گیارہ سال میں دس ہزار کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں پھانسیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں شدت آ رہی ہے پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جس کی جیلوں میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دس اکتوبر دنیا بھر میں سزائے موت کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جا رہا ہے اور متعدد بین الاقوامی ادارے سزائے موت کی مذمت کر رہے ہیں اور اس سزا کو ختم کرنے کے سلسلے میں کوششوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ دنیا میں نوے ملکوں میں موت کی سزا کو ختم کردیا گیا ہے جبکہ چھیاسٹھ ملکوں میں ابھی تک مجرموں کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔ دنیا بھر کے متعدد ممالک اس سزا کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دے رہے ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں ان قیدیوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جنہیں گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران موت کی سزا سنائی گئی، جبکہ صرف پنجاب میں ایسے قیدیوں کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے۔ قیدیوں کی حالت زار کے بارے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنطیم ’گلوبل فاؤنڈیشن‘ کا کہنا ہے کہ ان میں سے متعدد افراد نے اعلیٰ عدالتوں میں ان فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔
پاکستان میں عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد گزشتہ دو سال سے تیز کر دیا گیا ۔سنہ دو ہزار سات کے پہلے نو ماہ کے دوران کم از کم ایک سو نو افراد کو پھانسی دی گئیں۔ سب سے زیادہ پھانسیاں صوبہ پنجاب میں ہوئیں جہاں پر نوے افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ گزشتہ سال 121 افراد کو پھانسی دی گئی اور اس میں سےصرف پنجاب میں 90 قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ 2006ء میں صدر پاکستان نے 257 رحم کی اپیلوں کو نمٹایا اور اس برس صرف ایک شخص کی رحم کی اپیل منظور ہوئی اور وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر محمود تھے۔ اس تنظیم کے چئرمین الفت کاظمی کے مطابق پاکستان میں 184 خواتین کو بھی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور جن میں سے آٹھ کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کسی خاتون کو پہلی پھانسی 10 اکتوبر 1968ء کو میانوالی جیل میں ہوئی تھی۔ ملتان میں خواتین کی جیل موجود ہے جہاں پر پورے صوبے سے سزا پانے والی خواتین کو بھیجا جاتا ہے۔ پنجاب کے جیل خانہ جات کے اسسٹنٹ سپرنٹڈنٹ حاجی فلک شیر کے مطابق صوبے کی مختلف جیلوں سے ایک سو سے زائد قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی گئی ہیں اور ان کو پھانسی دینے کی تاریخوں کا تعین ہونا باقی ہے۔
ایوان صدر کے قانونی مشیر چوہدری ارشاد کے مطابق صدر کے پاس رحم کی کوئی اپیل بھی زیر التوا نہیں ہے ۔ بی بی سی سے گفتگو کر تے ہوئے انہوں نے اس کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا کہ صدر کے پاس رحم کی اپیلیں وزیر اعظم سیکرٹیریٹ سے ہوکر آتی ہیں جہاں پر وزارت داخلہ ملک کی مختلف جیلوں سے آئی ہوئی رحم کی اپیلوں کی چھان بین کرکے انہیں وزیر اعظم سکریٹریٹ کو بجھواتا ہے۔ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 33 جیلوں میں 812 کالی کوٹھڑیاں یا ڈیتھ سیل ہیں جبکہ ان میں سے 9 جیلوں میں ڈیتھ سیل موجود نہیں ہیں۔ صرف راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ایک سو کے قریب کالی کوٹھڑیوں میں 466 افراد موجود ہیں جنہیں عدالتوں نے موت کی سزا سنائی ہے اور ان میں سے 15 قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ شاہد سلیم کے مطابق جیل میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اس لیے جیل میں نئےڈیتھ سیل تعمیر کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ڈیتھ سیل میں دو سے تین افراد رہ سکتے ہیں جبکہ یہاں پر پانچ سے چھ افراد رہ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں کرنل بلال کے قاتل کو پھانسی28 June, 2007 | پاکستان کرنل بلال کے قاتل کو پھانسی27 June, 2007 | پاکستان اٹک جیل میں دو کو پھانسی13 June, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی، دو مجرموں کو پھانسی15 May, 2007 | پاکستان چار سگے بھائیوں کو پھانسی ہو گئی17 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||