کرفیو ختم، مگر پابندی سات دن اور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی سِکس میں گزشتہ دس روز سے نافد کرفیو سنیچر کی صبح اٹھا لیا گیا مگر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے ارد گرد کے علاقے کو سات دن تک کے لیے ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے صحافی احتشام الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ کرفیو اٹھانے کا فیصلہ گزشتہ روز کر لیا گیا تھا لیکن اس کا عملی اطلاق سنیچر کی صبح سے کیا گیا۔ البتہ حکام کہتے ہیں کہ لال مسجد اور مدرسۂ حفصہ کے ارد گرد کے علاقے میں اب بھی عام لوگوں کی رسائی اگلے سات روز تک ممکن نہیں ہوگی۔ جی سکس سیکٹر کے کچھ علاقوں میں لوگوں کو آمد و رفت کے لیے متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ گھروں سے باہر جانے کے لیے انہیں لال مسجد اور ملحقہ مدرسے کے پاس سے نہ گزرنا پڑے۔ علاقے سے باہر رہنے والے لوگوں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کرفیو کے دوران سیکٹر جی سکس کے مکین شدید ذہنی اور جسمانی کرب کا شکار رہے۔ فوجی آپریشن کی وجہ سے علاقے کے کئی حصوں میں بجلی اور گیس کی فراہمی بھی منقطع رہی۔
ادھر صوبہ سرحد کے وزیر نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سرحد کے جنوبی حصوں میں فوج کی آمد دراصل صوبائی حکومت کی درخواست پر ہوئی۔ جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں لال مسجد اور مدرسۂ حفصہ کے خلاف فوجی آپریشن پر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرے ہوئے تھے۔ ان مظاہروں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی ہوتی رہی اور ان کے پتلے بھی جلائے گئے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جمعہ کی شام ایک اخباری کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ کارروائی کے پہلے روز سے لے کر آج تک مجموعی طور پر ایک سو دو افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکانوے سویلین، دس فوج کے اور ایک رینجر کا اہلکار شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لال مسجد آپریشن میں ہلاک، زخمی اور گرفتار ہونے والے تمام افراد کی معلومات وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر اور سپورٹس کمپلیکس میں قائم معلومات کے مرکز پر فراہم کی جائیں گی۔ اس مرکز میں عملہ چوبیس گھنٹے موجود رہے گا۔ ان دس افراد کی شناخت شناختی کارڈز جاری کرنے والے ادارے نادرا نے انگلیوں کے نشانات کے ذریعے کی۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ جی سکس کے علاقے میں صبح چھ بجے سے کرفیو ختم کیا جا رہا ہے تاہم مسجد و مدرسے کے گرد یہ پابندی موجود رہے گی۔ اس علاقے میں لوگوں کو متبادل راستے بھی فراہم کیے جائیں گے۔
آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ ام حسان اور ان کی دونوں بیٹوں کے علاوہ سب عورتوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ صرف حیدر آباد کی ایک خاتون کو والدین کے آنے پر رہا کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تصاویر، فنگر پرنٹس اور ڈی این اے کے نمونے لے لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو باقاعدہ غسل، کفن کے ساتھ اسلامی طریقے سے دفن کیا گیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ہر قبر کی شناخت موجود ہے اور رشتہ داروں کے شناخت کرنے کے بعد لاش ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات مسخ شدہ لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ انہوں نے تاہم اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان لاشوں میں چند عورتوں کی بھی ہوسکتی ہیں۔ |
اسی بارے میں پاکستان میں سکیورٹی سخت 13 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: پاکستان میں مظاہرے13 July, 2007 | پاکستان لال مسجد ہلاکتیں، غائبانہ نماز جنازہ13 July, 2007 | پاکستان آپریشن کے بعد سرحد میں فوج13 July, 2007 | پاکستان ’خوشی کا نہیں سوچنے کا دن‘12 July, 2007 | پاکستان عبدالرشید غازی کو دفنا دیاگیا12 July, 2007 | پاکستان ہلاک شدگان، اسلام آباد میں امانتاً تدفین 12 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||