BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متعدد بلوچ تنظیمیں سرگرم: پولیس

بلوچ جنگجو
اس سال دہشت گردی کے واقعات میں پندرہ فیصد کمی واقع ہوئی ہے: انسپکٹر جنرل
بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق کھوسہ نے تسلیم کیا ہے کہ صوبے میں مزید شدت پسند تنظیموں کے نام سامنے آئے ہیں جو مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں تاہم انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ راکٹ باری اور بم دھماکوں کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں دسمبر دو ہزار پانچ میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے پہلے صرف ایک کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نام سامنے آتا رہا لیکن اس کے بعد بلوچ لبریشن فرنٹ کا نام سامنے آیا اور اب بلوچ ریپبلکن آرمی لشکر بلوچستان اور جھالاوان بلوچ ٹائیگرز کے نام سامنے آئے ہیں جو مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔

کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طارق کھوسہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال کے پہلے آٹھ ماہ کی نسبت اس سال دہشت گردی کے واقعات میں پندرہ فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور اس سال اب تک پندرہ سے بیس ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے شدت پسند تنظیموں سے ظاہر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ڈیڑھ ماہ قبل خضدار سے کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے دو افراد گرفتار ہوئے تھے جس کے بعد نیٹ ورک کی نشاندہی اور انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں کچھ لوگ بیٹھ کر یہاں کارروائیاں کراتے ہیں اور رقم کی لین دین کی جاتی ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان کوششوں کے باوجود شدت پسند تنظیموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے لیکن اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔

بلوچی زبان کے ایک ٹی وی چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر منیر مینگل جن کو رہا کرنے کے عدالتی احکامات کے باوجود پولیس نے مبینہ طور پر دوبارہ گرفتار کر لیا تھا کے حوالے سے انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ منیر مینگل کو سی آئی ڈی پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے دوبارہ گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ چوکیاں عید کے بعد تک قائم رہیں گی اور اب تک اس سلسلے میں پینسٹھ لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ صحافیوں کے پاس ایسی اطلاعات پہنچی ہیں کہ فرنٹیئر کور اور پولیس کی مشترکہ چوکیوں اور گشت پر بھاری اخراجات آرہے ہیں لیکن آئی جی نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کی تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے اور عنقریب جلد گرفتاریاں کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے تمام تیس اضلاع کو پولیس ایریاز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جنہیں چھ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر زون میں ڈی آئی جی تعینات کیا گیا ہے جو کہ پولیس ریفارمز کا ہی ایک حصہ ہے۔

غریب الوطن بگٹی
’نہ تو روزگار ہے نہ ہی سر چھپانے کے لیے آشیانہ‘
بھوک ہڑتالی کیمپ’لاپتہ کی تلاش‘
گمشدہ بلوچوں کی بازیابی کےلیے بھوک ہڑتال
سینیٹ (فائل فوٹو)سینیٹرز کا مطالبہ
’سرکاری اداروں میں بلوچ نمائندگی بڑھائی جائے‘
بلوچستان اسمبلیبلوچ بدگمان کیوں؟
ساٹھ برس بعد بھی بلوچ حکومت سے بدگمان ہیں
پناہ گزینبلوچ سمینار
اقتدار عوام کو منتقل کریں: بلوچ رہنما
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد