کراچی: ماہی گیر چھوڑ دیے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں واقع مچھیروں کی قدیم بستی ابراہیم حیدری سے لاپتہ ہونے والے دو ماہی گیر نوجوان منگل کی شب اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشرفوک فورم کے رہنما محمد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں نوجوانوں کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے غلط فہمی کی بناء پر حراست میں لیا تھا تاہم ماہی گیروں کے احتجاج کے بعد ادارے نے منگل کی شب انہیں قیوم آباد کے علاقے میں چھوڑ دیا اور گھر جانے کا کرایہ بھی دیا۔ ادریس ولد حاجی تاجو اور عمران والد محمد کو اٹھائیس جولائی کی شب اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ ساحل کے قریب کشتی میں سوئے ہوئے تھے۔ ادریس کے رشتے دار عبدالمجید نے بی بی سی کو بتایا کہ رہائی کے بعد ادریس نے انہیں بتایا کہ ’ایک سرکاری ایجنسی کے لوگ کچھ لوگوں کا تعاقب کرتے ہوئے وہاں آئے تھے اور جب وہ ان کو پکڑ رہے تھے تو ان میں آپس میں ہاتھا پائی ہوگئی تھی جس سے ان بچوں کی آنکھ کھل گئی اور یہ لوگ ڈر گئے اور کشتی کی رسی کھولنے لگے جس پر انہیں بھی پکڑ لیا۔‘ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوانوں نے بتایا کہ حراست کے دوران ان کے ساتھ کوئی تشدد نہیں کیا گیا اور جب انہوں نے تفتیش کرنے والے اہلکاروں کو حقیقت بتائی تو انہیں رہا کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں لڑکوں کو یہ نہیں پتہ کہ انہیں کس ایجنسی نے حراست میں لیا تھا اور کہاں رکھا تھا۔ واضح رہے کہ ادریس اور عمران کی گرفتاری کے خلاف منگل کو ابراہیم حیدری کے باشندوں نے ہڑتال کی تھی اور ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا تھا۔ | اسی بارے میں 265 بھارتی ماہی گیر رہا06 January, 2005 | پاکستان کراچی: 529 بھارتی ماہی گیر رہا 21 March, 2005 | پاکستان مچھلی کشی: ماہی گیروں کااحتجاج31 August, 2005 | پاکستان پاکستان: 371 بھارتی ماہی گیر واپس 10 September, 2005 | پاکستان چھتیس غیرملکی ماہی گیر گرفتار30 March, 2006 | پاکستان بھارتی ماہی گیروں کی رہائی29 May, 2006 | پاکستان رہا کیے گئے ماہی گیر بھارت واپس30 May, 2006 | پاکستان حکومت کی تلخیوں کا شکار ماہی گیر20 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||