BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 July, 2007, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عطا محمد بستی عبداللہ چھوڑ کر کیوں گیا؟

عبدالرشید غازی کے جنازے کا انتظار
روجھان روڈ پر واپسی کے وقت میں ان دیہاتیوں کو دیکھ رہا تھا جو اپنے بچوں کو پڑھوانا ور نوکری دلوانا چاہتے ہیں مگر ان کے لیے اس پسماندہ علاقے میں مواقع بہت محدود ہیں۔
اسلام آباد کے قلب میں واقع لال مسجد کے طویل اور خونی آپریشن میں ہلاک کیے گئے غازی عبدالرشید کی تین گھنٹے تاخیر سے جب تدفین کی جا رہی تھی تو قبر کے نزدیک صوبہ سرحد سے ایم ایم اے کے رکن قومی اسمبلی شاہ عبدالعزیز اور دیگر چند افراد کو ملا کر موجود لوگوں کی تعداد پچاس سے زیادہ نہیں تھی۔

ابھی تین گھنٹے قبل ہی اس گاؤں کے واحد مدرسہ کا احاطہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لوگوں کی کم ہوتی تعداد دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر بھاری تعداد میں موجود پنجاب پولیس کے دستے بھی گاؤں سے چلے گئے تو یہ غازی اور بستی عبداللہ کتنے تنہا رہ جائیں گے۔

بدھ کے دن جب ہم نے گاؤں میں موجود غازی کے کسی رشتہ دار سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ہمیں حاجی احمد سے ملوایا گیا۔ وہ بزرگ چرواہا اپنے بیٹے عطا محمد کی موت کے غم میں سوگوار تھا۔ وہ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ایک عدد شامیانے کے نیچے زمین پر بچھائی گئی چادروں پر بیٹھے تھے۔

میرے اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو اپنے بیٹے کی ہلاکت کی اطلاع کتنے بجے ملی، حاجی احمد نے اونچی آواز میں کہا کہ ’ہم جنگلی لوگ ہیں بجے وجے کا کوئی پتا نہیں، شام کو گاؤں میں بات پھیل چکی تھی‘۔

حاجی احمد نے کھل کر بات کی اور اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا کہ

نوکری کا طویل انتظار
 ہم جنگلی لوگ ہیں بجے وجے کا کوئی پتا نہیں، شام کو گاؤں میں بات پھیل چکی تھی۔ عطا محمد کو بارھویں جماعت کے بعد نوکری نہیں مل رہی تھی۔ علاقے کے سرداروں اور وڈیروں کی بہت مِنت سماجت کی مگر عطا محمد کو نوکری نہیں ملی۔نوکری کا انتظار جب طویل ہوگیا تو عطا محمد بستی عبداللہ کو چھوڑ کر اسلام آباد چلاگیا۔
حاجی احمد
عطا محمد کو بارھویں جماعت کے بعد نوکری نہیں مل رہی تھی۔ علاقے کے سرداروں اور وڈیروں کی بہت مِنت سماجت کی مگر عطا محمد کو نوکری نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ نوکری کا انتظار جب طویل ہوگیا تو عطا محمد بستی عبداللہ کو چھوڑ کر اسلام آباد چلا گیا۔ پاکستان کے اکثر پسماندہ علاقوں کی طرح بستی عبداللہ جیسی اکثر بستیوں کے نوجوان بیروزگاری سے تنگ آ کر اپنی آبائی بستیاں چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر وہ کبھی کبھار ہی گاؤں لوٹ سکتے ہیں۔

بستی عبداللہ میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ مولوی عبداللہ کے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز تو کبھی کبھار گاؤں لوٹ کر آتے تھے مگر انہوں نے غازی عبدالرشید کو گاؤں میں ایک دو بار کےعلاوہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔

آبائی گاؤں ہونے کے باوجود بستی عبداللہ میں غازی عبدالرشید کے بچپن کا کوئی دوست نہیں رہتا۔ گاؤں میں غازی کی میت صبح نو بجے پہنچی تو لوگوں کا ایک ہجوم ایمبولینس کی طرف دوڑنے لگا۔ایمبولینس سے پہلے سکیورٹی حکام کی ایک ڈبل کیبن گاڑی پہنچی۔گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اسلام آباد پولیس کا ایک افسر بیٹھا ہو اتھا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر غازی کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز خاموش بیٹھے تھے۔

نماز جنازہ میں نظم وضبط برقرار رکھنے کی فکر انتظامیہ سے زیادہ منتظمین کو لاحق تھی۔ایمبولینس میں رکھی میت اور گاڑی میں بیٹھے عبدالعزیز کو دیکھنے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے، ان کو پولیس اہلکاروں سے زیادہ مقامی گاؤں کے لوگ پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے جوش میں آکر مقامی زبان میں لوگوں سے کہا خدا کے واسطے پیچھے ہوجاؤ، ہر طرف فوج ہی فوج ہے، خوامخواہ کوئی فساد کیوں کروانا چاہتے ہو۔

اجنبی غازی
 مولوی عبداللہ کے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز تو کبھی کبھار گاؤں لوٹ کر آتے تھے مگر غازی عبدالرشید کو گاؤں میں ایک دو بار کےعلاوہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔
مقامی لوگ
بدھ کا سارا دن انتظار اور ابہام میں گزرا کہ میتیں بستی میں آئیں گی یا نہیں رات دیر سے تین قبریں مدرسے کے احاطے میں پولیس سے مشورہ کے بعد بنائی گئیں۔ لوگوں کا یہ انتظار صبح میں ابھی ختم ہونے والا تھا کہ پولیس نے مولانا عبدالعزیز کے بغیر نماز جنازہ ادا کرنے کی بات کی۔ یہ بات غازی عبدالرشید کے رشتہ داروں اور پولیس کے درمیان ہوئی۔

لوگوں کو یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ عبدالعزیز کو دو گھنٹے گزرنے کے بعد بھی گاڑی سے اترنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ لوگ ہجوم کی صورت میں ڈبل کیبن گاڑی کے اطراف میں کھڑے تھے کہ میں نے میت والی ایمبولینس کو مدرسے کے فاصلے پر گھروں کے قریب دیکھا۔

چند قدموں کے بعد جب ایمبولینس کے قریب پہنچے تو ڈسٹرکٹ پولیس افسر راجن پور اور مولانا عبدالعزیز کے بھانجے عامر صدیق کے درمیاں تلخ کلامی ہو رہی تھی۔

عبدالرشید غازی کا جنازہ
عامر صدیق نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز کو گاڑی سے باہر مدرسے میں آنے دیا جائے ۔اگر انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ میت کو گھر میں ہی رکھیں گے۔

عامر کا اس لہجے میں بات کرنا پولیس افسر کو اچھا نہیں لگا۔انہوں نے مولانا کے بھانجے کو رعب دار انداز میں کہا کہ مطالبے کی کیا بات کر رہے ہو۔اپنے باپ سے پوچھو کیا باتیں طے پائی تھیں۔

غازی عبدالرشید کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے لوگوں سے زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی تھی۔ پولیس نے جب مولانا کو مدرسے کے اندر جانے کی اجازت دی تو وہ سیدھے جائے وضو کی طرف چلے گئے۔

نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد مولانا عبدالعزیز کو پولیس اہلکاروں نے جلدی سے گاڑی میں بٹھا کر واپس بھیج دیا۔لوگ بھی منتشر ہونےلگے۔پولیس والوں نے بھی صبح سے پہنی وردیوں کے شرٹ اتار کر درختوں کے سائے تلے بیٹھنا شروع کیا۔

رشتہ داروں کی واپسی تو ہوگئی تھی، مگر دیگر مہمانوں کی واپسی ابھی جاری تھی۔ روجھان روڈ پر واپسی کے وقت میں ان دیہاتیوں کو دیکھ رہا تھا جو اپنے بچوں کو پڑھوانا اور نوکری دلوانا چاہتے ہیں مگر ان کے لیے اس پسماندہ علاقے میں مواقع بہت محدود ہیں۔

بستی عبداللہ سے واپسی پر حاجی احمد میری آنکھوں کے سامنے رہا جسے اپنے بیٹے کی میت کا انتظار ہے۔ اس کی آنکھوں میں میت کا انتظار کتنا طویل ہوگا یہ فیصلہ روجھان میں نہیں اسلام آباد میں ہونا ہے۔

لال مسجد آپریشنلوگ پہلے سوچیں گے
مسجد آپریشن : سرمایہ کاری پر سوالیہ نشان
بڑی خاموش رات تھی
آپریشن کے دوران مسجد کی طالبات پر کیا بیتی
لال مسجد آپریشن
آپریشن کے دوران خواتین کا کردار میڈیا سے غائب
کیا کچھ دیکھا
آپریشن کے بعد ذرائع ابلاغ کا دورہ مسجد
اسی بارے میں
پاکستان میں سکیورٹی سخت
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد