹس نہیں کروا سکتا۔

جسٹس جاوید اقبال نے اس موقع پر کہا کہ آرٹیکل 177 جس کے تحت کسی شہری کو جج کے عہدے پر فائز کیا جاتا ہے اس میں مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہے اور اگر آئین بنانے والوں کی منشا یہ ہوتی کہ مسلمان شہری ہی چیف جسٹس بن سکتا ہے تو آرٹیکل 177 میں مسلمان کا لفظ ڈال سکتے تھے جیسا کہ انہوں نے آرٹیکل 41 میں لفظ مسلمان شامل کر لیا تھا۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ چیف جسٹس کی طرف صدر پاکستان کا حلف لینے سے متعلق دلائل بے وقت ہے اور اس وقت صدر کے حلف سے متعلق کوئی تنازعہ سپریم کورٹ کے زیر غور نہیں ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے درخواست گزار سے کہا کہ غیر مسلم چیف جسٹس کسی مسلمان جج کو صدر کا حلف لینے کے لیے مقرر کر سکتا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ آئین میں جہاں صرف مسلمان ججوں کی ضرورت محسوس کی گئی وہاں اس کا ذکر کیا گیا لیکن چیف جسٹس کے مسلمان ہونے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا درخواست گزار سے کہا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ رانا بھگوان داس مسلمان ہو جائیں۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ اسلام کسی پر جبر نہیں کرتا لیکن کسی غیر مسلم کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف جسٹس نہیں بنایا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے شاہد اورکزئی کے دلائل سننے کے بعد وفاق پاکستان کو نوٹس جاری کیا کہ وہ بدھ کے روز عدالت میں حاضر ہو کر درخواست گزار کی طرف سے آرٹیکل 41 (صدر کی معیار اہلیت)، 177 (ججوں کی معیار اہلیت)، 146(وفاق کی طاقت)، 203 (فیڈرل شریعت کورٹ)، 255( عہدے کا حلف) اور 207 (ججوں کے دو منافع بخش عہدے رکھنے کی معمانت سے سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا جواب پیش کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد