جاوید ہاشمی 4سال بعد اسمبلی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی نے جیل سے رہائی ملنے کے بعد پیر کے روز چار سال کے وقفے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔ عدالت عظمی کے حکم پر ضمانت پر رہا ہونے والے مسلم لیگ کے قائم مقام صدر کو انکی سرکاری رہائش گاہ فیڈرل لاجز سے ایک جلوس کی شکل میں قومی اسمبلی لایا گیا جہاں اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اسلام آباد کے علاوہ پنجاب پولیس کے ایلیٹ دستوں کی ایک بڑی تعداد پارلیمنٹ ہاؤس کے بیرونی گیٹ اور اندر جانےوالے رستوں پر تعینات تھی اور ہر آنے جانے والے کی کڑی نگرانی اور تلاشی لی جا رہی تھی۔ مخدوم جاوید ہاشمی اجلاس شروع ہونے کے ایک گھنٹے بعد اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تو حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کھڑے ہو کر اور پرجوش اندز میں ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ متعدد ارکان نے جاوید ہاشمی کی نشست پر جاکر انہیں مبارکباد دی۔ جاوید ہاشمی نے اپنی تقریر کا آغاز ارکان اسمبلی کے لئے شکریے کے جذبات سے کیا جو ان کی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کے لئے سپیکر سے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کرتے رہے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ وہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ عدالت کی مداخلت پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں آ پائے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت اپنی آزادی کی جنگ جیت گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ کی بالادستی ابھی تک ایک خواب ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ ایسی پارلیمان جو ایک بیان جاری کرنے پر اپنے ایک رکن کا تحفظ نہیں کر سکی وہ چودہ کروڑ عوام کا تحفظ کیسے کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوجی صدر جس نے اس پارلیمان کے تقدس کا خیال نہیں رکھا اور اسے اپنے خطاب کے قابل بھی نہ سمجھا اب وہ اسی سے دوبارہ منتخب ہونے کے لئے ووٹ مانگ رہا ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ نہ جنرل مشرف کو پارلیمنٹ سے خطاب کرنے دیں گے اور نہ منتخب ہونے دیں گے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ جیل کی زندگی کے دوران انہوں نے ملکی سیاست کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ایک نیا پاکستان وجود میں آیا ہے جس میں نہ نئے مارشل لا کی گنجائش ہے اور نہ ایمرجنسی کی۔ لہذا فوجی حکمران قوم کو ان کا نام لے کر ڈرانے کا سلسلہ بند کردیں۔ ‘ جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملکی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاستدانوں نے جس ملک کو بنایا اور اسکی آبیاری کی فوجی حکمرانوں کے دور میں اس کی سرزمین اور جغرافیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے بغیر الیکشن کے انعقاد کی کوشش کی گئی تو یہ متنازعہ الیکشن ملک کی شکست و ریخت کا باعث ہو سکتے ہیں۔ اپنے اوپر فوج کو بدنام کرنے اور بغاوت کے الزامات کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ فوج کی توہین اور اس کے خلاف سازش تو ان لوگوں نے کی ہے جو اسے حکومت میں لائے جسکی وجہ سے آج ایک عام آدمی بھی چوک میں کھڑا ہو کر فوج کو برا بھلا کہ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں پارٹیوں میں بھی آمریت تسلیم نہیں: ہاشمی04 August, 2007 | پاکستان جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی کی رہائی کا حکم03 August, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی کیوں قید ہیں: عدالت01 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||