چھ رشتہ داروں کی سزائے موت مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد میں چھ قریبی رشتہ داروں کی سزائے موت پر عملدرآمد پندرہ دنوں کے لیے روک دیا گیا ہے۔ ان افراد پر تہرے قتل کا الزام تھا۔ سزائے موت پر عملدرآمد صدر جنرل پرویز مشرف کے حکم پر روکا گیا۔ جیل کے حکام کے مطابق مجرمان نے مقتولین کے لواحقین کے ساتھ صلح کے لیے وقت کی درخواست کی تھی۔ سن انیس سو اکیانوے میں ایک ایڈیشنل سیشن جج نے مجرمان کو فیصل آباد میں ایک باپ بیٹے اور ان کے ایک رشتہ دار کے قتل کے مقدمے میں سزا سنائی تھی۔ اس سال فروری میں ان چھ افراد کی رحم کی اپیل بھی صدر نے مسترد کر دی تھی۔ مجرمان نے سزائے موت پر عملدرآمد سے چند روز پہلے تعزیرات پاکستان کی اسلامی دفعات کے تحت مقتولین کے لواحقین سے صلح کے موقع کی درخواست دائر کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||