خواتین کا کردار میڈیا سے غائب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی جنگ نے لال مسجد کے اندر مرجانے والوں کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے اور اس معاملے میں خواتین کے کردار کی بھی کوریج نہیں ہوئی ہے۔ چھ ماہ پہلے جب جامعہ حفصہ کے قریب رہائش پذیر آنٹی شمیم کا اغواء عمل میں آیا تو جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان اور دیگر طالبات کو میڈیا میں کافی کوریج ملی تھی اور ان کے انٹرویوز پیش کیے گئے مگر شریعت کے نفاذ میں شامل اپنے آپ کو حق بجانب سمجھنے والی یہ طالبات اور ام حسان دس دن کی لڑائی میں دب سی گئیں۔ کیا اس ساری جنگ میں خواتین کو ایک مہرے کی طرح استعمال کیا گیا یا پھر واقعی طالبات میں خود سے شریعت نافذ کرنے کا جنون جاگا تھا؟ عورتوں اور میڈیا کے حوالے سے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم ’عکس‘ کی سربراہ تسنیم احمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو ایمرجنسی صورتحال میں کام کرنے کی کوئی تربیت حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ نے لال مسجد آپریشن سے متعلق اپنی کوریج میں خواتین کے کردار کو اجاگر نہیں کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ دنیا میں ہمیشہ ناگہانی آفات یا اس طرح کی صورتحال میں عورتوں کے بارے میں خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں 2005ء میں آنے والے زلزلے میں بھی صنفی لحاظ سے رپورٹنگ کا شعبہ کافی کمزور تھا اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والے آپریشن میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے۔ وہ خواتین جیسے ام حسان جو اس آپریشن سے پہلے معاشرے کی اصلاح کے لیے کیے جانے والے واقعات میں پیش پیش تھیں، آخر میں ان کی شخصیت کے بارے میں کوئی کہانی یا رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی، نہ ہی ان طالبات کے بارے میں لکھا یا دکھایا گیا کہ وہ کس خاندانی پس منظر یا معاشرتی حالات میں یہاں رہ رہی تھیں۔ سعدیہ ایک مقامی یونیورسٹی میں ایم بی اے کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کے واقعات نے حجاب اور برقعہ پہننے والی خواتین کا امیج بہت متاثر کیا ہے۔ سعدیہ نے میڈیا کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز جامعہ حفصہ کی برقعہ پوش خواتین کو ڈنڈے اٹھائے ہوئے دکھاتے رہے لیکن کسی بھی صحافی نے ان خواتین کے پس منظر کو جاننے اور عوام تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور ابھی بھی آپریشن کے اختتام پذیر ہو جانے کے باوجود یہ معلوم نہیں کہ کتنی طالبات ہلاک ہوئیں اور کتنی زخمی ہیں۔ یہ سب چھپایا گیا ہے یا کسی کی اس جانب توجہ ہی نہیں گئی۔ |
اسی بارے میں غازی کی تدفین روجھان میں متوقع11 July, 2007 | پاکستان 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے10 July, 2007 | پاکستان علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||