عطا محمد بستی عبداللہ چھوڑ کر کیوں گیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے قلب میں واقع لال مسجد کے طویل اور خونی آپریشن میں ہلاک کیے گئے غازی عبدالرشید کی تین گھنٹے تاخیر سے جب تدفین کی جا رہی تھی تو قبر کے نزدیک صوبہ سرحد سے ایم ایم اے کے رکن قومی اسمبلی شاہ عبدالعزیز اور دیگر چند افراد کو ملا کر موجود لوگوں کی تعداد پچاس سے زیادہ نہیں تھی۔ ابھی تین گھنٹے قبل ہی اس گاؤں کے واحد مدرسہ کا احاطہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لوگوں کی کم ہوتی تعداد دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر بھاری تعداد میں موجود پنجاب پولیس کے دستے بھی گاؤں سے چلے گئے تو یہ غازی اور بستی عبداللہ کتنے تنہا رہ جائیں گے۔ بدھ کے دن جب ہم نے گاؤں میں موجود غازی کے کسی رشتہ دار سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ہمیں حاجی احمد سے ملوایا گیا۔ وہ بزرگ چرواہا اپنے بیٹے عطا محمد کی موت کے غم میں سوگوار تھا۔ وہ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ایک عدد شامیانے کے نیچے زمین پر بچھائی گئی چادروں پر بیٹھے تھے۔ میرے اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو اپنے بیٹے کی ہلاکت کی اطلاع کتنے بجے ملی، حاجی احمد نے اونچی آواز میں کہا کہ ’ہم جنگلی لوگ ہیں بجے وجے کا کوئی پتا نہیں، شام کو گاؤں میں بات پھیل چکی تھی‘۔ حاجی احمد نے کھل کر بات کی اور اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا کہ
انہوں نے کہا کہ نوکری کا انتظار جب طویل ہوگیا تو عطا محمد بستی عبداللہ کو چھوڑ کر اسلام آباد چلا گیا۔ پاکستان کے اکثر پسماندہ علاقوں کی طرح بستی عبداللہ جیسی اکثر بستیوں کے نوجوان بیروزگاری سے تنگ آ کر اپنی آبائی بستیاں چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر وہ کبھی کبھار ہی گاؤں لوٹ سکتے ہیں۔ بستی عبداللہ میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ مولوی عبداللہ کے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز تو کبھی کبھار گاؤں لوٹ کر آتے تھے مگر انہوں نے غازی عبدالرشید کو گاؤں میں ایک دو بار کےعلاوہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ آبائی گاؤں ہونے کے باوجود بستی عبداللہ میں غازی عبدالرشید کے بچپن کا کوئی دوست نہیں رہتا۔ گاؤں میں غازی کی میت صبح نو بجے پہنچی تو لوگوں کا ایک ہجوم ایمبولینس کی طرف دوڑنے لگا۔ایمبولینس سے پہلے سکیورٹی حکام کی ایک ڈبل کیبن گاڑی پہنچی۔گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اسلام آباد پولیس کا ایک افسر بیٹھا ہو اتھا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر غازی کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز خاموش بیٹھے تھے۔ نماز جنازہ میں نظم وضبط برقرار رکھنے کی فکر انتظامیہ سے زیادہ منتظمین کو لاحق تھی۔ایمبولینس میں رکھی میت اور گاڑی میں بیٹھے عبدالعزیز کو دیکھنے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے، ان کو پولیس اہلکاروں سے زیادہ مقامی گاؤں کے لوگ پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے جوش میں آکر مقامی زبان میں لوگوں سے کہا خدا کے واسطے پیچھے ہوجاؤ، ہر طرف فوج ہی فوج ہے، خوامخواہ کوئی فساد کیوں کروانا چاہتے ہو۔
لوگوں کو یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ عبدالعزیز کو دو گھنٹے گزرنے کے بعد بھی گاڑی سے اترنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ لوگ ہجوم کی صورت میں ڈبل کیبن گاڑی کے اطراف میں کھڑے تھے کہ میں نے میت والی ایمبولینس کو مدرسے کے فاصلے پر گھروں کے قریب دیکھا۔ چند قدموں کے بعد جب ایمبولینس کے قریب پہنچے تو ڈسٹرکٹ پولیس افسر راجن پور اور مولانا عبدالعزیز کے بھانجے عامر صدیق کے درمیاں تلخ کلامی ہو رہی تھی۔
عامر کا اس لہجے میں بات کرنا پولیس افسر کو اچھا نہیں لگا۔انہوں نے مولانا کے بھانجے کو رعب دار انداز میں کہا کہ مطالبے کی کیا بات کر رہے ہو۔اپنے باپ سے پوچھو کیا باتیں طے پائی تھیں۔ غازی عبدالرشید کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے لوگوں سے زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی تھی۔ پولیس نے جب مولانا کو مدرسے کے اندر جانے کی اجازت دی تو وہ سیدھے جائے وضو کی طرف چلے گئے۔ نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد مولانا عبدالعزیز کو پولیس اہلکاروں نے جلدی سے گاڑی میں بٹھا کر واپس بھیج دیا۔لوگ بھی منتشر ہونےلگے۔پولیس والوں نے بھی صبح سے پہنی وردیوں کے شرٹ اتار کر درختوں کے سائے تلے بیٹھنا شروع کیا۔ رشتہ داروں کی واپسی تو ہوگئی تھی، مگر دیگر مہمانوں کی واپسی ابھی جاری تھی۔ روجھان روڈ پر واپسی کے وقت میں ان دیہاتیوں کو دیکھ رہا تھا جو اپنے بچوں کو پڑھوانا اور نوکری دلوانا چاہتے ہیں مگر ان کے لیے اس پسماندہ علاقے میں مواقع بہت محدود ہیں۔ بستی عبداللہ سے واپسی پر حاجی احمد میری آنکھوں کے سامنے رہا جسے اپنے بیٹے کی میت کا انتظار ہے۔ اس کی آنکھوں میں میت کا انتظار کتنا طویل ہوگا یہ فیصلہ روجھان میں نہیں اسلام آباد میں ہونا ہے۔ |
اسی بارے میں عبدالرشید غازی کو دفنا دیاگیا12 July, 2007 | پاکستان ’خوشی کا نہیں سوچنے کا دن‘12 July, 2007 | پاکستان لال مسجد ہلاکتیں، غائبانہ نماز جنازہ13 July, 2007 | پاکستان پاکستان میں سکیورٹی سخت 13 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||