’موت کی سزا ختم کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سزائے موت کی سزا میں اضافے پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف ہیومن رائٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے موت کی سزا کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو دونوں تنظیموں کے نمائندوں، عاصمہ جہانگیر اور ڈاکٹر این کرسٹین ہیبرڈ نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں ’سلو مارچ ٹو گیلوز، کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی اور بتایا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی مختلف جیلوں میں سات ہزار چار سو سے زائد قیدی موت کی کوٹھڑیوں میں قید ہیں۔ جس میں سے چھ ہزار نو سو پچاسی صرف صوبہ پنجاب میں قید ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انیس سو پچہتر سے سن دو ہزار دو تک صوبہ پنجاب میں ایک ہزار انتیس افراد کو پھانسی دی گئی اور سالانہ ان کی اوسط سینتیس بنتی ہے۔ اس عرصے میں سب سے زیادہ یعنی دو سو پانچ افراد کو سن انیس سواٹہتر میں پھانسی دی گئی۔سن دوہزار پانچ میں پنجاب میں چھیاسٹھ جبکہ سن دو ہزار چھ کے ابتدائی چھ ماہ میں چون افراد کو پھانسی دی گئی۔ برضعیر میں آزادی کے وقت صرف دو جرائم میں سزائے موت تھی لیکن اب چھبیس جرائم میں سزائے موت دی جاتی ہے اور اس میں توہین رسالت جیسے قانون کے تحت لازمی طور پر سزائے موت کی شرط ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پولیس اور عدالتی نظام میں خامیوں، بدعنوانی، اثرو رسوخ، دباؤ، تعصب اور نفرت کی بنا پر سزائیں دینے کی روایات ہیں اور ایسے ملک میں موت جیسی انتہائی سزا عام جرائم میں دینا عالمی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ اسلامی قانون قصاص اور دیت کی بنا پر مقتول کے ورثا کی جانب سے معافی کی صورت میں قاتل کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس قانون نے انصاف کی نجکاری کی راہ ہموار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موت کی سزاؤں میں اضافہ سن دو ہزار تین میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اس حکم سے بھی ہوا ہے جس میں عدالت اعظمیٰ نے قرار دیا تھا کہ قتل کے مقدمات ’موت کی نارمل‘ سزا ہی دی جانی چاہیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن دو ہزار میں ایک آرڈیننس جاری ہوا جس کے تحت اٹھارہ برس سے کم عمر ملزمان کو موت کی سزا پر پابندی عائد کی گئی۔ لیکن لاہور ہائی کورٹ نے اُس قانون کو کالعدم قرار دیا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل زیر التوا ہے لیکن سپریم کورٹ نے عبوری طور پر اس قانون کو بحال کردیا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق پاکستان میں جدید طریقے سے قتل اور دیگر جرائم کی تفتیش کا بندوبست نہیں ہے، فورینزک لیبارٹریز کم ہیں اور ایسے میں زبانی شہادتوں پر مقدمات درج اور سنے جاتے ہیں۔ پولیس آج بھی تشدد کرکے بیان لیتی ہے اور طاقتور مجرم کمزور متاثرین کو ذرا دھمکا کر یا لالچ دے کر بیان بدلواتے ہیں اور ایسے میں موت کی سزاؤں کا اطلاق عالمی معیار کے برعکس ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب جنگی جرائم میں بھی موت کی سزا نہیں دی جاتی تو عام جرائم میں موت کی سزا کیسے دی جاسکتی ہے؟۔ رپورٹ میں اس تاثر کو بھی رد کیا گیا ہے کہ قتل جیسی سخت سزاؤں سے جرائم میں کمی آئے گی۔ جتنی پھانسیاں زیادہ ہوئی ہیں جرائم میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پولیس اور عدالتی نظام میں بہتری لائی جائے، وکلا پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو جیلوں کا دورہ کرکے مانیٹر کریں۔ سزائے موت ختم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کو فعال کیا جائے اور میڈیا میں بحث شروع کرائی جائے تاکہ عوام میں آگہی پیدا ہوسکے۔ | اسی بارے میں لاہور: دس افراد کو سزائے موت08 July, 2006 | پاکستان پانچ افراد کو سزائے موت، مدعی منحرف06 July, 2006 | پاکستان قصاص و دیت اور فوجداری نظام23 October, 2006 | پاکستان ’قاتل کو معاف نہیں کریں گے‘11 November, 2006 | پاکستان قیدی زیادہ، کال کوٹھڑیاں کم25 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||