بےنظیرکو حکومتی تحفظ کا وعدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر ان کے لئے مکمل سیکیورٹی کا بندوبست کیا جائےگا۔ یہ بات وزارت داخلہ کے ترجمان اور نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کے سربراہ برگیڈیئر (ر) جاوید چیمہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتائی۔ بے نظیر بھٹونے اپنے تحفظ کے بارے میں جو خدشات ظاہر کیے تھے ان کے بارے پوچھےگئے ایک سوال پر جاوید چیمہ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے وقت ان کی جان کولاحق خطرات کے بارے میں حکومت کے پاس مخصوص اطلاع تو نہیں ہے لیکن وزارت داخلہ اس حوالے سے محتاط ہے اور بے نظیر بھٹو کو واپسی پر مکمل تحفظ فراہم کیا جائےگا۔ واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جان کو لاحق مبینہ خطرات کے پیش نظر سندھ ہائی کورٹ میں اپنے لیے بلٹ پروف گاڑی درآمد کرنے کی اجازت کے حصول کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے۔ وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت بے نظیر کی وطن واپسی سےقبل انہیں دو بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دے چکی ہے۔ یہ تمام اقدامات اور خدشات قبائلی جنگجو بیت اللہ محسود کی اس دھمکی کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے بے نظیر بھٹو پر خودکش حملہ کروانے کا اعلان کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی خود ساختہ جلا وطن رہنما نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے خلاف دائر بد عنوانی کے مقدمات ختم ہونے کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو کراچی پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ برگیڈیئر چیمہ نے بریفنگ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت لال مسجد دوبارہ کھولنے اور جامعہ حفصہ کی تعمیر کے حوالے سے عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے گزشتہ ہفتے ایک فیصلے میں حکومت کو پابند کیا تھا کہ لال مسجد کو فوری کھولا جائے، جامعہ حفصہ دوبارہ اسی جگہ پر تعمیر کیا جائے اور یہ کہ لال مسجد کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران لاپتہ اور ہلاک ہونے والوں کے مقدمات درج کیے جائیں۔ برگیڈیئر چیمہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ عدالت کے حکم کے کس حصے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ جس جگہ تعمیر تھا اس میں سے زیادہ تر زمین سرکار کی ملکیت تھی جس پر نا جائز طور پر قبصہ کیا گیا تھا۔ لہذا حکومت صرف دو سو پانچ مربع گز پر مدرسہ تعمیر کرے گی جو اصل میں مدرسے کی ملکیت تھی اور قانوناً یہ مدرسہ بھی صرف دن میں تعلیم کے لیے ہوگا جہاں طالب علموں کے لئے رہائشی سہولیات نہیں ہوں گی۔ |
اسی بارے میں بے نظیر کےخلاف مقدمات واپس09 October, 2007 | پاکستان مفاہمت ہو گئی، آرڈیننس کا انتظار ہے: بےنظیر04 October, 2007 | پاکستان سیاستدانوں کی چوکھٹ پر دم توڑتی امید05 October, 2007 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس، مسودے پر اتفاق04 October, 2007 | پاکستان ’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘19 October, 2006 | پاکستان بینظیر، زرداری کے ریڈ نوٹس جاری26 January, 2006 | پاکستان ’کتاب کے لیئے ملک کی تحقیرکی‘29 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||