BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اپنا خون پہچاننے میں دیر نہیں لگتی‘

عثمان شاہ
میرے بیٹے کا تعلق کسی بھی شدت پسند تنظیم سے نہیں ہے
لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے شاہد عثمان کے والد سید عثمان شاہ کا کہنا ہے کہ اُنہیں اپنے بیٹے کی ہلاکت سے زیادہ افسوس اس بات کا ہوا کہ اُن کے بیٹے کی تصویر اخبار میں یہ کہہ کر شائع کی گئی کہ وہ ایک غیر ملکی ہیں۔

حکومت کی جانب سے اخبارات میں لال مسجد کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے چند افراد کی تصاویر یہ کہہ کر شائع کی گئی تھیں کہ یہ مسجد میں موجود غیر ملکی شدت پسند ہیں۔انہی میں سے ایک تصویر کے بارے میں ضلع اٹک کے مضافاتی گاؤں شکردرہ کے سید عثمان شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے شاہد عثمان کی ہے۔

سید عثمان کا کہنا تھا کہ جب لوگوں نے اُنہیں یہ تصویر لا کر دکھائی تو اُنہوں نے اور اُن کی اہلیہ نے فورًا یہ تصویر پہچان لی۔ ان کا کہنا تھا ’اگرچہ اپنے خون کو پہچاننے میں دیر نہیں لگتی، لیکن شاہد عثمان جو کپڑے گھر سے پہن کر گیا تھا تصویر میں وہی کپڑے پہن رکھے تھے اور سر پر ٹوپی بھی وہی پہن رکھی تھی‘۔

لوگوں کی جانب سے پہنائے جانے والے پھولوں کے ہار پہنے لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے بیٹے شاہد عثمان کے لیے جہاں دعائے مغفرت کرتے نظر آتے ہیں وہیں اُن کے اپنے گاؤں اور اردگرد کے لوگ اُنہیں بیٹے کی’شہادت‘ پر مبارکباد بھی دیتے نظر آتے ہیں۔

’ہمارے بھائی کی خواہش تھی کہ وہ شہید ہو اور اللہ نے اُس کی بات سُنی‘

سید عثمان شاہ کے گھر آنے والے اکثر لوگ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے نظر آئے کہ اس ملک میں اینٹیلیجنس ادارے یہ بھی پتہ چلانے سے قاصر ہیں کہ کون ملکی ہے اور کون غیر ملکی۔

شاہد عثمان کے والد کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹے کا تعلق کسی بھی شدت پسند تنظیم سے نہیں ہے اور وہ ایک سال پہلے ہی قرآن حفظ کرنے کے لیے گیا تھا۔

لال مسجد میں آپریشن کے دوران شاہد عثمان تو مارےگئے تاہم اُُن کے چھوٹا بھائی سید صفی اللہ زخمی حالت میں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اور اس حوالے سے اُن کے والد کا کہنا ہے اُنہیں اپنے بیٹے سے ملنے نہیں دیا جا رہا اور صرف اُن کی اہلیہ کو چند لمحوں کے لیے اپنے بیٹے سے ملنے دیا گیا۔

شاہد عثمان کے چھوٹے بھائی محمد شعیب کا کہنا تھا کہ چھ جولائی کو جمعہ کے دن آخری بار اُن کی اپنے بھائی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت ہمیں ختم کرنا چاہتی ہے اس لیے مجھے معاف کر دینا اور باقی دوستوں سے بھی کہنا کہ وہ معاف کر دیں اور یہ کہ انہوں نے محلے کے ایک دوکاندار کے پچیس روپے دینے ہیں وہ واپس کر دوں اور پھر کہا کہ زیادہ بات نہیں ہو سکتی کیونکہ بجلی نہ ہونے کے باعث موبائل فون کی بیٹری ختم ہو رہی ہے اور دوسرے ساتھیوں نے بھی گھر بات کرنی ہے‘۔

حکومت اس تصویر کو ازبک جنگجو کی تصویر بتاتی ہے جبکہ عثمان شاہد کے ورثاء کے مطابق یہ ان کے بیٹے کی تصویر ہے۔

ہلاک ہونے والے شاہد عثمان کے والد اور دونوں چھوٹے بھائیوں کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بھائی کی خواہش تھی کہ وہ شہید ہو اور اللہ نے اُس کی بات سُنی اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے‘۔شاہد عثمان کے والد کا کہنا ہے اُنہوں نے یہ معاملہ خدا کے سپرد کر دیا ہے اور وہی اس فیصلہ کرے گا۔

حکومت نے پہلے چار لاشوں کی تصاویر شائع کر کے کہا تھا کہ یہ غیرملکی ہیں اور بعد میں وزراتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے دعوٰی کیا تھا کہ شاخت کی جانے والی لاشوں میں سے دس غیر ملکیوں کی ہیں۔

لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
لال مسجد کے اندر کا منظرلال مسجد کئی سوال
شدت پسند کہاں تھے اور کہاں چلے گئے
ہلاک و زخمی ہونے والوں کا اندراجلال مسجد اور صحافی
لال مسجد آپریشن اور معلومات کا حصول
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
لال مسجد آپریشن
والدین بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند
عاصمہ جہانگیر’لال مسجد آپریشن‘
تاخیری حربوں، ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
اسی بارے میں
ہلاکتوں کی تعداد پرشکوک
12 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد