 | | | آئین کی فوری بحالی کا فائدہ دہشت گردوں کو ہی ہوگا: ملک قیوم |
اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک محمد قیوم کے مطابق انہوں نے صدر پرویز مشرف کو مشورہ دیا ہے کہ ملک سے ایمرجنسی سولہ کی بجائے پندرہ دسمبر کو اٹھا لی جائے۔ بی بی سی اردو سروس کے عمر آفریدی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ تو صدر مشرف نے کرنا ہے لیکن سولہ دسمبر کو چونکہ اتوار کی وجہ سے ہفتہ وار تعطیل ہے اس لیے اس سے پہلے ایمرجنسی اٹھانا مناسب ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکنگ ڈے پر ایمرجنسی اٹھانے کا مشورہ اس لیے دیا ہے کیونکہ (ایمرجنسی ختم ہونے پر) کچھ قانونی تقاضے پورے کرنے ہونگے اور پی سی او کے دوران مقرر کیے گئے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں کو فوری طور پر آئین کے تحت حلف بھی اٹھانا ہوگا۔ ملک قیوم کے مطابق پہلے سے کام کرنے والے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ان ججوں کو جنہوں نے تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف لیا ہے آئین بحال ہونے کے بعد دوبارہ حلف لینے کی ضرورت نہیں لیکن ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔  | آئین بحال جج نہیں  پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج آئین کی بحالی کے باوجود بحال نہیں ہونگے  اٹارنی جنرل |
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج آئین کی بحالی کے باوجود بحال نہیں ہونگے۔ ’وہ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں برطرف ہوچکے ہیں۔‘ ان سے جب پوچھا گیا کہ پندرہ دسمبر ہی کیوں اس سے پہلے ایمرجنسی کیوں نہیں اٹھا لی جاتی تو ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کے حوالے سے کچھ ایسے اقدامات کرنا ابھی باقی ہیں جو صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ’آئین کی فوری بحالی کا فائدہ دہشت گردوں کو ہی ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ لاء اینڈ آرڈر کی وجہ سے کیا گیا تھا نا کہ انتخابات کے پیش نظر۔ |