BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 December, 2006, 19:25 GMT 00:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیدی زیادہ، کال کوٹھڑیاں کم

کال کوٹھڑی
بعض جیلوں میں تیرہ تیرہ قیدی ایک کال کوٹھڑی میں قید ہیں
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی جیلوں میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ ان کے لیے کال کوٹھڑیاں کم پڑ چکی ہیں اور ایک ایک کال کوٹھڑی میں اوسطاً چھ سے سات افراد بند ہیں۔

صوبائی محکمہ جیل خانہ جات کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی تیس جیلوں میں اس وقت سزائے موت کے سات ہزار قیدی تیرہ سو پینتس کال کوٹھریوں میں قید ہیں۔ جگہ کی قلت کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ان قیدیوں کی ذہنی اذیت کے ساتھ ساتھ جسمانی تکلیف میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔

اس جسمانی سزا کا پاکستان کے قانون میں کوئی جواز نہیں ہے جو ان قیدیوں کو موت کی سزا ہونے سے پہلے مل رہی ہے۔

پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات سعید اکبر نوانی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ دس ضرب بارہ فٹ کی کال کوٹھڑی میں پانچ یا چھ افراد کا گزارا کرنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔

تکلیف دہ عمل
 دس ضرب بارہ فٹ کی کال کوٹھری میں پانچ یا چھ افراد کا گزارا کرنا واقعی انتہائی تکلیف دہ عمل ہے
وزیر جیل خانہ جات

ذرائع کے مطابق پنجاب کی تیس جیلوں میں بعض کال کوٹھڑیاں ایسی بھی ہیں جہاں دس سے تیرہ قیدیوں کو رکھا جا رہا ہے۔ موت اور زندگی کے فیصلے کے درمیان پھنسے، پل پل کاٹتے یہ قیدی ان کال کوٹھڑیوں میں کیسے رہتے ہونگے اس کا تصور محال ہے ۔

جیل خانہ جات کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قیدی نہ لیٹ سکتے ہیں اور نہ بیٹھ سکتے ہیں۔ ہر شخص چند گھنٹے نیند لے پاتا ہے، وہ بھی اپنی باری آنے پر۔

انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سرفراز مفتی نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت تین سو باون کال کوٹھڑیاں زیر تعمیر ہیں جس سے ان کے بقول صورتحال کسی حد تک بہتر ہوسکے گی۔

سب سے زیادہ یعنی چھ سوچھیاسٹھ قیدی فیصل آباد کی سینٹرل جیل میں ہیں جہاں ان کے لیے بانوے کال کوٹھڑیاں ہیں۔ پنجاب کے اکثر اضلاع میں فی جیل بتیس نئی کال کوٹھڑیاں زیر تعمیر ہیں، لیکن یہ اضافہ سزائے موت کے قیدیوں کی مشکلات میں کوئی خاص کمی نہیں کر پائے گا۔

مثال کے طور پر لاہور اورگوجرانوالہ جہاں بالترتیب پانچ سو انتیس اور چھ سو آٹھ قیدی ہیں وہاں زیر تعمیر کال کوٹھڑیوں کو ملا کر بھی ان کی کل تعداد فی جیل سوا سو سے بڑھے گی نہیں۔ ان دونوں جیلوں میں مزید تعمیر کی گنجائش بھی نہیں رہے گی۔

وزیر جیل خانہ جات
وزیر جیل خانہ جات سعید اکبر نوانی کے مطابق قانون میں تبدیلی سے کال کوٹھڑیوں پر دباؤ کم ہوگا

ملتان کی تین جیلوں کے علاوہ گجرات، روالپنڈی، سرگودھا اور راجن پور کی جیلوں میں بھی مزید کال کوٹھڑیوں کی تعمیر کی گنجائش نہیں ہے۔

گجرات ایک ایسا شہر ہے جس کی جیل میں مزید کال کوٹھڑیوں کی تعمیر کی گنجائش ہے نہ مزید کوئی تعمیر ہورہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی اور حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کے آبائی ضلع کی جیل میں دو سو کے قریب سزائےموت کے قیدی سولہ کال کوٹھڑیوں میں قید ہیں۔ جس کا مطلب ہے ہر کوٹھڑی میں اوسطاً بارہ یا تیرہ قیدی بند ہیں۔

قانون کے مطابق ایک کال کوٹھڑی میں ایک قیدی کو ہونا چاہیے، اس لحاظ سے پنجاب میں سات ہزار ڈیتھ سیل ہونے چاہیے تھے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت اس قانون میں تبدیلی پر غور کر ہی ہے جس کے تحت سیشن کورٹ سے موت کی سزا پاتے ہی ملزم کو کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جاتا ہے۔

پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات نے کا کہنا تھا کہ قانون میں تبدیلی کے بعد صرف ان قیدیوں کو کال کوٹھڑی میں بند کیا جائے گا جن کی سزائے موت کے خلاف اپیل ہائی کورٹ سے مسترد ہو چکی ہوگی۔

پنجاب کے وزیر قانون نے بتایا کہ اس تبدیلی کی تجویز انہوں نے بھجوائی تھی اور متعلقہ وفاقی وزیر نے انہیں یقین دلایا ہے کہ اس بارے میں جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی تکلیف کم کرنے کا بظاہر یہی ایک حل نظر آتا ہے۔

نیا قانون
 وفاقی حکومت اس قانون میں تبدیلی پر غور کر ہی ہے جس کے تحت سیشن کورٹ سے موت کی سزا پاتے ہی ملزم کو کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جاتا ہے

صوبائی وزیر قانون اور آئی جی جیل خانہ جات دونوں نے کال کوٹھڑیوں کے مقابلے میں قیدیوں کی زیادہ تعداد کی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیا۔ آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ جس رفتار سے آبادی بڑھی ہے اسی رفتار سے جرم بھی بڑھا، لیکن جیلوں کی حالت زار اس رفتار سے بہتر نہیں ہوئی۔

سزائے موت کے قیدیوں کی اپیلیں کئی برس تک زیر التوا رہتی ہیں۔ اس کی ایک مثال برطانوی شہری طاہر مرزا کی ہے، جن کی سزائے موت جب عمر قید میں تبدیل ہوئی تو اگلے ہی روز ان کی رہائی عمل میں آ گئی کیونکہ فیصلہ ہونے سے پہلے ہی وہ عمر قید کے برابر (یا شاید اس سے زیادہ) سزا کاٹ چکے تھے۔

ایک محتاط اندازے کےمطابق پنجاب میں روزانہ اوسطاً تیس سے زائد افراد مقدمہ قتل میں نامزد ہوتے ہیں، لیکن ناقص تفتیش اور دیگر عوامل کی وجہ سے سزاؤں کا تناسب محض سات فی صد ہے۔ برطانیہ میں یہی تناسب نوے فی صد سے بھی زائد ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں یہ تناسب تھوڑا سا بھی بہتر ہو گیا تو جیلوں میں بند قیدیوں کا کیا حشر ہوگا؟

اسی بارے میں
جیل میں کوڑوں کی سزا ختم
06 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد