BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رپورٹ بلاجواز دعوؤں کا اعادہ ہے‘

دہشتگردوں کے خلاف ضروری قدم اٹھایا جاسکتا ہے: حکومت
پاکستان نےامریکی خفیہ ادارے کی حالیہ رپورٹ کے بارے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کچھ بلاجواز دعوؤں کا اعادہ کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد گروہ کو اپنی حدود کےاستعمال کی اجازت نہیں دےگا۔ ’پاکستان نے القاعدہ کو تباہ کرنے کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ کردار ادا کیا ہے اور القاعدہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی باقیات کے خلاف موثر کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔’


انہوں نے کہا کہ ہم خفیہ اداروں کی اطلاعات پر القاعدہ کے پوشیدہ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس سے یہ اخذ کرنا درست نہیں کہ القاعدہ سرحدی علاقوں میں موجود ہے یا پھر دوبارہ منظم ہورہی ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپس میں درست اورموثر کاروائیوں کے لیے قابل اعتماد معلومات کے تبادلے کو یقینی بنایا جائے۔
 دہشت گردی کے خلاف عزم میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چائیے کہ ہم کسی کوئی اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیں گے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مہم سب سے پہلے اس کے اپنے قومی مفاد ،امن و استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ہے اور ہم اس سلسلے میں عالمی برادری سے تعاون کرکے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

’دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی ایک جامع حکمت عملی ہے جو سیاسی ،انتظامی ،معاشی اور جہاں ضروری ہو فوجی ایکشن پر مشتمل ہے۔‘

تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن بہت واضح ہے کہ اس کی حدود میں کوئی بھی کارروائی اس کی اپنی سکیورٹی فورسز ہی کریں گی۔ ’یہی ہمارے تعاون کی بنیاد ہے۔ ہم نے فوجی دستے تعینات کیے ہیں چوکیاں قائم کی ہیں اور کچھ علاقوں میں باڑ بھی لگائی ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی بھی ضروری قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے دہشت گردی کے خلاف عزم میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چائیے کہ ہم کسی کوئی اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔‘

مذکورہ امریکی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ دوربارہ منظم ہو رہی ہے۔

لال مسجد (فائل فوٹو) ’اسلامی انقلاب‘
’لال مسجد پر حملہ ہوا تو ردعمل وزیرستان سے‘
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
اسی کی دہائی کی یاد
’دھماکہ افغانستان یا وزیرستان سے جُڑاہوا ہے‘
اسی بارے میں
سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
شمالی وزیرستان، تین ہلاک
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد