BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 July, 2007, 23:40 GMT 04:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد: ’حتمی آپریشن‘ جاری

ایمبیولنسز
لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی ایمبیولینسز لال مسجد کے علاقے پہنچیں

لال مسجد پر منگل کو سویرے شروع ہونے والا فوجی آپریشن جاری ہے۔

فوج کے مطابق کمانڈوز مسجد اور مدرسے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں انہیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔فوج کے مطابق بیس بچے مدرسے سے نکل کر باہر آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے اس وقت نکل سکے جب فائرنگ سروع ہونے پر مسلح افراد بھاگ کر دوسری منزل پر چلے گئے۔

ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اب تک ا س کارروائی میں سکیورٹی افواج کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق مسجد کے اندر موجود افراد میں سے کم سے کم دس ہلاک ہوئے ہیں۔

آپریشن شروع ہونے کے بعد مولانا عبد الرشید غازی نے دیگر ٹی وی چینلز سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ ان کی والدہ کو اس کارروائی کے دوران گولیاں لگی ہیں اور وہ موت کے قریب ہیں اور وہ خود بھی’شہادت کے قریب ہیں۔‘ گفتگو میں پیچھے سے فائرنگ کی آویزیں سنائی دیں اور لائن اچانک کٹ گئی۔

لال مسجد میں محصور نائب مہہتم عبدالرشید غازی کا یہ دعوی تھا کہ مذاکرات میں ان کو دھوکہ دیا جا رہا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ہر بات شفاف طریقے سے ہو’میں چاہتا تھا کہ ہر بات ٹرانسپیرنٹ ہو۔‘

ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے عبدالرشید غازی کا یہ کہنا تھا پاس ’صرف چودہ کلاشنیکوو‘ تھے لیکن ’ہمارے بعد یہ یہاں بہت کچھ رکھ دیں گے۔‘

’یہ حتمی آپریشن ہے‘
فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے صبح اس فوجی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ حتمی آپریشن ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہ مسجد میں سے تمام عسکریت پسندوں کو نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی علی الصبح چار بجے کے قریب شروع کی گئی۔

اس سے پہلے لال مسجد کے اندر محصور افراد سے حکومت کی طرف سے بات چیت کرنے والے حکمراں جماعت مسلم لیگ کے رہنما چودھری شجاعت حسین نے ان مذاکرات کی نا کامی کا اعلان کر دیا ہے اور فوج نے بتایا ہے کہ لال مسجد میں محصور افراد کے خلاف حتمی آپریش اب شروع ہو چکا ہے۔

اسلام آباد میں آج سویرے ایک مختصر اخباری کانفرنس میں چودھری شجاعت نے کہا کہ ان کو اس سلسلے میں شدید مایوسی ہوئی ہے اور یہ مذاکرات نا کام ہوئے ہیں۔

اخباری کانفرنس کے فوراً بعد لال مسجد سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔

ساتھ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے اعلان کر دیا کہ لال مسجد کے خلاف حتمی آپریشن کا اب آغاز ہو چکا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے دو ٹوک الفاظ میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کی تصدیق کی ہے۔

مولانا عبدالرشید غازی سے پیشکش
اس سے پہلے لال مسجد کے نائب خطیب کو پیشکش کی گئی تھی کہ وہ مسجد سے نکل کر باہر آئیں تو ان کو گھر جانے دیا جائے گا اور صرف گھر میں نظر بند رکھا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق بات چیت اس بات پر اڑ گئی کہ مولانا ان کے ساتھ مسجد کے اندر موجود مشتبہ عسکریت پسندوں کے لیے بھی باہر آنے کا محفوظ راستہ مانگ رہے تھے۔

پیر کے روز سپریم کورٹ کے حکم پر حکمراں جماعت مسلم لیگ کے رہنما چودھری شجاعت حسین اور وفاقی وزیر برائے مذھبی امور اعجاز الحق اور علماء کے ایک وفد نے پیر کو بات چیت شروع کی جو رات دیر تک جاری رہی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ لال مسجد کے قریب ایک گھر میں جاری مذاکرات میں حکومتی اہلکار اور وفاق المدارس کے نمائندوں کے علاوہ عسکری تنظیم حرکت المجاہدین کے مولانا فضل الرحمن خلیل بھی شامل ہیں۔

 اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ لال مسجد کے قریب ایک گھر میں جاری مذاکرات میں حکومتی اہلکار اور وفاق المدارس کے نمائندوں کے علاوہ عسکری تنظیم حرکت المجاہدین کے مولانا فضل الرحمن خلیل بھی شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن خلیل خوست میں مولانا عبد الرشید غازی کے عسکری تربیت کے استاد رہ چکے ہیں۔

اس تنظیم کے سالار اعلی مولانا فضل الرحمن خلیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ مسجد میں جا کر بات چیت کریں گے اور انہیں امید ہے کہ یہ معاملہ فجر سے پہلے نمٹا دیا جائے گا۔

تاہم اس سے پہلے حکام نے علماء کے وفد سمیت کسی کو مسجد کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن خلیل خوست میں مولانا عبد الرشید غازی کے عسکری تربیت کے استاد رہ چکے ہیں۔

دن بھر مذاکرات اور اعلانات
ا س سے پہلے آج سیشن جج نے لال مسجد کے باہر پہنچ کر لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرتے ہوئے اندر موجود افراد سے کہا تھا کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کردیں لیکن تاحال غازی عبدالرشید اور ان کے ساتھی مسجد سے باہر نہ آنے کے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔


اس سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ لال مسجد کی انتظامیہ سے چوہدری شجاعت حسین اور علماء کی ٹیم کے مذاکرات جاری ہیں تاہم وہ بات چیت کے لیے مسجد سے باہر آنے پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہ علماء مذاکرات میں شریک ہیں۔ابھی تک غازی عبدالرشید سے ہی رابطہ ہوا ہے اور انہی سے بات چیت ہورہی ہے۔

چوہدری شجاعت حسین نے بتایا تھا کہ انہوں نے اندر اپنا موبائل فون بھیجا تھا جو آدھ گھنٹے تک مصروف رہا جس کی بناء پر اس پر غازی عبدالرشید سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا ہے۔

جو وفد عبدالرشید سے بات چیت کر رہا تھا اس کے ہمراہ عبدالستار ایدھی اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی بھی تھیں۔غازی عبدالرشید نے مذاکراتی ٹیم کو میگا فون پر اپنا موبائل نمبر بتایا جس پر ان سے وفد میں شامل مفتی محمد نعیم اور بلقیس ایدھی کی بات ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق عبدالرشیدغازی نے وفد کو بات چیت کے لیے مسجد کے اندر آنے کا کہا جس پر علماء کے وفد نے مسجد کے باہر تعینات پاکستانی فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے حکام سے بات کی۔

تاہم ذرائع کے مطابق حکام نے انہیں اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اعجاز الحق نے میگا فون پر عبدالرشید غازی سے کہا کہ وہ مسجد سے پندرہ بیس گز کے فاصلے پر موجود سکول میں آجائیں یا پھر جامعہ حفصہ کی عمارت کے قریب واقع پل پر چلیں آئیں لیکن عبدالرشید غازی مسجد سے باہر آنے سے انکار کرتے رہے۔

غازی عبدالرشید کو بات چیت کے لئے باہر سے ایک موبائل فون بھی بھیجا گیا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے لال مسجد کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئےحکم دیا تھا کہ علما کے ایک سات رکنی وفد کا رابطہ پیر کو عبدالرشید غازی سے کرایا جائے۔

سپریم کورٹ کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ سرنڈر کی صورت میں لال مسجد میں موجود شدت پسندوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

تاہم عدالتِ عظمیٰ نے غازی عبدالرشید کے اس مطالبے کو کوئی حکم یا آبزرویشن نہیں دی تھی کہ انہیں لال مسجد سے نکلنے پر ’محفوظ راستہ‘ فراہم کیا جائے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کی بجائے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اس میں معصوم جانوں کی زندگی کا سوال ہے اس لیے اٹارنی جنرل ہی عدالت میں پیش ہوں۔عدالت نے حکم دیا تھا کہ اٹارنی جنرل کے علاوہ سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں پیش ہوں۔

سات رکنی وفد میں رائے بشیر، ڈاکٹر عادل، عبدالحمید، مفتی رفیع عثمانی، عبدالرشید، حنیف جالندھری اور مفتی محمد نعیمی شامل ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ حکومت سے ہدایات لیں کہ سرنڈر کی صورت میں نکلنے والوں کی حفاظت کی ضمانت کس طرح دی جا سکتی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ سرنڈر کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر سرنڈر کرنے والے چاہیں تو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے بھی اپنے آپ کو سرنڈر کر سکتے ہیں۔

قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس نے جسٹس نواز محمد عباسی کے ایک خط پر لال مسجد آپریشن کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے دو رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔

لال مسجد کے اطراف فوج اپنی پوزیشنوں پر موجود ہے

جسٹس محمد نواز عباسی نے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی طرف سے اس معاملے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لال مسجد میں معصوم بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف حکومتی آپریشن بھی جاری ہے اور معتدد لوگ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق بہت سی لاشیں بے گور کفن پڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک شدگان قانون نافذ کرنے والے اداروں یا جنگجوؤں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں اور ہر دونوں صورتوں میں یہ قتل عمد کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کے علاوہ کسی مذہبی، دینی، سماجی اور سیاسی تنظیم نے ان بے گناہ بچوں کو آزاد کرانے کی کوشش نہیں کی۔

جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل دو رکنی بینچ کی ابتدائی سماعت میں کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ اور وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ حکومت جلد از جلد اس صورتحال کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے اندر مشتبہ دہشتگرد موجود ہیں جو مختلف مقدمات میں حکومت کو مطلوب ہیں۔

بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ان دہشتگردوں نے طلباء کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اتوار کو بھی باہر نکلنے کی کوشش کرنے والی تین طالبات کو مدرسے کے اندر سے فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا۔ بریگیڈئر (ر) چیمہ نے یہ بھی دعٰوی کیا کہ لال مسجد کے احاطے میں محصور جامعہ حفصہ کی بارہ طالبات نے وہاں سے نکلنے کے لیے احتجاجاً بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔

آپریشن کے دوران لال مسجد کی فضا سے لی گئی تصویر

لال مسجد آپریشن کے آغاز سے اب تک اس لڑائی میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی سکیورٹی فوسرز اور لال مسجد میں محصور افراد کے درمیان ساڑھے بارہ سے ڈھائی بجے کے درمیان ہلکی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔

سکیورٹی اہلکاروں نے کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکروں پر لال مسجد کے اندر افراد سے ہتھیار ڈالنے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کو کہا۔ اطلاعات کے مطابق رات کو مسجد کے اوپر ایک چھوٹا طیارہ بھی محوِ پرواز رہا۔

اس سے قبل اتوار کو سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے کر سربمہر کر دیا اور وہاں موجود ان چند صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ پریس کلب اس علاقے میں واقع ہے جہاں کرفیو نافذ ہے۔

ادھر آبپارہ تھانے میں مولانا عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کمانڈو گروپ کے لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام سنیچر آپریشن ہلاک ہوگئے تھے۔

آپریشن کا چوتھا روز
جمعہ کی شام آپریشن پھر شروع ہو گیا
لال مسجدنفاذِ شریعت
لال مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کا متن
احتجاج فائل فوٹو برقعے نے ڈبو دیا
برقعہ میں فرار نے حامیوں کو مایوس کر دیا
طالبہ جامعہ حفصہ
’اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا‘
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
زخمیوں کا تانتا
لال مسجد کے گرد واقعات کا آنکھوں دیکھا حال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد