BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین کا کردار میڈیا سے غائب

ابتدا میں ذرائع ابلاغ نے خواتین کے کردار کی کوریج کی تھی
ابتدا میں ذرائع ابلاغ نے خواتین کے کردار کی کوریج کی تھی
پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی جنگ نے لال مسجد کے اندر مرجانے والوں کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے اور اس معاملے میں خواتین کے کردار کی بھی کوریج نہیں ہوئی ہے۔

چھ ماہ پہلے جب جامعہ حفصہ کے قریب رہائش پذیر آنٹی شمیم کا اغواء عمل میں آیا تو جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان اور دیگر طالبات کو میڈیا میں کافی کوریج ملی تھی اور ان کے انٹرویوز پیش کیے گئے مگر شریعت کے نفاذ میں شامل اپنے آپ کو حق بجانب سمجھنے والی یہ طالبات اور ام حسان دس دن کی لڑائی میں دب سی گئیں۔

کیا اس ساری جنگ میں خواتین کو ایک مہرے کی طرح استعمال کیا گیا یا پھر واقعی طالبات میں خود سے شریعت نافذ کرنے کا جنون جاگا تھا؟

 دنیا میں ہمیشہ ناگہانی آفات یا اس طرح کی صورتحال میں عورتوں کے بارے میں خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں 2005ء میں آنے والے زلزلے میں بھی صنفی لحاظ سے رپورٹنگ کا شعبہ کافی کمزور تھا اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والے آپریشن میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے۔
لال مسجد کے خلاف ہونے والے آپریشن میں اگر یہ کہا جائے کہ جامعہ حفصہ کی خواتین پس منظر میں چلی گئیں اور ان کے بارے میں کوئی ٹھوس رپورٹ میڈیا میں پیش نہ ہوسکی کہ اس ساری لڑائی میں ان کا کیا کردار تھا تو غلط نہ ہوگا۔ مختلف سماجی حلقوں نے لال مسجد معاملے کو مختلف نظر سے دیکھا ہے، اس لیے اس کی کوریج خواتین کے نقطۂ نظر سے بھی کی جانی چاہیے تھی۔

عورتوں اور میڈیا کے حوالے سے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم ’عکس‘ کی سربراہ تسنیم احمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو ایمرجنسی صورتحال میں کام کرنے کی کوئی تربیت حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ نے لال مسجد آپریشن سے متعلق اپنی کوریج میں خواتین کے کردار کو اجاگر نہیں کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ دنیا میں ہمیشہ ناگہانی آفات یا اس طرح کی صورتحال میں عورتوں کے بارے میں خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں 2005ء میں آنے والے زلزلے میں بھی صنفی لحاظ سے رپورٹنگ کا شعبہ کافی کمزور تھا اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والے آپریشن میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے۔

وہ خواتین جیسے ام حسان جو اس آپریشن سے پہلے معاشرے کی اصلاح کے لیے کیے جانے والے واقعات میں پیش پیش تھیں، آخر میں ان کی شخصیت کے بارے میں کوئی کہانی یا رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی، نہ ہی ان طالبات کے بارے میں لکھا یا دکھایا گیا کہ وہ کس خاندانی پس منظر یا معاشرتی حالات میں یہاں رہ رہی تھیں۔

 چھ ماہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز جامعہ حفصہ کی برقعہ پوش خواتین کو ڈنڈے اٹھائے ہوئے دکھاتے رہے لیکن کسی بھی صحافی نے ان خواتین کے پس منظر کو جاننے اور عوام تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور ابھی بھی آپریشن کے اختتام پذیر ہو جانے کے باوجود یہ معلوم نہیں کہ کتنی طالبات ہلاک ہوئیں اور کتنی زخمی ہیں۔ یہ سب چھپایا گیا ہے یا کسی کی اس جانب توجہ ہی نہیں گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ساری معلومات میڈیا میں نظر نہیں آ سکیں جس کی بڑی وجہ صحافیوں کا کرائسس کے دوران رپورٹنگ کرنے کے لیے مناسب تربیت کا نہ ہونا شامل ہے۔

سعدیہ ایک مقامی یونیورسٹی میں ایم بی اے کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کے واقعات نے حجاب اور برقعہ پہننے والی خواتین کا امیج بہت متاثر کیا ہے۔

سعدیہ نے میڈیا کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز جامعہ حفصہ کی برقعہ پوش خواتین کو ڈنڈے اٹھائے ہوئے دکھاتے رہے لیکن کسی بھی صحافی نے ان خواتین کے پس منظر کو جاننے اور عوام تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور ابھی بھی آپریشن کے اختتام پذیر ہو جانے کے باوجود یہ معلوم نہیں کہ کتنی طالبات ہلاک ہوئیں اور کتنی زخمی ہیں۔ یہ سب چھپایا گیا ہے یا کسی کی اس جانب توجہ ہی نہیں گئی۔

’محصور‘ بچوں کے رشتہ دار’گولی کی آواز دل پر‘
مسجد میں’محصور‘ بچوں کے رشتہ داروں کے تاثرات
چودھری شجاعتآخری بات
گزشتہ رات مذاکرات ختم ہو گئے تھے
لال مسجد’ کمپلیٹ ٹیرارِزم ہے‘
آپریشن کی ٹی وی کوریج سے بچوں پر کیا اثر پڑا؟
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
لال مسجد طالب(فائل فوٹو)’وہ تو صحافی تھا‘
’میرا بیٹا نہ دہشتگرد تھا نہ سپریم کمانڈر‘
اسی بارے میں
8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے
10 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد