BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 October, 2007, 06:17 GMT 11:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے نظیر کےخلاف مقدمات واپس

بے نظیر بھٹو
یہ مقدمات قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت واپس لیے گئے ہیں
پاکستان حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو کے خلاف دائر مقدمات واپس لے لیے ہیں۔

احتساب بیورو کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل شفاعت نبی شیروانی نے یہ بات منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر بتائی۔

دریں اثناء بےنظیر بھٹو کے وکیل فاروق نائیک نے بتایا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف انیس سو نناوے سے قبل دائر مقدمات بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بینچ، بے نظیر بھٹو کے خلاف اے آر وائی گولڈ، ایس جی ایس اور غیر قانونی اثا ثے بنانے کے مقدمات میں بے نظیر بھٹو کی گرفتاری سے قبل ضمانت کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

احتساب بیورو کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل شفاعت نبی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت یہ مقدمات واس لیے گئے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ بے نظیر بھٹو کو ان مقدمات میں گرفتار نہیں کیا جائےگا، اگر ان کے خلاف دوسرے مقدمات ہیں تو وہ ان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

بے نظیر بھٹو کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ان یقین دہانیوں کے بعد اپنی پٹشین واپس لے لی۔

یادر رہے کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے بے نظیر بھٹو کی غیر موجودگی میں اے آر وائی گولڈ، ایس جی ایس اور اثاثہ جاتی کیس میں ان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے انہیں تین تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بئنچ میں اپیل زیر سماعت ہے۔

بے نظیر بھٹو کے وکیل کے مطابق قومی احتساب بیورو کی بیان کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے جو مفاہمت کے وعدے کیے تھی اس پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس آرڈیننس کے تحت جو بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے انہیں آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہوگا، انہیں چیلنج نہیں کیا جائیگا۔

فاروق نائیک کا، جو بے نظیر بھٹو کی طرف سے مذاکراتی ٹیم کے رکن ہیں، کہنا ہے کہ صدر مشرف کی ٹیم کے ساتھ ابھی مزید مذاکرات ہونے ہیں جس میں سرفہرست یہ مطالبہ ہے کہ ناظمین کے اختیارات معطل کیے جائیں تاکہ آنے والے عام انتخابات میں کوئی دھاندلی نہ ہو اور تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر جو پابندی عائد ہے اسے ختم کیا جائے کیونکہ یہ پارلیمنٹ کے نظام کے خلاف ہے ۔

اسی بارے میں
بے نظیر کی ضمانت کی درخواست
02 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد