BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 November, 2006, 19:34 GMT 00:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی جیلوں میں بچوں پرتشدد
بچہ قیدی
بچوں کو ہتھکڑیو میں جکڑنے کی اجازت قانون نہیں دیتا
پاکستان کی جیلوں اور پولیس حراست میں ہزاروں بچےہیں۔ یہ بچے بڑی عمر کے قیدیوں کی طرح ہی پاکستانی نظام انصاف کے شکار ہیں۔

ان جیلوں میں سات سال کی عمر تک کے بچے بھی برسوں سے قید ہیں جنہیں عدالت نے ابھی تک مجرم قرار نہیں دیا ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ’ ان بچوں کے معاملات پر سنجیدگی سےغور نہیں کیا جاتا کیونکہ ان کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے‘۔

پاکستانی قانون کے مطابق بچوں کوہتھکریاں نہیں لگائی جانی چاہیں لیکن ان بچوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں 18 سال عمر کےنوجوانوں کی تعداد کل آبادی کا نصف ہےاس کے باوجود یہاں بچوں سے متعلق صرف ایک عدالت ہے۔ کئی جگہوں پر بچوں کو بڑے لوگوں کے لیے مخصوص عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل ضیا اعوان کا کہنا ہے کہ’جیلوں میں قید بچوں کی حالت کافی تشویش ناک ہے۔‘

عام طور پر غریب بچے ہی تشدد کا شکار ہوتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ایک جائزے کے مطابق ستر فیصد بچوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے۔ان کے مطابق پولیس حراست اور عدالتی تحویل کے دوران ان بچوں سے جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔

خادم نامی ایک بچے نے بتایا کہ ’ وہ لوگ مجھے پولیس سٹیشن میں کافی دیر تک مارت پیٹتےرہے۔ان لوگوں نے معلومات حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھ زیادتی کی اور مارپیٹ تب بند کی جب میرے گھر والوں نےایک ماہ کی تنخواہ انہیں دی‘۔

اس وقت خادم کی عمر محض 14 سال تھی۔ پولیس نےاس پراور اس کے بھائی پر چوری کا الزام لگایا تھا۔

کراچی کی جیل کے بارے میں کام کرنے والے سابق جج ناصر زاہد کا کہنا ہے کہ یہاں 500 بچے تھے اور ان میں صرف 30 بچوں کو سزا ہوئی تھی باقی 470 بچے یوں ہی جیل میں تھے‘۔

انہوں نے کہا’ ان بچوں کو گرفتار کرنے کے بعد برسوں تک قید رکھا جاتا ہے‘۔

 وہ لوگ مجھے پولیس سٹیشن میں کافی دیر تک مارپیٹ کرتے رہے۔ ان لوگوں نے معلومات حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھ زیادتی کی اور مارپیٹ تب بند کی جب ہم نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ انہیں دی۔
ایک بچہ قیدی

ضیااعوان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کی جیل میں 50 بچوں کو قیدرکھاگیا ہے اور یہ بچے بڑےلوگوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں جہاں انہیں جنسی زیادتیوں کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے۔

اسی طرح نو جوان لڑکیوں کو بھی عورت قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے جو عام طور پر منثیات کی عادی ہو تی ہیں۔

ضیا اعوان کا کہنا ہے کہ مقدمات نمٹنے میں کافی دیر ہوتی ہے اور اس ادوران انہیں ان کے والدین سے رابطہ کرنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا اور دوسری طرف انہیں حکومت کی جانب سے بھی قانونی مدد نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا جب یہ بچے جیل سے باہر آئیں گے تو وہ مافیاؤں سےمل کر سماج مخالف حرکتوں میں ملوث ہوں گے۔

اسی بارے میں
قیدیوں کا کارنامہ
01 July, 2004 | پاکستان
بیویاں بھی ساتھ رہ سکیں گی
08 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد