متعدد بلوچ تنظیمیں سرگرم: پولیس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق کھوسہ نے تسلیم کیا ہے کہ صوبے میں مزید شدت پسند تنظیموں کے نام سامنے آئے ہیں جو مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں تاہم انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ راکٹ باری اور بم دھماکوں کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں دسمبر دو ہزار پانچ میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے پہلے صرف ایک کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نام سامنے آتا رہا لیکن اس کے بعد بلوچ لبریشن فرنٹ کا نام سامنے آیا اور اب بلوچ ریپبلکن آرمی لشکر بلوچستان اور جھالاوان بلوچ ٹائیگرز کے نام سامنے آئے ہیں جو مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔ کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طارق کھوسہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال کے پہلے آٹھ ماہ کی نسبت اس سال دہشت گردی کے واقعات میں پندرہ فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور اس سال اب تک پندرہ سے بیس ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے شدت پسند تنظیموں سے ظاہر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ڈیڑھ ماہ قبل خضدار سے کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے دو افراد گرفتار ہوئے تھے جس کے بعد نیٹ ورک کی نشاندہی اور انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں کچھ لوگ بیٹھ کر یہاں کارروائیاں کراتے ہیں اور رقم کی لین دین کی جاتی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان کوششوں کے باوجود شدت پسند تنظیموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے لیکن اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ بلوچی زبان کے ایک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر منیر مینگل جن کو رہا کرنے کے عدالتی احکامات کے باوجود پولیس نے مبینہ طور پر دوبارہ گرفتار کر لیا تھا کے حوالے سے انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ منیر مینگل کو سی آئی ڈی پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے دوبارہ گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ چوکیاں عید کے بعد تک قائم رہیں گی اور اب تک اس سلسلے میں پینسٹھ لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ صحافیوں کے پاس ایسی اطلاعات پہنچی ہیں کہ فرنٹیئر کور اور پولیس کی مشترکہ چوکیوں اور گشت پر بھاری اخراجات آرہے ہیں لیکن آئی جی نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کی تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے اور عنقریب جلد گرفتاریاں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے تمام تیس اضلاع کو پولیس ایریاز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جنہیں چھ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون میں ڈی آئی جی تعینات کیا گیا ہے جو کہ پولیس ریفارمز کا ہی ایک حصہ ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان:سخت حفاظتی انتظامات01 August, 2007 | پاکستان منیر مینگل اچانک منظرِ عام پر 06 August, 2007 | پاکستان بلوچستان: پچپن افراد حراست میں17 August, 2007 | پاکستان نواز ملک بدری:یوم سیاہ اور احتجاج11 September, 2007 | پاکستان منیر مینگل پھر ’غائب‘ کر دیے گئے12 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||