سرداری کا تنازع: بگٹی خاندان تقسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے ایک سال بعد انہیں ماننے والے قبیلے کے بیشتر لوگ تو تاحال متحد نظر آتے ہیں لیکن ان کا خاندان منتشر اور اختلافات کا شکار ہوچکا ہے۔ نواب بگٹی کا جان نشین بننے کے سوال پر سرداری خاندان تقسیم ہوگیا ہے۔ ان کے چھوٹے بیٹے طلال بگٹی نے خود کو بگٹی قبیلے کا سردار کہلانا شروع کردیا ہے لیکن ان کے بڑے بھائی جمیل بگٹی ہوں یا بھتیجے میر عالی عرف میر ادو اور برہمداغ بگٹی ہوں، وہ انہیں سردار نہیں مانتے۔ طلال خان بگٹی کا دعویٰ ہے کہ بلوچ روایات کے مطابق سرداری اُس بیٹے کو ملتی ہے جو سردار کے قبیلے والی بیوی سے ہو۔ ان کے مطابق جمیل بگٹی کی والدہ پشتون ہیں ان کا خون خالص بلوچ نہیں ہے لہٰذا وہ سرداری کے اہل نہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ نواب اکبر بگٹی کے بڑے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ بھی پشتون تھیں اس لیے انہیں سردار نہیں بنایا گیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بلوچ روایات تو یہ بھی ہیں کہ سردار کا بڑا بیٹا جان نشین بنتا ہے اگر وہ فوت ہوجائے تو ان کا بڑا بیٹا سردار بنتا ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے لیکن نواب بگٹی نے اپنی زندگی میں ہمارے بڑے بھائی مرحوم سلیم اکبر بگٹی اور ان کے بڑے صاحب زادے میر ادو سے ناراض ہوکر انہیں جاں نشین نہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ طلال بگٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ نواب بگٹی نے مرنے سے دو ماہ قبل صوبہ سندھ کے ایک شخص کے ذریعے سرداری بندوق انہیں بھجوائی تھی اس لیے وہی ان کے جان نشین ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں (طلال خان ) تو نواب بگٹی نے اپنی زندگی میں عاق کرتے ہوئے ڈیرہ بگٹی سے ضلع بدر کیا تھا وہ سردار کیسے بن سکتے ہیں؟ تو طلال بگٹی نے انتہائی سخت انداز میں کہا کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہی درست ہے۔
جمیل اکبر بگٹی کہتے ہیں کہ قبیلے کے بیشتر افراد کو پتہ ہے کہ نواب صاحب اپنے نواسے برہمداغ بگٹی کو اپنا جان نشین بنانا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق اس بارے میں نواب نے اپنے قبیلے کے سرکردہ افراد سے مشاورت بھی شروع کی تھی لیکن حالات خراب ہونے کی وجہ سے اعلان نہیں ہوسکا۔ جمیل بگٹی کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی طلال بگٹی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور خاندان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فی الوقت بگٹی قبیلہ حالت جنگ میں ہے اور جب کبھی وقت آیا تو قبیلہ خود بیٹھ کر اپنے سردار کا فیصلہ کرے گا۔ نواب بگٹی کو ماننے والے عام لوگ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ نواب بگٹی کی خواہش برہمداغ کو سردار بنانے کی ضرور تھی لیکن روایات کے مطابق بڑے بیٹے کے بڑے بیٹے کو نظر انداز کرنے سے قبیلے کے تقسیم ہونے کے خطرے کے پیش نظر انہوں نے اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ میر عالی اور برہمداغ آخری دنوں تک اپنے دادا کے دائیں اور بائیں رہتے تھے لیکن اطلاعات کے مطابق نواب بگٹی نے ہلاکت سے پہلے انہیں مری قبیلے کے کمانڈر بالاچ خان کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ بعد میں میر عالی کی پاکستان اور برہمداغ کی کابل میں موجودگی کی اطلاعات ملیں۔ طلال بگٹی تو اپنے سردار ہونے کا اعلان کر چکے ہیں لیکن میر عالی اور برہمداغ بھی خود کو غیر اعلانیہ بگٹی قبیلے کا سردار کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ نواب اکبر بگٹی مرحوم نے تین شادیاں کی تھیں جس میں سے ان کے چھ بیٹے ہوئے۔ بڑی اور بگٹی قبیلے کی بیگم سے انہیں چار بیٹے ہوئے سلیم اکبر، ریحان اکبر، طلال اکبر اور سلال اکبر۔ جبکہ پشتون بیگم سے جمیل اکبر اور ایرانی نژاد بیگم سے بھی ایک بیٹا ہوا جو کراچی میں مقیم ہے۔
یاد رہے کہ نواب بگٹی کی زندگی میں بگٹی قبیلے کے دو ذیلی شاخوں کلپر اور مسوری بگٹیوں کے سینکڑوں افراد، جن کو مرحوم نے ڈیرہ بگٹی بدر کردیا تھا وہ ان کی ہلاکت کے بعد سرکاری سرپرستی میں اپنے آبائی علاقوں میں آباد ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر حکومتی انتظام کے تحت منعقد کردہ جرگے میں سرداری نظام ختم کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ ایسے میں بگٹی قبیلے کے کئی لوگوں کی خواہش ہے کہ نواب بگٹی کی جان نشینی کے تینوں دعویداروں کو مل بیٹھ کر طے کرنا چاہیے ورنہ خاندان کے ساتھ ساتھ قبیلہ بھی تقسیم ہوجائے گا۔ |
اسی بارے میں بگٹی برسی: یوم سیاہ، ہڑتال کی اپیل25 August, 2007 | پاکستان سوئی دھماکہ، پولیس اہلکار زخمی12 August, 2007 | پاکستان رازق بگٹی قاتلانہ حملے میں ہلاک27 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||