BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 22:15 GMT 03:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی 4سال بعد اسمبلی میں

مخدوم جاوید ہاشمی
حکمرانوں سے حساب لینے کا وقت آگیا ہے: جاوید ہاشمی
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی نے جیل سے رہائی ملنے کے بعد پیر کے روز چار سال کے وقفے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔

عدالت عظمی کے حکم پر ضمانت پر رہا ہونے والے مسلم لیگ کے قائم مقام صدر کو انکی سرکاری رہائش گاہ فیڈرل لاجز سے ایک جلوس کی شکل میں قومی اسمبلی لایا گیا جہاں اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اسلام آباد کے علاوہ پنجاب پولیس کے ایلیٹ دستوں کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹ ہاؤس کے بیرونی گیٹ اور اندر جانےوالے رستوں پر تعینات تھی اور ہر آنے جانے والے کی کڑی نگرانی اور تلاشی لی جا رہی تھی۔

مخدوم جاوید ہاشمی اجلاس شروع ہونے کے ایک گھنٹے بعد اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تو حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کھڑے ہو کر اور پرجوش اندز میں ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ متعدد ارکان نے جاوید ہاشمی کی نشست پر جاکر انہیں مبارکباد دی۔

 چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ایک نیا پاکستان وجود میں آیا ہے جس میں نہ نئے مارشل لا کی گنجائش ہے اور نہ ایمرجنسی کی۔ لہذا فوجی حکمران قوم کو ان کا نام لے کر ڈرانے کا سلسلہ بند کردیں۔
مخدوم جاوید ہاشمی
قومی اسمبلی ہال میں حزب اختلاف کی اہم جماعت کے پارلیمانی لیڈر کا استقبال اور انہیں مبارکباد دینے والوں میں بعض سرکاری ارکان بھی پیش پیش رہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان نے سپیکر چوہدری امیر حسین سے درخواست کی کہ معمول کی کارروائی روک کر جاوید ہاشمی کو تقریر کرنے کا موقع دیا جائے۔

جاوید ہاشمی نے اپنی تقریر کا آغاز ارکان اسمبلی کے لئے شکریے کے جذبات سے کیا جو ان کی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کے لئے سپیکر سے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کرتے رہے تھے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ وہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ عدالت کی مداخلت پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں آ پائے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت اپنی آزادی کی جنگ جیت گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ کی بالادستی ابھی تک ایک خواب ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ ایسی پارلیمان جو ایک بیان جاری کرنے پر اپنے ایک رکن کا تحفظ نہیں کر سکی وہ چودہ کروڑ عوام کا تحفظ کیسے کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ فوجی صدر جس نے اس پارلیمان کے تقدس کا خیال نہیں رکھا اور اسے اپنے خطاب کے قابل بھی نہ سمجھا اب وہ اسی سے دوبارہ منتخب ہونے کے لئے ووٹ مانگ رہا ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ نہ جنرل مشرف کو پارلیمنٹ سے خطاب کرنے دیں گے اور نہ منتخب ہونے دیں گے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ جیل کی زندگی کے دوران انہوں نے ملکی سیاست کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ایک نیا پاکستان وجود میں آیا ہے جس میں نہ نئے مارشل لا کی گنجائش ہے اور نہ ایمرجنسی کی۔ لہذا فوجی حکمران قوم کو ان کا نام لے کر ڈرانے کا سلسلہ بند کردیں۔ ‘

جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملکی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاستدانوں نے جس ملک کو بنایا اور اسکی آبیاری کی فوجی حکمرانوں کے دور میں اس کی سرزمین اور جغرافیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے بغیر الیکشن کے انعقاد کی کوشش کی گئی تو یہ متنازعہ الیکشن ملک کی شکست و ریخت کا باعث ہو سکتے ہیں۔

اپنے اوپر فوج کو بدنام کرنے اور بغاوت کے الزامات کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ فوج کی توہین اور اس کے خلاف سازش تو ان لوگوں نے کی ہے جو اسے حکومت میں لائے جسکی وجہ سے آج ایک عام آدمی بھی چوک میں کھڑا ہو کر فوج کو برا بھلا کہ رہا ہے۔

جاوید ہاشمیضیاء سے مشرف تک
جاوید ہاشمی کے سیاسی ارتقاء کی کہانی
جاوید ہاشمی’پیرول یا جمہوریت‘
پیرول کی بجائے بحالی جمہوریت کی درخواست
 جاوید ہاشمی ’میں باغی ہوں‘
’ اس ملک کو سر پھروں کی ضرورت ہے‘
جاوید ہاشمیغیر متوقع نہیں
سزا غیر متوقع نہیں: سیاسی حلقے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد