BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
علما کو مذاکرات کا موقع

چوہدری شجاعت حسین ان مذاکرات کی قیادت کریں گے جن میں علما کو بھی شریک کیا جائے گا

صدر جنرل پرویز مشرف نے علما کو لال مسجد کا مسئلہ حل کرنے کا ایک اور موقع فراہم کرتے ہوئے ان سے کہا کہ کہ وہ مسجد کے اندر موجود مسلح افراد کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں۔


یہ فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف کے زیرِ صدارت اسلام آباد میں لال مسجد کی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر اعظم شوکت عزیز اور وزیر داخلہ اور سکیورٹی سے وابستہ دیگر اعلیٰ ترین افسران نے شرکت کی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ان مذاکرات کی قیادت کریں گے جن میں علما کو بھی شریک کیا جائے گا۔

لال مسجد میں محصور افراد کے رشتہ دار مسجد کے باہر مودجودہ بحران کے پرامن حل کے لیے دعائیں کر رہے ہیں

ادھر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ایک وفد نے پیر کو وزیر اعظم شوکت عزیز سے تفصیلی ملاقات کی اور لال مسجد کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے مصالتی کوششوں کی پیشکش کی جس پر تنظیم کے سیکریٹری جنرل حنیف جالندھری کے بقول حکومت نے اتفاق کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حنیف جالندھری نے بتایا کہ ’ملاقات کافی تفصیلی کھلے ماحول میں ہوئی اور تمام آپشنز پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور اتفاق رائے سے طے پایا کہ وفاق المدارس اور علماء نے مصالحت کی جو کوششیں شروع کی ہیں ان کو آگے بڑھایا جائے اور اس مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ ’ہم لال مسجد کی انتظامیہ سے رابطہ کریں گے اور مولانا عبدالرشید غازی سے اس سلسلے میں بات چیت کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جتنے بھی آپشنز اس وقت زیر غور ہیں وہ حتمی اور قطعی اسی صورت میں بنیں گے جب فریقین کا ان پر اتفاق ہوگا اور وہ حکومت اور مولانا عبدالرشید غازی دونوں کے لئے قابل قبول ہوں گے‘۔

عبدالرشید غازی کہہ چکے ہیں کہ وہ صرف اسی صورت میں ہتھیار ڈالنے پر تیار ہوں گے اگر انہیں ’محفوظ راستہ‘ فراہم کیا جائے گا

حنیف جالندھری نے کہا کہ حکومت نے جن آپشنز پر ان سے اتفاق کیا ہے انہیں منظر عام پر لانا فی الوقت مناسب نہیں ہوگا اور اس سے مصالحت کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلے کا از خود نوٹس لے لیا ہے تو اب اس کا بھی انتظار ہے کہ عدالت کیا کارروائی کرتی ہے اور اس سے کیا صورتحال بنتی ہے۔

لال مسجد آپریشن کے آغاز سے اب تک لڑائی میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی سکیورٹی فوسرز اور لال مسجد میں محصور افراد کے درمیان ساڑھے بارہ سے ڈھائی بجے کے درمیان ہلکی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔

سکیورٹی اہلکاروں نے کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکروں پر لال مسجد کے اندر افراد سے ہتھیار ڈالنے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کو کہا۔ اطلاعات کے مطابق رات کو مسجد کے اوپر ایک چھوٹا طیارہ بھی محوِ پرواز رہا۔

اس سے قبل اتوار کو سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے کر سربمہر کر دیا تھا اور وہاں موجود ان چند صحافیوں کو چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ پریس کلب اس علاقے میں واقع ہے جہاں کرفیو نافذ ہے۔

ادھر آبپارہ تھانے میں مولانا عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کمانڈو گروپ کے لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام دورانِ آپریشن ہلاک ہوگئے تھے۔

آپریشن کا چوتھا روز
جمعہ کی شام آپریشن پھر شروع ہو گیا
لال مسجدنفاذِ شریعت
لال مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کا متن
احتجاج فائل فوٹو برقعے نے ڈبو دیا
برقعہ میں فرار نے حامیوں کو مایوس کر دیا
طالبہ جامعہ حفصہ
’اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا‘
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
زخمیوں کا تانتا
لال مسجد کے گرد واقعات کا آنکھوں دیکھا حال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد