بینظیر مقدمات کا خاتمہ، فیصلہ مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی دو احتساب عدالتوں نے بدھ کو قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف بدعنوانی کے دو مقدمات ختم کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ متعلقہ قانون کے بارے میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک مؤخر کر دیے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر ذوالفقار بھٹہ کے مطابق بدھ کو صغیر احمد قادری پر مشتمل احتساب عدالت نے کوٹیکنا اور چودھری یونس پر مشتمل عدالت نے ایس جی ایس کیسز میں علیحدہ علیحدہ سماعت کے بعد اپنے فیصلے سنائے۔ عدالت میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زردرای کے وکیل فاروق نائک بھی موجود رہے اور انہوں نے بھی مقدمات ختم کرنے کی درخواستوں پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کی تصدیق کی۔ ’ایس جی ایس، اور ’کوٹیکنا‘ نامی دونوں یورپی کمپنیاں درآمد کردہ سامان کی مالیت طے کرنے اور اس حساب سے ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات کا کام کرتی ہیں۔ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ انسپیکشن کے ٹھیکے اس بنیاد پر دیےگئے کہ بعض پاکستانی درآمد کنندہ درآمد کردہ اشیاء پر ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہوئی تو بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے’ کمیشن‘ کی خاطر ایس جی ایس اور کوٹیکنا کمپنیوں کو ٹھیکے دیے اور بھاری رقم حاصل کی۔ مبینہ بدعنوانی کے اِن سمیت کئی مقدمات سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف گیارہ برسوں سے احتساب کی خصوصی عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور حال ہی میں صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو میں ہونے والی مصالحت کے نتیجے میں صدرِ پاکستان نے ’قومی مصالحت آرڈیننس، نامی قانون جاری کیا جس کے تحت یکم جنوری انیس سو چھیاسی سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے تک جو بھی بدعنوانی اور سیاسی انتقام کی بنا پر مقدمات درج ہوئے اور تاحال زیر سماعت ہیں وہ ختم ہوجائیں گے۔
جب پانچ اکتوبر کو یہ قانون نافذ کیا گیا تو اُسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا اور بارہ اکتوبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ اگر ان آئینی درخواستوں کی مکمل سماعت کے بعد عدالت یہ قرار دے کہ یہ آرڈیننس غیر آئینی ہے تو پھر کوئی شخص اس سے مستفید نہیں ہو سکے گا۔ عدالت نے مزید کہا تھا کہ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ اس قانون کے تحت ختم بھی کردیا گیا ہوگا تو وہ ختم نہیں ہوگا۔ تاہم عدالت نے مصالحتی آرڈیننس کے تحت مقدمات ختم کرنے کی کارروائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس پر بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ان پر قائم شدہ مقدمات سیاسی بنیاد پر داخل کردہ ایسے مبینہ بدعنوانی کے مقدمات ہیں جن کا گیارہ برس تک فیصلہ نہیں ہو سکا اور اگر اس طرح کے مقدمات ختم ہوتے ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت اور بینظیر بھٹو میں مصالحت یا مفاہمت تو پہلے ہی فریقین کی ایک دوسرے خلاف بیان بازی سے بظاہر متاثر نظر آتی ہے لیکن اب سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمات کا خاتمہ ایک بار عدالت کے فیصلے سے مشروط ہوگیا ہے۔ جو کہ یقیناً ان کے لیے ایک مایوس کن خبر ہوگی۔ |
اسی بارے میں جہانگیر درخواست نیب کے پاس29 October, 2007 | پاکستان بینظیر مقدمہ، سماعت ملتوی25 October, 2007 | پاکستان قومی مفاہمتی آرڈیننس، مشروط12 October, 2007 | پاکستان ’مفاہمتی آرڈیننس پر عملدرآمد نہیں‘12 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی سزائیں غیرآئینی: عدالت12 October, 2007 | پاکستان سزاؤں کی منسوخی پر فیصلہ محفوظ11 October, 2007 | پاکستان ریفرنس کاخاتمہ، عدالت سے رجوع09 October, 2007 | پاکستان آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج08 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||