اٹک جیل میں دو کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تہرے قتل کے دو الگ الگ واقعات میں مجرم پانے والے افراد کو بدھ کی صبح ساڑھے چار بجے اٹک ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اٹک ڈسٹرکٹ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق پھانسی پانے والے دونوں افراد کی عمریں چالیس سے پچاس سال کے درمیان تھیں۔ ضلع اٹک کے گاؤں ملا کلاں سے تعلق رکھنے والے محمد نثار ولد حق نواز نے سن دو ہزار میں بہن کا رشتہ اپنی مرضی کے خلاف کیے جانے پر اپنی والدہ، بہن اور چھوٹے بھائی کو تیز دھار آلے سے قتل کر دیا تھا۔ محمد نثار کے خلاف مقدمے کی پیروی اُن کے بہنوئی اور بہن کر رہی تھیں۔ پھانسی پانے والے دوسرے فرد محمد نوازش ولد غلام سرور کا تعلق بھی ضلع اٹک کے گاؤں گولڑہ سے ہے۔ محمد نوازش نے اُنیس سو ستانوے میں اپنے گاؤں میں ہونے والے ایک جھگڑے کے دوران تین افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ منگل کو مجرمان سے اُن کے اہل خانہ کی ملاقات کرائی گئی۔ بدھ کو علی الصبح جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی کے بعد دونوں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال دو ہزار چھ میں 446 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ 82 کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سب سے زیادہ صوبہ پنجاب میں ہوتی ہے۔ |
اسی بارے میں ’پھانسی کا کھیل‘ جان لیوا ثابت ہوا01 January, 2007 | پاکستان بچوں نے پھانسی سے بچا لیا07 June, 2006 | پاکستان ’افضل کیلیئے رحم کی اپیل نہیں کی‘ 31 October, 2006 | انڈیا چھ رشتہ داروں کی سزائے موت مؤخر03 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||